پناہ گزینوں کا دن: اقوام متحدہ کی طرف سے یکجہتی و تعاون کی اپیل
پناہ گزینوں کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ان کی مدد اور تحفظ کے لئے عالمی برادری کو اس کا کردار یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ پناہ گزین تعاون اور یکجہتی کے حق دار ہیں، ان کے لئے سرحدیں بند کرنی چاہئیں اور نہ ہی انہیں واپس دھکیلا جانا چاہیے۔
دنیا بھر میں نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کی تعداد 110 ملین کی ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی ہے۔ ایسے میں سیکرٹری جنرل نے پناہ گزینوں کی نوآبادی کاری کے لئے مزید طریقے ڈھونڈنے اور انہیں اپنی زندگیوں کی تعمیر نو میں مدد دینے کے لئے کہا ہے۔ انہوں نے پناہ گزینوں کے میزبان ممالک اور لوگوں کے ساتھ یکجہتی کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
'گھر سے دور امید'
انتونیو گوتیرش نے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ یہ محض اعدادوشمار نہیں ہیں بلکہ یہ ایسی خواتین، مرد اور بچے ہیں جنہیں بہت مشکل سفر کرنا پڑتا ہے اور عام طور پر یہ لوگ اس دوران تشدد، استحصال، تفریق اور بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ دن ہمیں پناہ گزینوں کے تحفظ اور ان کی مدد کا فریضہ اور ان کے ساتھ تعاون کی مزید راہیں کھولنے کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔
امسال اس دن کا موضوع "گھر سے دور امید" ہے۔ انتونیو گوتیرش ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' کی قیادت کر چکے ہیں اور انہوں نے عالمی برداری سے کہا ہے کہ وہ اس امید سے کام لے جسے پناہ گزین اپنے دلوں میں جگائے ہوئے ہیں۔
'پناہ گزینوں کو ساتھ رکھیں'
کینیا میں وسیع و عریض کاکوما مہاجر کیمپ کے دورے پر موجود 'یو این ایچ سی آر' کے موجودہ سربراہ فلیپو گرانڈی نے اس دن پر کہا ہے کہ دنیا کو چاہیے کہ وہ پناہ گزینوں کے لئے سرمایہ کاری کو بڑھائے اور اپنے معاشروں میں سکولوں، کام کی جگہوں، طبی نگہداشت کے نظام اور ہر جگہ ہر سطح پر انہیں اپنے ساتھ لے کر چلنے کا عہد کرے۔
فلیپو گرانڈی نے ایک ٹویٹ میں اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس سال پناہ گزینوں کا عالمی دن ایسے موقع پر آیا ہے جب نصف ملین سے زیادہ لوگ سوڈان سے نقل مکانی کر کے ہمسایہ ممالک میں چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس ہجرت کو روکنا چاہتے ہیں تو جنگ بند کرنا ہو گی۔
بھوک کا شکار
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت 'آئی او ایم' نے ایک بیان میں جنگ زدہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی قوت اور مضبوطی کو سراہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2001 سے اب تک ادارے کی ٹیموں نے ایک ملین سے زیادہ پناہ گزینوں کے لئے سمت بندی سے متعلق تربیت فراہم کی ہے۔
اس میں تقریباً 700,000 پناہ گزینوں کی نوآباد کاری بھی شامل ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک کی سربراہ سنڈی مکین نے ٹویٹ کیا ہے کہ تنازعات اور موسمیاتی دھچکے مزید لوگوں کو بھوک اور بے گھری کا شکار کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایف پی 'یو این ایچ سی آر' جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل کر 40 سے زیادہ ممالک میں لاکھوں پناہ گزینوں کو ضروری مدد مہیا کر رہا ہے۔ آج اور ہر روز یہ پناہ گزین ہماری متواتر مدد کے حق دار ہیں۔