انسانی کہانیاں عالمی تناظر

زیادتیوں کی روک تھام میں تحفظ کی ذمہ داری نبھانا اہم

وسطی افریقی جمہوریہ میں TANBAT 6 سے UN امن دستے بربراتی میں ایک کمیونٹی کو صاف پانی فراہم کر رہے ہیں۔
TANBAT6/Kapteni Mwijage تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے امن سپاہی وسطی جمہوریہ افریقہ میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر رہے ہیں۔

زیادتیوں کی روک تھام میں تحفظ کی ذمہ داری نبھانا اہم

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جنرل اسمبلی کو بتایا ہے کہ مظالم کی روک تھام کے لئے دنیا بھر میں جاری جنگوں میں پھنسے بے شمار شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری لینا پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

تحفظ کی ذمہ داری کے بارے میں خصوصی مشیر جارج اوکوٹ۔اوبو  نے اس مسئلے پر سیکرٹری جنرل کی تازہ ترین رپورٹ پیش کرتے وقت ان کی جانب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کا انحصار اس ذمہ داری کو نبھائے جانے پر ہے۔

Tweet URL

انہوں ںے کہا کہ یہ سالانہ مباحثہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم نے لوگوں کے تحفظ کے لئے اپنے عزم، اپنے فرض اور اپنی ذمہ داری سے انحراف نہیں کرنا۔ 

بڑے پیمانے پر مظالم کی روک تھام 

انہوں نے کہا کہ یہ مباحثہ اس بنیادی سیاسی اور اخلاقی عہد پر غور کرنے کا موقع ہے جو دنیا نے 18 سال پہلے یہ یقینی بنانے کے لئے کیا تھا کہ بڑے پیمانے پر مظالم انسانیت کو دوبارہ کبھی داغ دار نہیں کریں گے۔ 

2005 میں ہونے والی ایک عالمی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے اپنے عوام کو نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی صفائی اور انسانیت کے خلاف جرائم سے تحفظ دینے کے لئے اپنی ذمہ داری کی توثیق کی تھی۔ 

ایسا کرتے ہوئے انہوں نے 'آر 2 پی' تصور کے تحت اپنے کردار نبھانے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرنے اور ایسے واقعات میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی مطابقت سے اجتماعی اقدامات پر اتفاق کیا تھا جہاں ممالک خود ایسا کرنے کے قابل یا اس پر رضامند نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود آج بے شمار شہری ایسے تنازعات، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں نسل کشی، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسلی صفائی کی ذیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس طرح 'آر 2 پی' آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا 2005 میں تھا جب عالمی کانفرنس میں دنیا نے 'دوبارہ کبھی نہیں' کہا تھا۔ 

ترقی و تحفظ کا رشتہ 

سیکرٹری جنرل نے اپنی رپورٹ میں رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مظالم کی فوری نشاندہی، فوری انتباہ، روک تھام اور ان کے خلاف اقدامات کے لئے قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں اور ارتباط کو بہتر بنانے کے اقدامات کریں اور معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے بہتر نظام وضع کریں تاکہ ایسے اہم خدشات کی نشاندہی ہو سکے جو محرومی یا اخراج کے سماجی و معاشی سانچوں کا حصہ ہیں۔ 

جارج اوکوٹ۔اوبو نے کہا کہ یہ رپورٹ ترقی کے ساتھ 'آر 2 پی' کے تعلق کو بھی دریافت کرتی ہے۔

 ان کا کہنا تھا، جیسا کہ کئی مرتبہ واضح کیا گیا ہے، مظالم کی روک تھام 'آر 2 پی' کی بنیاد ہے۔ اسی دوران اس مقصد کے لئے موثر طریقہ ہائے کار کی تیاری اور ان پر عمل کرنے کے لئے ظالمانہ جرائم کی بنیادی وجوہات، ان سے لاحق خدشات، انہیں شروع کرنے اور پھیلانے والے عوامل سے موزوں طور پر آگاہی ہونا ضروری ہے۔

پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے بنیادی مقاصد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ترقی میں پائیدار امن، مساوی ترقی اور جوابدہ حکمرانی کے لئے سازگار حالات پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور اس طرح 'آر 2 پی' کے بنیادی مقاصد اور اہداف کے حصول کے امکانات مضبوط ہو جاتے ہیں۔ 

ظالمانہ جرائم کے خلاف عملی اقدامات

اسی طرح، انہوں ںے کہا کہ ظالمانہ جرائم کے خدشات، محرکات اور انہیں پھیلانے والے عوامل میں عدم ترقی، غربت، سماجی نابرابری، تنازعات، غذائی عدم تحفظ، سماجی استحکام پر اثرانداز ہونے والے دباؤ، حکمرانی، ادارہ جاتی ناکامی، احتساب کا فقدان، امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی پامالی خاص طور پر نمایاں ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ رپورٹ میں ممالک سے خاص طور پر کہا گیا ہے کہ وہ 'آر 2 پی' اور پائیدار ترقی کے مابین تعلق کا جامع طور سے ادارک کریں، اسے قبول کریں اور سیاسی طور پر اس کی حمایت کریں۔ 

رپورٹ میں ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مظالم سے لاحق خطرات کی تشخیص کے مجموعی تناظر میں متعلقہ پالیسیوں، حکمت عملی اور پروگراموں سے کام لیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ بہت سے مسائل کا مقابلہ کرتے رکن ممالک سے اس بارے میں عملی منصوبوں کی بابت سننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اس عمل میں سول سوسائٹی، مذہبی برادریوں، روایتی رہنماؤں، اقلیتی گروہوں اور میڈیا کی شمولیت کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔