انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یو این ایلچی اسرائیل فلسطین میں جاری تصادم کے سلسلے پر پریشان

مغربی کنارے واقع فلسطینی مہاجرین کا جنین کیمپ۔
© UNRWA/Dominiek Benoot
مغربی کنارے واقع فلسطینی مہاجرین کا جنین کیمپ۔

یو این ایلچی اسرائیل فلسطین میں جاری تصادم کے سلسلے پر پریشان

امن اور سلامتی

مشرق وسطیٰ کے لئے اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا ہے کہ انہیں اسرائیل اور فلسطین میں جاری تشدد پر گہری تشویش ہے اور اس دوران عام شہریوں کا متواتر جاری نقصان ان کے لئے پریشان کن ہے۔

مشرق وسطیٰ امن عمل کے لئے خصوصی رابطہ کار ٹور وینزلینڈ نے یہ بات مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی آبادی کے باہر سڑک پر واقع پٹرول سٹیشن پر دو مسلح فلسطینیوں کی فائرنگ سے متعلق خبر کے بارے میں ٹویٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہی۔

Tweet URL

اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ایک مسلح شہری نے ایک حملہ آور کو موقع پر ہلاک کر دیا جبکہ دوسرے کی ہلاکت اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہوئی۔ 

اقوام متحدہ کے نمائندے نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے پرہیز کریں جن سے علاقے میں پہلے سے ہی نازک صورتحال کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ہو۔

جینن کیمپ پر حملہ 

تشدد کے یہ واقعات سوموار کو ہونے والی خونریزی کے بعد پیش آئے جب اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے جینن کے مہاجر کیمپ کے باہر ایک کارروائی کے دوران کم از کم پانچ فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد وینزلینڈ نے بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی کارروائی اور مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر میں فلسطینی جنگجوؤں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں ایک بچے سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ 

اطلاعات کے مطابق واقعے میں متعدد فلسطینی اور سات اسرائیلی سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ 

'سیاسی راہ' پر واپسی 

انہوں نے کہا کہ ایسی کشیدگی سے خدشہ ہے کہ فلسطین اور اسرائیل ایک مہلک بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ تمام فریقین ایسے اقدامات سے پرہیز کریں جن سے کشیدگی میں اضافے کا خطرہ ہو اور سیاسی راہ پر واپسی کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ 

اطلاعات کے مطابق سوموار کو صبح سویرے اسرائیلی فورسز کیمپ میں داخل ہو گئیں۔ اس موقع پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے جنگجوؤں کی جانب سے فوجی دستوں کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنائے جانے کے جواب میں ان پر میزائل برسائے۔

ہیلی کاپٹر نے اس وقت فائرنگ کی جب اسرائلی فورسز اپنے فوجیوں اور پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ 

فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے اسرائیلیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی اطلاعات ہیں اور ایسے میں اسرائیل نے کئی ماہ سے مغربی کنارے میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے جہاں تلاشی، گرفتاریوں اور گھروں کی مسماری کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 

آباد کاری منصوبے پر تشویش 

سوموار کی رات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاری کی منصوبہ بندی کے طریقہ ہائے کار میں ترمیم کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ 

انہوں نے اس منصوبے پر ٹور وینزلینڈ کی جانب سے ظاہر کئے گئے خدشات کو دہرایا جن کے مطابق 1996 سے چلی آ رہی پالیسیوں کو تبدیل کرتے ہوئے متوقع طور پر اسرائیلیوں کی غیرقانونی آباد کاری کی رفتار تیز کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ انہیں آئندہ ہفتے اسرائیلی حکومت کی جانب سے مقبوضہ علاقے میں 4000 نئے گھر بنانے کے ممکنہ اعلان پر بھی شدید خدشات ہیں۔ 

اپنے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ یہ آباد کاری بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

غزہ کا ایک فلسطینی خاندان جس کا گھر اسرائیلی بمباری میں تباہ ہو گیا ہے۔
WFP/ Ali Jadallah
غزہ کا ایک فلسطینی خاندان جس کا گھر اسرائیلی بمباری میں تباہ ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادیاں اس مسئلے کے قابل عمل دو ریاستی حل اور منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کو ممکن بنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان غیرقانونی آبادیوں کو وسعت دینا تناؤ اور تشدد کا نمایاں محرک ہے اور اس سے امدادی ضروریات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدام سے فلسطینی زمین اور قدرتی وسائل پر اسرائیل کا قبضہ مزید مضبوط ہو جائے گا۔ 

اس سے مقامی آبادی کی آزادانہ نقل و حرکت میں بھی مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور خوداختیاری و خودمختاری کے لئے فلسطینیوں کا حق کمزور پڑ جائے گا۔ 

سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کی حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے فیصلوں کو روکے اور واپس لے، مقبوضہ فلسطینی علاقے میں آباد کاری کی تمام سرگرمیوں کو فوری اور مکمل طور سے بند کرے اور اس حوالے سے تمام قانونی ذمہ داریوں کا پورہ طرض پاس کرے۔ 

انہوں نے بڑھتے ہوئے تشدد کا خاتمہ کرنے کے لئے مزید ٹھوس اقدامات کرنے کے لئے بھی کہا جن پر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین حالیہ مہینوں میں عقبہ، اردن اور شرم الشیخ میں طے پانے والے مشترکہ اعلامیوں کی صورت میں اتفاق ہوا تھا۔