انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ڈارفر کے گورنر کی ہلاکت کی مذمت اور نفرت آمیز بیانات پر تشویش

بدامنی کے نتیجے میں سوڈان کے علاقے ڈارفر میں لوگ بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
WFP/Abdulaziz Abdulmomin
بدامنی کے نتیجے میں سوڈان کے علاقے ڈارفر میں لوگ بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

ڈارفر کے گورنر کی ہلاکت کی مذمت اور نفرت آمیز بیانات پر تشویش

امن اور سلامتی

سوڈان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یونیٹیمس) نے مغربی ڈارفر کے گورنر کی ہلاکت کو خوفناک اور افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے اور اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں گورنر خامس ابوبکر کی ہلاکت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح انہوں نے کھلے عام نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو سوڈان بھر میں اقتدار کے حصول کے لئے جاری کشمکش سے جنم لینے والے تشدد میں شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

Tweet URL

یونیٹیمس کا کہنا ہےکہ عینی شاہدین کے بیانات کی رو سے اس واقعے کی ذمہ داری عرب ملیشیاؤں اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) پر عائد ہوتی ہے تاہم آر ایس ایف نے مشن کو بتایا ہے کہ وہ اس واقعے میں میں ملوث نہیں ہے۔ 

نفرت کا گرداب  

سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن نے اس واقعے کے ذمہ داروں کو فی الفور انصاف کے کٹہرے میں لانے اور خطے میں تشدد کا پھیلاؤ روکنے کے لئے کہا ہے۔ مشن نے سوڈان کے لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نفرت پر مبنی اظہار کے گرداب اور نسلی تقسیم میں مت پھنسیں۔

سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں آر ایس ایف اور قومی فوج کے مابین 15 اپریل سے جاری لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں جبکہ بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ 

اس ہفتے کے آغاز میں یونیٹیمس کے سربراہ وولکر پرتھیز نے کہا تھا کہ مغربی ڈارفر کے دارالحکومت الغنینہ میں عام شہریوں کے خلاف نسلی شناخت کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر حملے شروع ہو گئے ہیں۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر عرب ملیشیائیں اور ریپڈ سپورٹ فورسز کی وردی میں ملبوس بعض مسلح لوگ ملوث ہیں۔

نسلی تشدد کے خاتمے کا مطالبہ 

یونیٹیمس نے ڈارفر میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کی مذمت کرتے ہوے ہر طرح کی فوجی کارروائیوں کو فوری بند کرنے پر زور دیا ہے تاکہ تناؤ میں کمی آئے، بڑھتے ہوئے نسلی تشدد سے نمٹا جا سکے، ضرورت مندوں کو انسانی امداد تک رسائی ملے اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے جو بڑے پیمانے پر جنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ 

یونیٹیمس نے تمام فریقین کو بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قانون کے تحت ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں تاکہ شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

شمالی ڈارفر میں 100 ہلاکتیں 

پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے جمعرات کو ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ شمالی ڈارفر میں بے گھر لوگوں کے کیمپوں میں اور ان کے اردگرد پرتشدد جھڑپوں میں 100 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں ںے اس علاقے میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کی اطلاعات کو بھی خوفناک قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ متحارب جرنیلوں کی سوڈان کو تباہ کر دینے والی اس لڑائی کے خاتمے تک حالات مزید بگڑتے چلے جائیں گے۔