فلسطین: مغربی پٹی میں جاری تشدد بے قابو ہونے کا خطرہ، ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کے مغربی کنارے میں یہ ہفتہ خاص طور پر مہلک رہا اور اس دوران ہونے والے تشدد کے بے قابو ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے یہ بات علاقے میں اسرائیلی طیاروں اور ڈرون حملوں میں شدت آنے کے بعد کہی ہے۔
ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور تشدد کے تازہ ترین واقعات اور اشتعال انگیز بیانات سے اسرائیلی اور فلسطینی مزید نقصان اٹھائیں گے۔ انہوں خونریزی فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو کشیدگی کے خوفناک نتائج کی بابت خبردار کیا۔
وولکر تُرک کا یہ بیان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی جانب سے جاری کردہ بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد کے تمام واقعات کی مذمت کی اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
پناہ گزین کیمپ کے متاثرین
سوموار کو مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں واقع جینن پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فوج کے حملے اور اس دوران ایک نوعمر لڑکے اور لڑکی سمیت سات افراد کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کہا کہ عام طور پر فضائی حملے نفاذ قانون کی کارروائی کے بجائے مسلح جنگوں کے دوران کئے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 2000 کے اوائل کے بعد پہلی مرتبہ اس علاقے میں اسرائیل نے گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی۔ یہ اقدام زمین پر طویل مسلح لڑائی کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کو نکالنے کے لئے کیا گیا۔
وولکر تُرک نے کہا کہ بدھ کی شام جینن کے قریب اسرائیلی فوج کے ایک ڈرون حملے سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئیں جس میں فلسطین سے تعلق رکھنے والے تین مبینہ جنگجو ہلاک ہو گئے۔
ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ اسرائیل زندگی کے حق کے تحفظ اور احترام سمیت انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کی مطابقت سے مغربی کنارے میں اپنی پالیسیوں اور اقدامات پر فوری نظرثانی کرے۔
جینن کیمپ پر حملے کے بعد ان کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ان کے لئے یہ بات ہولناک ہے کہ بعض فلسطینیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے ایلی کے قریب دو مسلح فلسطینیوں کے ہاتھوں چار اسرائیلی آباد کاروں کی ہلاکت کا جشن منایا۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں میں ایک 17 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔
مسلسل تشدد
'او ایچ سی ایچ آر' کے ترجمان جیریمی لارنس نے ممکنہ طور پر بے قابو ہوتی صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق متعدد فلسطینی آبادیوں میں لوگوں کو اسرائیلی آباد کاروں کی نے حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعات اسرائیلی آبادکاروں کی فلسطینیوں کے مابین جھڑپوں کے دوران پیش آئے اور اس موقع پر آباد کاروں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی مدد بھی حاصل تھی۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) کے مطابق اس سال اب تک اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں کم از کم 126 فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔ ان میں 21 نوعمر لڑکے اور ایک لڑکی بھی شامل ہے۔
گزشتہ برس اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں 155 فلسطینیوں کو ہلاک کیا تھا جو کہ 17 برس میں سب سے بڑی تعداد تھی۔
ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جاری ہونے والی معلومات کے مطابق گزشتہ برس اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں 24 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ یہ 2016 کے بعد کسی برس ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
وولکر تُرک نے کہا کہ اس تشدد کا خاتمہ کرنے کے لئے قبضہ ختم ہونا ضروری ہے۔ ہر جانب سیاسی اختیار کے حامل لوگ یہ بات بخوبی جانتے ہیں اور انہیں اسے عملی جامہ پہنانے کی ترغیب دینی چاہئیے۔