غلط اطلاعات کی روک تھام میں بااعتبار سوشل میڈیا ضروری: گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اطلاعاتی دیانت کو فروغ دینے سے متعلق ایک اہم رپورٹ کے اجرا پر کہا ہے کہ ممالک کو آن لائن نفرت اور جھوٹ کے پھیلاؤ سے عالمی سطح پر ہونے والے شدید نقصان سے نمٹنا ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ تخلیقی مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں تیزتر ترقی سے لاحق ممکنہ خطرے پر تشویش کی موجودگی میں ایسی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے باعث پہلے سے ہی ہو چکے نقصان کے بارے میں ابہام نہیں ہونا چاہئیے جو نفرت پر مبنی آن لائن اظہار اور غلط و گمراہ کن معلومات کو فروغ دیتی ہے۔
پالیسی سے متعلق اس مختصر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممالک کو صارفین کی جانب سے پھیلائی گئی اطلاعات کی درستگی، پیوستگی اور بھروسے کو قائم رکھنے میں لازمی کردار ادا کرنا چاہئیے۔
رپورٹ کے تعارف میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہیں امید ہے اس سے اطلاعاتی دیانت کو مضبوط بنانے کے لئے اعلیٰ ترین معیار کی عملی رہنمائی میسر آئے گی۔
جڑت اور تقسیم
سوشل میڈیا کے چینل، سرچ انجن اور پیغام رساں ایپلی کیشن کی صورتوں میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم دنیا میں اربوں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہے ہیں اور صرف فیس بک پر ہی تقریباً تین ارب لوگ موجود ہیں۔
یہ پلیٹ فام بحران اور جدوجہد کے وقت لوگوں کی مدد کرنے سے نسلی انصاف اور صنفی مساوات کی عالمگیر تحریکوں کو متحرک کرنے تک بہت سے فوائد کے حصول کا سبب بنے ہیں۔ ان سے اقوام متحدہ نے صحت مند کرہ ارض پر امن، وقار اور انسانی حقوق کی جستجو میں دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا کام بھی لیا ہے۔
تاہم یہ چھوٹے سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سائنس کو جھٹلانے، غلط اطلاعات اور نفرت پھیلانے، تنازعات کو ہوا دینے، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے خطرات پیدا کرنے اور صحت عامہ و موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کو کمزور کرنے کے لئے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹیکنالوجی میں تخلیقی مصنوعی ذہانت کی صورت میں ہونے والی تیزتر ترقی کے باعث ان خدشات میں مزید شدت آ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ سب کچھ پہلے کی طرح نہیں چلے گا۔
پُرفریب، خطرناک اور مہلک
اگرچہ گمراہ کن و غلط اطلاعات اور نفرت پر مبنی تقریر کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں تاہم یہ الگ مظاہر ہیں۔
نفرت پر مبنی اظہار کسی گروہ یا فرد کے خلاف محض ان کی نسل، رنگ، مذہب، قومیت یا ایسی ہی بنیادوں پر بدسلوکی یا دھمکی پر مبنی زبان استعمال کرنے کا نام ہے۔
گمراہ کن اور غلط اطلاعات کے مابین نیت کا فرق ہے تاہم اس امتیاز کو واضح کرنا آسان نہیں ہوتا۔ عمومی طور پر غلط اطلاعات کا مطلب نادرست معلومات کو غیرارادی طور سے پھیلانا ہے جبکہ گمراہ کن اطلاعات ناصرف غلط ہوتی ہیں بلکہ ان کا مقصد دھوکہ دینا بھی ہوتا ہے۔
تاہم اس کے باوجود یہ تمام مظاہر خطرناک ہی نہیں بلکہ مہلک بھی ثابت ہو چکے ہیں۔
محفوظ ڈیجیٹل دنیا
اسی خطرے کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے ڈیجیٹل دنیا کو محفوظ اور مزید مشمولہ بنانے اور انسانی حقوق کو تحفظ دینے کے لئے عالمی سطح پر مربوط اقدامات کے لئے کہا ہے۔
اس حوالے سے تعمیری اقدامات کا بڑی حد تک فقدان ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں کام کرنے والی بعض کمپنیوں نے تشدد اور نفرت کے پھیلاؤ کے لیے اپنے پلیٹ فارم کا استعمال روکنے کے لئے بہت کم اقدامات کئے ہیں جبکہ حکومتوں نے اس حوالے سے بعض اوقات انٹرنیٹ کو بند کرنے یا اس پر پابندی لگانے جیسے انتہائی سخت اقدامات اٹھائے ہیں جن کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہوتی اور یہ انسانی حقوق کی پامالی کا باعث بنتے ہیں۔
ضابطہ اخلاق
رپورٹ میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اطلاعاتی دیانت کے لئے ایک ضابطہ اخلاق کے ذریعے عالمگیر اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اظہار اور اطلاع کی آزادی کے حق کے تحفظ کے لئے ممکنہ اقدامات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
یہ ضابطہ اخلاق انسانی حقوق، آزاد میڈیا کی حمایت، شفافیت میں اضافے، صارف کے اختیار اور تحقیق و معلومات تک رسائی کو مضبوط بنانے جیسے اصولوں کو ترقی دے گا۔
سیکرٹری جنرل نے ایسی سفارشات بھی پیش کی ہیں جن سے اس ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے حوالے سے آگاہی مل سکتی ہے۔
ان میں حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ فریقین سے کسی بھی مقصد کے لئے گمراہ کن معلومات اور نفرت پر مبنی اظہار کے استعمال، اس کی حمایت یا اسے بڑھاوا دینے سے پرہیز کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
اس معاملے میں حکومتوں کو میڈیا کے لئے آزاد، قابل عمل، غیرجانبدار اور تکثیری ماحول بھی فراہم کرنا چاہئیے جس میں صحافیوں کو بہتر تحفظ حاصل ہو۔