انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسمیاتی بحران: معدنی ایندھن کا استعمال ترک کرنا ہوگا، گوتیرش

معدنی ایندھن کا استعمال موسمیاتی تبدیلی کا سبب بن رہا ہے۔
© Unsplash/Amir Arabshahi
معدنی ایندھن کا استعمال موسمیاتی تبدیلی کا سبب بن رہا ہے۔

موسمیاتی بحران: معدنی ایندھن کا استعمال ترک کرنا ہوگا، گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے متنبہ کیا ہے کہ موسمیاتی 'تباہی' سے بچنے کے لئے ممالک کو کوئلے اور دیگر معدنی ایندھن کا استعمال ختم کرنا ہو گا۔

دنیا بھر میں موسمیاتی مسائل پر کام کرنے والے سول سوسائٹی کے رہنماؤں سے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کھلی آنکھوں کے ساتھ تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ جاگنے اور قدم بڑھانے کا وقت ہے۔

Tweet URL

'تباہی سر پر ہے'

انہوں ںے کہا کہ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنا اب بھی ممکن ہے لیکن اس کے لیے 2030 تک کاربن کے اخراج میں 45 فیصد تک کمی لانا ہو گی۔ 

تاہم اگر موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو اس صدی کے آخر تک عالمی حدت میں اضافہ 2.8 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ جائے گا جو کہ تباہی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کاربن کے اخراج کے حوالے سے نیٹ زیرو کا ہدف حاصل کرنے کے لئے عالمی سطح پر فوری اقدامات کے لئے کہا جس کا آغاز موسمیاتی بحران میں آلودگی کے مرکز یعنی معدنی ایندھن کی صنعت کے خاتمے سے ہونا چاہیے۔ 

'کوئلہ زمین میں رہنے دیں' 

انہوں نے کہا کہ ممالک کو چاہیے کہ وہ بتدریج معدنی ایندھن کا استعمال ختم کریں، تیل، کوئلے اور گیس کو زمین میں ہی رہنے دیں اور قابل تجدید توانائی پر سرمایہ کاری میں بڑے پیمانے پر اضافہ کریں۔ 

سیکرٹری جنرل نے قبل ازیں موسمیاتی یکجہتی معاہدے کی تجویز دی تھی جس کے تحت امیر ممالک ترقی پذیر معیشتوں کو کاربن کے اخراج میں کمی لانے میں مدد فراہم کریں گے۔ 

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کی رفتار بڑھانے کے ایجنڈے سے متعلق ایک اور تجویز میں حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 2040 تک کوئلے کا استعمال بتدریج ختم کریں، سرکاری و نجی شعبے کی جانب سے عالمی سطح پر کوئلے کے لئے مالی وسائل کی فراہمی بند کریں اور دیگر اقدامات کے علاوہ معدنی ایندھن پر دی جانے والی امدادی قیمتوں کو توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی جانب منتقل کریں۔ 

’خصوصی ذمہ داری‘ 

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے معدنی ایندھن کی صنعت اور اس کے مددگاروں کی خاص ذمہ داری ہے کیونکہ انہوں ںے گزشتہ برس اس ایندھن سے ریکارڈ 4 ٹریلین ڈالر کمائے تھے۔ 

انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کی تلاش اور کھدائی پر خرچ ہونے والے ہر ایک ڈالر کے مقابلے میں ماحول دوست توانائی اور فضا سے کاربن کا خاتمہ کرنے پر صرف چار سینٹ خرچ ہوتے ہیں۔ پیسوں کی خاطر مستقبل کا سودا کرنا غیر اخلاقی بات ہے۔

'وسائل کا مثبت استعمال'

انتونیو گوتیرش نے زور دیا کہ معدنی ایندھن کی صنعت کو اپنے بے پایاں وسائل دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی میں رکاوٹ پیدا کرنے پر استعمال کرنے کے بجائے اس منتقلی کو ممکن بنانے پر خرچ کرنے چاہئیں۔

اس وقت یہ صنعت کاربن کے اخراج پر قابو پانے کے لئے ان کم ترین اہداف کو بھی نہیں پہنچ رہی جو اس نے اپنے لئے خود طے کیے ہیں۔ 

انہوں ںے معدنی ایندھن کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں سے کہا کہ وہ قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے قابل اعتبار، جامع اور تفصیلی منصوبے پیش کریں جن میں پیداوار سے ایندھن کی صفائی، تقسیم اور استعمال تک ہر کام میں کاربن کا اخراج محدود رکھنے کے اقدامات شامل ہوں۔ 

ان منصوبوں میں ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کے لئے واضح اور قلیل مدتی اہداف بھی طے کئے جانا چاہئیں۔

معدنی ایندھن کے استعمال سے پیدا ہونے والی آلودگی انڈیا کے شہروں میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔
Unsplash/Hassan Afridhi
معدنی ایندھن کے استعمال سے پیدا ہونے والی آلودگی انڈیا کے شہروں میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔

'رکاوٹ مت ڈالیں' 

انہوں نے کہا کہ معدنی ایندھن کے شعبے میں کام کرنےوالی کمپنیوں کو چاہئیے کہ وہ قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کے لئے ہونے والی پیش رفت کو کمزور کرنے کے لئے اپنے اثرورسوخ اور قانونی عمل کی دھمکیاں دینا بندکریں اور ان سے پرہیز کریں۔ 

اس حوالے سے ریکارڈ درست رکھنے میں حکومتوں کا اہم ترین کردار ہے۔ انہیں اس ضمن میں واضح یقینی دہانی کے ذریعے مدد دینی چاہئیے۔ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اجتماعی اقدام عوامی اعتماد کو قائم رکھتا ہے۔ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس معاملے میں مالیاتی اداروں کو تفصیلی منصوبے پیش کرنے کو بھی کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کو چاہئیے کہ وہ عالمی سطح پر توانائی میں تبدیلی لانے کی حوصلہ افزائی کریں۔ 

اس بارے میں ترتیب دیے جانے والے منصوبوں میں انہیں نیٹ زیرو ہدف کی مطابقت سے اپنے ہاں معدنی ایندھن سے متعلق اثاثوں کو بتدریج ختم کرنے کے لئے جامع حکمت عملی اختیار کرنی چاہئیے۔ اس ضمن میں ہر طرح کی ترغیب کاری اور پالیسی سے متعلق شمولیت کو سامنے لایا جانا چاہئیے۔

’ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری‘

انہوں نے کہا کہ ہر جگہ مالیاتی اداروں کو ہر جا کوئلے میں سرمایہ کاری کے لئے قرض و ضمانتوں کی فراہمی اور سرمایہ کاری کا خاتمہ کرنا چاہئیے جس میں کوئلے کی صنعت کے نئے ڈھانچے، توانائی کے پلانٹ اور کانوں کے لئے کی جانے والی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ 

اس کے علاوہ انہیں تیل و گیس کے نئے کنویں تلاش کرنے اور ان کے موجودہ ذخائر کو وسعت دینے کے لئے مالی وسائل کی فراہمی اور سرمایہ کاری کا خاتمہ کرنے کا عہد بھی کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے انہیں چاہئیے کہ وہ ترقی پذیر دنیا میں قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی پر سرمایہ کاری کریں۔