انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: طوفان بپر جوائے سے نمٹنے کے لیے یو این ادارے تیار

سمندری طوفان بپر جوائے سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والا پاکستان کا صوبہ سندھ ابھی گزشتہ سال کے مون سون بارشوں کے سیلاب کے اثرات سے نہیں نکل پایا۔
© UNICEF/Saiyna Bashir
سمندری طوفان بپر جوائے سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والا پاکستان کا صوبہ سندھ ابھی گزشتہ سال کے مون سون بارشوں کے سیلاب کے اثرات سے نہیں نکل پایا۔

پاکستان: طوفان بپر جوائے سے نمٹنے کے لیے یو این ادارے تیار

موسم اور ماحول

پاکستان میں اقوام متحدہ کے انفارمیشن سنٹر کے مطابق طوفان بپر جوائے سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کا عمل شروع ہوچکا ہے اور یو این ادارے صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔

متاثرہ لوگوں کو طبی سہولتوں کی بروقت فراہمی میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) حکومت پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ یہ طوفان متوقع طور پر 14 یا 15 جون کو کسی بھی وقت پاکستان کے ساحل سے ٹکرائے گا۔ 

Tweet URL

قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظام میں مدد دینے والی ڈبلیو ایچ او کی ٹیم (آئی ایم ایس ٹی) شعبہ صحت کے شراکت داروں اور وفاقی و صوبائی وزرائے صحت کی جانب سے انجام دی جانے والی تمام طبی سرگرمیوں میں ارتباط یقینی بنانے کے لئے متحرک ہے اور طوفان کے اثرات سے نمٹنے کی تیاری اور اس حوالے سے اقدمات کے لئے وسائل جمع کر رہی ہے۔

طوفان سے نمٹنے کی تیاریاں

علاوہ ازیں ڈبلیو ایچ او نے سندھ میں ہنگامی ضرورت کی ادویات تیار رکھی ہیں جن میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے منہ کے ذریعے لئے جانے والے نمکیات (او آر ایس)، پانی صاف کرنے والی گولیاں اور دیگر ضروری ادویات بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد طبی نگہداشت تک بلارکاوٹ رسائی یقینی بنا کر اور متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ محدود رکھتے ہوئے اس طوفان سے متاثرہ بدحال آبادیوں کی مدد کرنا ہے۔

طوفان کے اثرات سے نمٹنے کی تیاری کے لئے ہنگامی منصوبے اور اس مقصد کے لئے اختیار کئے جانے والے طریقہ کار کی نگرانی کے لئے ایک تکنیکی ورکنگ گروپ بھی قائم کیا گیا ہے۔ 

پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہیپالا نے کہا ہے کہ ادارہ طوفان کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور اس کی آمد سے قبل ہنگامی اقدامات کی تیاری مکمل کئے ہوئے ہے تاکہ حکومت پاکستان کو ہرممکن مدد پہنچائی جا سکے۔

یہ یقینی بنانا ادارے کی ترجیح ہے کہ متاثرہ آبادیوں کی طبی ضروریات پوری ہوں اور ضروری طبی خدمات کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے جس میں ہنگامی طبی مدد اور زخمیوں کی نگہداشت بھی شامل ہے۔ 

نقل مکانی کا امکان

پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ طوفان سے بچنے کے لئے ساحلی پٹی کے شہر ٹھٹھہ، بدین، سجاول اور میرپورخاص سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک لاکھ لوگوں کی نقل مکانی کا امکان ہے جبکہ کم از کم 25 ہزار لوگ پہلے ہی محفوظ جگہوں پر منتقل کئے جا چکے ہیں۔

متوقع طور پر یہ طوفان 14 جون 2023 کی صبح تک شمال میں پیش قدمی کرےگا اور پھر 15 جون 2023 کی دوپہر کو مشرق کا رخ کر کے کیٹی بندر اور (سندھ کا جنوب مشرقی ساحلی علاقہ) اور انڈیا کی ریاست گجرات کے ساحلی علاقے کے درمیان ٹکرائے گا۔ پاکستان میں ممکنہ طور پر ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر، کراچی، میرپور خاص، عمر کوٹ، حیدرآباد، اورمارا، ٹنڈو اللہ یار خان اور ٹنڈو محمد خان کے اضلاع اس سے متاثر ہوں گے۔