انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: یو این اداروں کی زرعی رقبہ بحال کرنے کی مشترکہ کوششیں

یوکرین میں زرعی زمین بارودی سرنگوں اور دوسرے دھماکہ خیز مواد کی سے اٹی پڑی ہیں۔
© FAO/Viacheslav Ratynskyi
یوکرین میں زرعی زمین بارودی سرنگوں اور دوسرے دھماکہ خیز مواد کی سے اٹی پڑی ہیں۔

یوکرین: یو این اداروں کی زرعی رقبہ بحال کرنے کی مشترکہ کوششیں

امن اور سلامتی

یوکرین کے بری طرح تباہ ہونے والے زرعی شعبے کو اقوام متحدہ کے دو اداروں کی جانب سے مدد فراہم کی جائے گی جو بارودی سرنگوں کی صفائی کرنے والے سوئزرلینڈ کے ایک ادارے کے اشتراک سے زرعی اراضی کو محفوظ اور دوبارہ کارآمد بنائیں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) اور عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے جنگ سے بری طرح متاثرہ چھوٹے کسانوں اور دیہی خاندانوں کے لئے ایک نیا مشترکہ پروگرام شروع کیا ہے۔ 

اس پروگرام کا مقصد جنگ سے متاثرہ زرعی اراضی کو بارودی سرنگوں اور دیگر اَن پھٹے گولہ بارود سے پاک کرنا اور اسے محفوظ طور سے دوبارہ کاشت کاری کے قابل بنانا ہے۔ 

دونوں ادارے جنیوا سے تعلق رکھنے والے غیرسرکاری ادارے Fondation Suisse de Deminage (ایف ایس ڈی) کے اشتراک سے کام کریں گے جس کا بنیادی کام بارودی سرنگوں کی صفائی ہے۔ 

دیہی روزگار کا تحفظ 

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے فروری میں شائع ہونے والے 'نقصان اور ضروریات کے فوری تخمینے' کے مطابق 2022 میں بڑے پیمانے پر حملہ شروع ہونے کے بعد یوکرین میں اناج اور تیل کے بیج کی پیداوار میں 37 فیصد تک کمی آئی ہے۔ 

ایف اے او نے جن چھوٹے کاشت کاروں سے بات کی ان میں سے تقریباً 90 فیصد نے بتایا کہ جنگ کے باعث ان کی آمدنی کم ہو گئی ہے اور ایک چوتھائی کا کہنا تھا کہ انہوں ںے کاشت کاری روک دی ہے یا اس میں نمایاں کمی لے آئے ہیں۔ یہ مشترکہ اقدام اس شعبے کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھانے میں مدد دے گا۔ 

یہ پروگرام خارکیئو میں پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے اور اب اسے یوکرین کے علاقوں میکولائیوو اور کیرسون تک وسعت دی جائے گی۔ اس سلسلے میں ایسے کسانوں کو خاص طور پر مدد فراہم کی جانا ہے جن کی اراضی 300 ہیکٹر سے کم ہے۔ اس کے علاوہ ایسے دیہی خاندان بھی اس پروگرام کا خاص ہدف ہوں گے جو اپنی گھریلو ضرورت کے لئے خوراک اگاتے ہیں۔ 

یوکرین میں ایف اے او کے سربراہ پیئر واتھیئر نے کہا ہے کہ محاذ جنگ سے قریبی علاقوں میں بہت سے خاندان اور چھوٹے کسان اس موسم میں بوائی نہیں کر رہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے کھیت خطرناک ہیں یا وہ بارودی سرنگوں سے اٹی زمین یا آلودہ مٹی میں فصل کاشت کرنے کی صورت میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالیں گے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ زمین کی صفائی کے بعد لوگوں کے لیے دوبارہ کھیتی باڑی کرنا ممکن ہو جائے گا اور ملکی و غیرملکی مںڈیوں میں پیداوار بھی بڑھ جائے گی۔ 

قدم بہ قدم 

ایف اے او، ڈبلیو ایف پی اور ایف ایس ڈی کے ماہرین سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر کے ذریعے ایسے علاقوں کی نشاندہی اور ان کی نقشہ کشی کریں گے جنہیں بارودی سرنگوں سے پاک کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد بارودی مواد کی صفائی کرنے والی ٹیمیں علاقے کا جائزہ لیں گی اور زمین کو صاف کریں گی۔ اس سلسلے میں ایسے کھیتوں کو ترجیح دی جائے گی جنہیں فوری طور پر محفوظ بنایا جا سکتا ہو۔ پھٹنے والے گولہ بارود سے پیدا ہونے والی آلودگی کا تخمینہ لگانے کے لئے مٹی کی جانچ بھی کی جائے گی۔ 

اسی دوران ایف اے او اور ڈبلیو ایف پی چھوٹے کسانوں اور دیہی خاندانوں کا جائزہ لے کر زرعی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے ان کی ضروریات کا تعین کریں گے اور انہیں براہ راست مدد یا جہاں ممکن ہوا نقد امداد فراہم کریں گے۔ 

اس سلسلے میں یہ ادارے مقامی آبادیوں اور حکام کے علاوہ یوکرین کی وزارت خوراک کے ساتھ شراکت میں بھی کام کریں گے۔ 

دور اندیشی

اس منصوبے کے لئے 100 ملین ڈالر کے مالی وسائل رکھے گئے ہیں جن میں سے تاحال 90 ملین ڈالر کا انتظام ہی ہو پایا ہے۔ 

اداروں کا کہنا ہے کہ کامیابی سے عملدرآمد کی صورت میں اس اقدام کا نتیجہ دیہی آبادیوں کو براہ راست غذائی امداد کی مد میں سالانہ 60 ملین ڈالر تک کی بچت میں مدد دے گا۔ 

اس اقدام کو یوکرین کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی فنڈ اور نجی شعبے کے عطیہ دہندگان کی مدد موصول ہو چکی ہے۔