انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خشک سالی و بنجرپن سے خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں

خشک سالی سے متاثرہ کینیا کے شمالی حصے میں پانی کے حصول کے لیے خواتین کو دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
© WFP/Alessandro Abbonizio
خشک سالی سے متاثرہ کینیا کے شمالی حصے میں پانی کے حصول کے لیے خواتین کو دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

خشک سالی و بنجرپن سے خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں

موسم اور ماحول

بنجرپن اور خشک سالی کے خلاف 17 جون کو منائے جانے والے عالمی دن سے متعلق کینیا سے ویت نام تک ہونے والی تقریبات میں خواتین کے زمینی ملکیتی حقوق کی جانب توجہ دلائی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا بھی یہی موضوع تھا۔

اس اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ زمین کی ملکیت کے مساوی حقوق کی بدولت ناصرف اراضی کو تحفظ ملتا ہے بلکہ صنفی مساوات کو بھی فروغ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے تمام حکومتوں پر زور دیا کہ وہ خواتین کے زمین کی ملکیت حاصل کرنے کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹوں کا خاتمہ کریں اور خواتین کو پالیسی سازی کے عمل میں شامل کریں۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اپنی بقا کے لئے ہمارا انحصار زمین پر ہے لیکن اس کے باوجود ہم اس سے برا سلوک کرتے ہیں۔ انہوں نے زمینی تحفظ کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ 

دنیا بھر میں زرعی شعبے کی افرادی قوت میں تقریباً نصف تعداد خواتین کی ہے لیکن اس کے باوجود زمینی ٹھیکے کی مدت، قرضے تک رسائی، مساوی اجرت اور فیصلہ سازی سے متعلق امتیازی طریقہ ہائے کار زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھنے کے عمل میں ان کی فعال شرکت میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔

زمینی بنجرپن پر قابو پانے کے لئے اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی سی سی ڈی) کے مطابق آج دنیا بھر میں زرعی اراضی کی ملکیت رکھنے والے ہر پانچ افراد میں خواتین کی تعداد ایک سے بھی کم ہے۔ 

خواتین کے اختیارات کم

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فطری طریقے سے زمین کی بحالی میں جتنا وقت درکار ہوتا ہے، ناپائیدار طریقہ ہائے زراعت اس سے 100 گنا زیادہ تیز رفتار سے زرعی اراضی کو بنجر کر رہے ہیں اور اس وقت کرہ ارض کی 40 فیصد تک زمین انحطاط کا شکار ہے جس سے خوراک کی پیداوار کو نقصان پہنچ رہا ہے، حیاتیاتی تنوع خطرے سے دوچار ہے اور موسمیاتی بحران مزید پیچیدہ صورت اختیار کر رہا ہے۔ 

انہوں ںے کہا کہ اس صورتحال میں خواتین اور لڑکیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ خوراک کی کمی، پانی کی کمیابی اور زمین کے ساتھ ہماری بدسلوکی کے نتیجے میں جبری مہاجرت ان پر غیرمتناسب طور سے اثرانداز ہوتی ہے اور اس کے باجود زمین پر ان کا اختیار سب سے کم ہے۔ 

انہوں نے انسان کے قیمتی ترین وسائل کے تحفظ میں خواتین اور لڑکیوں کے کردار میں تعاون کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئیے باہم مل کر 2030 تک زمینی انحطاط کو روک دیں۔

#HerLand

اس عالمی دن سے قبل 'یو این سی سی ڈی' نے #HerLand کے عنوان سے ایک مہم شروع کی ہے جس کا مقصد زمانہ حال میں تبدیلی لانے اور مستقبل کے مسائل سے نمٹنے میں خواتین کے کردار بارے آگاہی بیدار کرنا ہے۔

'یو این سی سی ڈی' کے مطابق مساوی رسائی میسر آنے کی صورت میں خواتین اور لڑکیاں زرعی پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہیں، زمین کو بحال کرتی ہیں اور خشک سالی کے خلاف استحکام لاتی ہیں۔ 

اعلیٰ سطحی اجلاس کے آغاز پر مالی سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ اور 'یو این سی سی ڈی' کی خیرسگالی سفیر اینا موجا نے اس دن کی مناسب سے 'عورت کی زمین' نامی گیت پہلی مرتبہ گایا۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ خاتون فنکارہ اور موسمیاتی و سماجی انصاف کے لئے جدوجہد کرنے والی کارکن کی حیثیت سے وہ سمجھتی ہیں کہ بنجرپن اور زمینی انحطاط کے خلاف جدوجہد میں خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور صںفی مساوات کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ باہم مل کر ہم ایک روشن تر اور پائیدار مستقبل تخلیق کر سکتے ہیں۔ 

اجلاس میں اعلیٰ سطحی مقررین، خواتین رہنماؤں، ممتاز سائنس دانوں، ارضی تحفظ کے لئے کام کرنے والوں اور نوجوانوں کے نمائندوں نے اتفاق کیا کہ اس معاملے میں بہت کچھ کیا جا چکا ہے لیکن زمین کی ملکیت کے لئے مساوی حقوق ممکن بنانے کی غرض سے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ 

فن لینڈ کی سابق صدر اور 'یو این سی سی ڈی' کی سفیر برائے اراضی تارجا ہالونین نے کہا کہ اس مسئلے پر ہمیں فی الفور عملی قدم اٹھانا ہو گا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ صںفی نابرابریوں کا خاتمہ کرنا محض ایک درست کام ہی نہیں ہے بلکہ جب ہم یہ یقینی بناتے ہیں کہ خواتین اپنی اہلیتوں، علم، ہنر اور قیادت کی صلاحیت سے پورا کام لیں تو پھر ہم اپنے معاشروں کو بھی بہتر کر لیتے ہیں۔

ایتھوپیا کے صومالی ریجن میں خشک سالی کا ایک طویل دور چل رہا ہے۔
© WFP/Michael Tewelde
ایتھوپیا کے صومالی ریجن میں خشک سالی کا ایک طویل دور چل رہا ہے۔

نامکمل کام 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سابا کوروشی نے کہا کہ جب خواتین کاشت کاروں کے پاس زمین کی ملکیت ہوتی ہے تو وہ زیادہ پیداوار اگاتی ہیں اور اس طرح ملکی سطح پر بھی زرعی پیداوار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ خواتین کے زمین اور جائیداد کی ملکیت سے متعلق حقوق کو مضبوط کرنے سے غذائی تحفظ میں بہتری پیدا ہوتی ہے اور غذائی قلت میں کمی آ جاتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ان مثبت تبدیلیوں کے دور رس اثرات ہوتے ہیں۔

 جنرل اسمبلی کے صدر کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ہمارے پاس پالیسی سے متعلق فیصلوں اور ایسے اقدامات کی کمی ہے جن میں زمین کے انتظام میں خواتین اور لڑکیوں کے کردار کو تسلیم کیا جائے۔ ہمیں فیصلہ سازی میں خواتین کی شرکت کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کرنا ہو گی۔