عالمی مالیاتی نظام کو منصفانہ بنانے کی فوری ضرورت: گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک بھاری قرضوں اور ان کے حصول کی گراں قیمتوں تلے دبے جا رہے ہیں اور یہ صورتحال انہیں اپنی معیشتوں کی بحالی سے روک دیتی ہے۔
انتونیو گوتیرش نے پیرس مالیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افریقہ کے بہت سے ممالک انتہائی ضروری طبی نگہداشت پر خرچ کی جانے والی رقم سے کہیں زیادہ مالی وسائل قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کر رہے ہیں اور 50 سے زیادہ ممالک یا تو دیوالیہ ہو چکے ہیں یا اس سے خطرناک طور پر قریب آ چکے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے قرضوں میں سہولت کے ایسے طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا جس سے ادائیگیوں کی معطلی، قرض کی طویل مدت میں واپسی اور قرض کے حصول کی قیمتوں میں کمی لانے اور اس طرح قرض کو غریب ممالک کے لئے زیادہ قابل استطاعت بنانے میں مدد ملے۔ انہوں نے ایسے طریقوں کی بات کی جن سے ترقی پذیر ممالک کو عالمی مالیاتی فنڈ سے حصولِ قرض کے خصوصی حقوق کے ذریعے سرمایے تک مزید رسائی حاصل ہو سکے۔
انہوں نے معدنی ایندھن کی صنعت کو دی جانے والی امدادی قیمتوں کو ختم کرنے اور بدحال ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اختیار کرنے میں معاونت کی فراہمی کے لئے مالی وسائل بڑھانے کے اپنے فوری مطالبے کو بھی دہرایا۔
غربت اور بھوک پر قابو پانے کے اقدامات
انہوں نے کہا کہ بیک وقت یہ دونوں اقدامات اٹھانے سے غربت اور بھوک پر قابو پانے، ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ترقی دینے اور صحت، تعلیم اور موسمیاتی اقدامات پر سرمایہ کاری میں مدد ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عالمگیر انصاف قائم کرنے کے لئے بہت بڑا قدم ہوں گے۔
انہوں نے کانفرنس کے شرکا کو ایک نیا عالمگیر مالیاتی معاہدہ کرنے کے لئے کہتے ہوئے خبردار کیا کہ ہمارے پاس کچھ نہ کرنے کا آپشن نہیں ہے اور پائیدار ترقی کے 17 اہداف کے حصول کی جانب نصف وقت گزارنے کے بعد یہ روزانہ ہماری رسائی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد بنایا جانے والا بین الاقوامی مالیاتی نظام ترقی پذیر ممالک کے لئے عالمگیر تحفظ فراہم کرنے کے اپنے مقصد میں ناکام ہو گیا ہے۔ ’چند تبدیلیوں کے ساتھ بھی بنیادی طور پر یہ نظام اُس وقت کی سیاسی اور معاشی طاقت کی حرکیات کا عکاس ہے جب آج کے تین چوتھائی ممالک بریٹن ووڈز مذاکرات میں شریک نہیں تھے۔‘
متروک، غیرفعال اور غیرمنصفانہ
انہوں نے کہا کہ قریباً 80 سال کے بعد اب عالمگیر مالیاتی نظام متروک، غیرفعال اور غیرمنصفانہ صورت اختیار کر گیا ہے، اور اب اس میں 21ویں صدی کی دنیا کی ضروریات پوری کرنے کی اہلیت نہیں رہی۔ ’یہ ملٹی پولر دنیا ہے جس میں معیشتیں اور مالیاتی منڈیاں ایک دوسرے سے پوری طرح مربوط ہیں۔ اس کے ساتھ یہ دنیا ارضی سیاسی کشیدگیوں اور بڑھتے ہوئے منظم خدشات سے بھی عبارت ہے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ عالمگیر مالیاتی نظام نے دنیا میں پائی جانے والی عدم مساوات کو مزید بڑھا دیا ہے اور غریب ترین ممالک کے لئے قرض کا حصول مشکل بنا دیا ہے جس کی انہیں ضرورت ہے اور جس کے وہ حق دار ہیں۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ حالیہ مالیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے یورپی شہریوں نے قرض کے حصول کے خصوصی حقوق سے متعلق موجودہ قوانین کے تحت افریقہ کے شہریوں کے مقابلے میں قریباً 13 گنا زیادہ وصول کیا ہے جو کہ انتہائی غیراخلاقی صورتحال ہے۔ ’ایسا مالیاتی نظام جو موجودہ دنیا کی نمائندگی نہیں کرتا وہ ایسی دنیا میں اپنی ہی ٹوٹ پھوٹ کا خطرے کو دعوت دیتا ہے جہاں ارضی سیاست بذات خود تقسیم کا ایک عنصر ہے۔‘
اصلاحات کے بغیر کوئی حل نہیں
انہوں نے کہا کہ اس بحران کا دور رس اصلاحات کے بغیر کوئی حل نہیں ہے اور یہ کہ تبدیلی تیزرفتار سے نہیں آئے گی کیونکہ یہ اختیار اور سیاسی ارادے کا معاملہ ہے۔ ’لیکن ہم اس معاملے میں درکار بھرپور اصلاحات کے لئے کام کرتے ہوئے آج ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی ہنگامی ضروریات کی تکمیل کی غرض سے فوری قدم اٹھا سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ امیر ممالک قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کا ایک واقعتاً موثر اور تیز رفتار نظام قائم کر سکتے ہیں جس سے قرض دار ممالک کو ادائیگیاں معطل کرنے کی سہولت میسر آئے اور انہیں طویل مدتی شرائط اور کم قیمت پر قرضہ مل سکے، جن میں مخصوص مسائل کے حامل متوسط آمدنی والے ممالک بھی شامل ہیں جنہیں موسمیاتی تبدیلی جیسے مسئلے سے نمٹنے کے لئے قرض درکار ہو سکتا ہے۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کے لئے بہتر طور سے سرمایہ مہیا کیا جا سکتا ہے اور ترقیاتی بینکوں میں اصلاحات لا کر انہیں بہتر اشتراک کے قابل بنانا بھی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ جاری کرنے والے ادارے انتہائی متعصب ہو چکے ہیں اور یہ بہت سے حالیہ مالیاتی بحرانوں سے بچنے میں مدد دینےکے بجائے انہیں بڑھانے کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر اصلاحات کے لئے فوری اقدامات اٹھانے سے بھوک کا خاتمہ ہو سکتا ہے، ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور صحت، تعلیم اور موسمیاتی اقدامات پر سرمایہ کاری میں مدد مل سکتی ہے۔ ’ہم اِسی وقت یہ اقدامات کر سکتے ہیں اور اس طرح عالمگیر انصاف کی جانب بڑا قدم بڑھانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔‘
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ اس وقت عالمی برادری کو درپیش مسائل کے حجم سے آگاہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طاقت کی حرکیات اور آج کی دنیا میں عالمگیر تعاون کی راہ میں درپیش رکاوٹیں مسائل کے حل کو اور بھی مشکل بنا رہی ہیں۔ تاہم ان کا حل ناممکن نہیں ہے اور ہم اس سمت میں فوری طور پر آغاز کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں دو روزہ بات چیت کے بعد لاکھوں ضرورت مند لوگوں کے لئے مثبت نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کانفرنس کے شرکا سے کہا کہ وہ ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس اجلاس کو شکایت یا احتجاج کے بجائے حوصلہ افزائی کا موقع بنائیں اور فوری اقدامات کے لئے مشترکہ آواز بلند کریں۔ ’یہ سچائی اور حساب کتاب کا موقع ہے۔ باہم مل کر ہم اسے امید کا موقع بنا سکتے ہیں۔‘