انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران میں بڑی تعداد میں سزائے موت و گرفتاریاں: انسانی حقوق رپورٹ

''پاکبازی اور حجاب'' کے قوانین پر عمل نہ کرنے والی طالبات کو تعلیمی خدمات مہیا نہیں کی جائیں گی۔
Unsplash/Amir Hosseini
''پاکبازی اور حجاب'' کے قوانین پر عمل نہ کرنے والی طالبات کو تعلیمی خدمات مہیا نہیں کی جائیں گی۔

ایران میں بڑی تعداد میں سزائے موت و گرفتاریاں: انسانی حقوق رپورٹ

انسانی حقوق

ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ 2022 میں ریکارڈ تعداد میں سزائے موت دیے جانے، ہزاروں بچوں کی گرفتاریوں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد اور بدسلوکی کے بہت سے الزامات کی ہیبت ناک عکاسی کرتی ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کی نائب سربراہ نادہ ال نشیف نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں متواتر بگڑتے سماجی معاشی حالات کے پس منظر میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال واضح طور پر مزید خراب ہوئی ہے۔ یہ حالات ملک پر معاشی پابندیوں اور کووڈ۔19 وبا کے دور رس اثرات کے باعث مزید ابتری کا شکار ہیں۔

Tweet URL

رپورٹ میں خاص طور پر گزشتہ برس 16 ستمبر کو 22 سالہ مہاسا امینی کی موت کے بعد ملک بھر میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد ہونے والی پیش ہائے رفت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ مہاسا امینی ایران کی نام نہاد اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد تین روز تک بیہوش رہنے کےبعد انتقال کر گئی تھیں۔ 

ہزاروں افراد کو سزائے موت 

رپورٹ میں اس عرصہ کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کو سزائے موت سنائے جانے اور اس پر عمل کئے جانے پر سنگین تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ 

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) کی نائب ہائی کمشنر نے بتایا کہ 2022 میں 582 لوگوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔ 

2021 کے مقابلے میں یہ 75 گنا بڑی تعداد ہے جب اطلاعات کے مطابق 333 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا تھا۔ 2022 میں جن لوگوں کی سزائے موت پر عملدرآمد ہوا ان میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ ان سزاؤں میں 256 منشیات سے متعلق جرائم پر دئ گئیں۔ 

نادہ ال نشیف نے بتایا کہ یہ 2017 کے بعد ملک میں منشیات سے متعلقہ موت کی سزاؤں کی بلند ترین شرح ہے۔ 

44 بچوں کی ہلاکت 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کئے جانے والے افراد کی تعداد تقریباً 20,000 ہے۔ 

اندازہ ہے کہ احتجاج کے دوران گرفتار کئے جانے والے لوگوں میں ہزاروں کی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مہلک طاقت کا استعمال کرتے ہوئے 10 نوعمر لڑکیوں سمیت کم از کم 44 بچوں کو ہلاک کیا۔ 

سب سے زیادہ اموات کی اطلاع صوبہ سیستان اور بلوچستان سے موصول ہوئی جہاں کم از کم 10 بچے ہلاک ہوئے۔ 

ال نشیف کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں اور تفتیشی عمل کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے قیدیوں پر تشدد اور بدسلوکی کے بہت سے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ایسے اقدامات کا مقصد لوگوں سے جرائم کا جبری اعتراف کرانا ہے۔ اس کے علاوہ خاص طور پر دوران قید خواتین، مردوں اور بچوں کے ساتھ جنسی اور صںفی بنیاد پر تشدد کے ارتکاب کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے علی بحرینی نے اس رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔