سمندر زندگی کی بنیاد جس کے تحفظ کی ضرورت ہے: گوتیرش
دنیا بھر میں مچھلیوں کے ایک تہائی سے زیادہ ذخائر میں ںاپائیدار انداز میں ماہی گیری کی جاتی ہے۔ یہ انسانی سرگرمی سے سمندروں کو ہونے والے نقصان کی صرف ایک مثال ہے جو کرہ ارض کے 70 فیصد سے زیادہ حصے کا احاطہ کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جمعرات 8 جون کو سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں سمندروں کے تحفظ کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کے لئے کہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سمندر زندگی کی بنیاد ہیں۔ یہ ہمیں سانس لینے کے لئے ہوا اور کھانے کے لئے خوراک مہیا کرتے ہیں۔ یہ ماحول اور موسم کو باقاعدہ رکھتے ہیں۔ سمندر ہماری زمین پر حیاتیاتی تنوع کا سب سے بڑا ذخیرہ ہیں۔
بدترین دشمن
ان فوائد کے علاوہ سمندر ایسے وسائل پیدا کرتے ہیں جن سے انسانی آبادیوں، خوشحالی اور صحت کو برقرار رہنے میں مدد ملتی ہے۔ دنیا بھر میں ایک بلین سے زیادہ لوگ پروٹین کے حصول کے سب سے بڑے ذریعے کے طور پر مچھلی پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سمندر کا بہترین دوست ہونا چاہیے لیکن اس وقت انسان ہی اس کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمی کے نتیجے میں آنے والی موسمیاتی تبدیلی زمین کو گرم کر رہی ہے، موسمی معمول اور سمندری دھاروں میں خلل پیدا کر رہی ہے اور سمندری ماحولی نظام اور ان میں رہنے والی انواع کو تبدیل کیے دیتی ہے۔
حد سے زیادہ ماہی گیری، سمندروں میں انسانی سرگرمی اور ان میں تیزابیت بڑھنے سے سمندری حیاتیاتی تنوع بھی خطرے کی زد میں ہے، مچھلیوں کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے اور ساحلی پانی کیمیائی مادوں، پلاسٹک اور انسانوں کے پھیلائے کچرے سے آلودہ ہو چکے ہیں۔
تبدیل ہوتے حالات
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سال سمندروں کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حالات میں تبدیلی آ رہی ہے۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ گزشتہ برس دسمبر میں ممالک نے اس دہائی کے آخر تک 30 فیصد خشکی، سمندر اور ساحلی علاقوں کو محفوظ بنانے اور ان کا بہتر انتظام کرنے کے ایک پرعزم عالمی ہدف کی منظوری دی۔
گزشتہ سال ماہی گیری پر امدادی قیمتوں کے حوالے سے تاریخی اہمیت کا حامل معاہدہ بھی طے پایا اور پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں سمندروں کے موضوع پر اقوام متحدہ کی کانفرنس میں دنیا نے اس معاملے میں مزید مثبت اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
'وعدے پورے کیے جائیں'
پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدے پر بات چیت جاری ہے جس کی پابندی قانوناً لازم ہو گی اور مارچ میں ممالک نے گہرے پانیوں سے متعلق ایک تاریخی معاہدے پر اتفاق کیا جس کے تحت قومی حدود سے ماورا سمندری حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور اس کا پائیدار استعمال ممکن بنانا ہے۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ان بہت بڑے وعدوں کو حقیقت کا روپ دینا اجتماعی عزم کا تقاضا کرتا ہے۔
سمندروں کے اس عالمی دن پر آئیے مزید اقدامات کے لئے محنت کریں۔
سمندر: غذائی تحفظ کی لازمی ضرورت
آج موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ یا غربت سمیت دنیا کو درپیش ہر مسئلے کے حل میں سمندر کی خاص اہمیت ہے۔
جمعرات کو منائے جانے والے سمندروں کے عالمی دن سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے یہی پیغام دیا ہے۔
سمندر پہلے ہی دنیا کی ایک بلین سے زیادہ آبادی کے لئے پروٹین کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور یہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو خوراک کے حصول میں مدد دینے کے بہت سے مواقع فراہم کرتا ہے۔
ایف اے او میں ماہی پروری اور آبی کاشت سے متعلق پالیسی اور وسائل کے ڈائریکٹر مینوئل بیرنج نے آبی کاشت یعنی مچھلیوں اور آبی پودوں کی افزائش کے سلسلے میں تیزی سے ہونے والی ترقی کو واضح کیا۔
انہوں ںے کہا کہ آبی کاشت گزشتہ پانچ دہائیوں سے خوراک پیدا کرنے کا تیزی سے ترقی کرتا نظام بن گیا ہے جس میں تین یا چار دہائیاں پہلے ترقی کی صورتحال عملاً صفر تھی اور اب اس سے اتنی ہی پیداوار حاصل ہو رہی ہے جتنی ماہی گیری سے ہوتی ہے۔
توقع ہے کہ اب اور اس دہائی کے اختتام کے درمیانی عرصہ میں آبی کاشت میں 25 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔
ایف اے او نے 'بلیو ٹرانسفارمیشن انیشی ایٹو' شروع کیا ہے جس کے تحت بھوک اور غذائی قلت جیسے مسائل پر قابو پانے کے لئے آبی غذاؤں کی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔
اس کا مقصد ماہی گیری کا موثر اور پائیدار انتظام یقینی بنانا اور صارفین کے لئے آبی خوراک کی ترسیل کو شفاف رکھنا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا میں تقریباً 600 ملین لوگوں کے روزگار کا انحصار ماہی گیری اور آبی کاشت پر ہے۔