انسانی کہانیاں عالمی تناظر

محفوظ خوراک کا عالمی دن: ’کھانے سے کسی کی موت نہیں ہونی چاہیے‘

دو سو سے زیادہ ایسے امراض ہیں جو کھانے پینے کی اشیاء میں بیکٹریا، وائرس، پیراسائیٹ، یا کیمیائی مادوں کی وجہ سے لاحق ہوتے ہیں۔
© WHO/Yoshi Shimizu
دو سو سے زیادہ ایسے امراض ہیں جو کھانے پینے کی اشیاء میں بیکٹریا، وائرس، پیراسائیٹ، یا کیمیائی مادوں کی وجہ سے لاحق ہوتے ہیں۔

محفوظ خوراک کا عالمی دن: ’کھانے سے کسی کی موت نہیں ہونی چاہیے‘

صحت

اقوام متحدہ کے دو اداروں نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ قریباً 1.6 ملین لوگ آلودہ خوراک کھانے سے بیمار پڑ جاتے ہیں اور ان بیماریوں سے ہر سال 420,000 اموات ہوتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) 7 جون کو منائے جانے والے تحفظ خوراک کے عالمی دن پر اس مسئلے کو واضح کر رہے ہیں۔

Tweet URL

امسال تحفظ خوراک کے حوالے سے طے شدہ طریقہ ہائے کار اور معیارات اس دن کا خاص موضوع ہیں جو یہ یقینی بناتے ہیں کہ ہم جو کچھ کھا رہے ہیں وہ محفوظ ہے یا نہیں۔

'قابل انسداد اموات' کا خاتمہ

ڈبلیو ایچ او کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ماریا نیرا نے کہا ہے کہ تحفظ خوراک کا ہماری صحت پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔

یرقان سے سرطان تک 200 سے زیادہ بیماریاں جراثیموں، وائرس، طفیلی کیڑوں یا کیمیائی مادوں سے آلودہ خوراک کھانے سے لاحق ہوتی ہیں۔

ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ "عام طور پر ہم خوراک کے تحفظ کے بارے میں اسی وقت سوچتے ہیں جب ہم ایسی خوراک کھا کر بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ہمیں اس بارے میں اکثروبیشتر سوچنا چاہیے کیونکہ خوراک سے لاحق ہونے والی بیماریاں پوری طرح قابل انسداد ہیں۔

محفوظ خوراک غذائیت مہیا کرتی ہے اور انسانی ترقی میں مدد دیتی ہے۔ کسی کی موت ناقص خوراک کھانے سے نہیں ہونی چاہئیے۔ یہ ایسی اموات ہیں جنہیں روکا جا سکتا ہے۔"

عملی اقدامات کی ضرورت  

ڈبلیو ایچ او نے اس معاملے میں متعدد کرداروں سے عملی اقدامات کے لئے کہا ہے جن میں پالیسی ساز بھی شامل ہیں۔ ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قومی سطح پر تحفظ خوراک کے حوالے سے ایسے موثر اقدامات کریں جو طے شدہ معیارات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

خوراک کا کاروبار کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین، ترسیل کنندگان اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر "تحفظ خوراک کا ماحول" ترتیب دیں جبکہ تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر خوراک کے محفوظ انتظام کو فروغ دیا جانا چاہئیے۔

صارفین سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔ مثال کے طور پر انہیں گھروں میں خوراک کو محفوظ رکھنے کے لئے ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق عمل کرنا چاہئیے جن میں کھانا تیار کرنے سے پہلے ہاتھ دھونا اور خام خوراک کا انتظام کرتے وقت چاقوؤں اور غذائی اشیا کو کاٹنے اور چھیلنے کے بورڈ جیسے علیحدہ آلات اور اوزاروں کا استعمال شامل ہے۔

غذائی شعبے کا 'ٹول باکس'

دریں اثنا، 'ایف اے او' نے ایک ویب سائٹ شروع کی ہے جس کا مقصد غذائی شعبے کو خوراک اور صحت و صفائی سے متعلق عالمی معیارات مدنظر رکھنے میں مدد دینا ہے۔

"ٹول باکس" کے نام سے یہ ویب سائٹ صارفین کی صحت کو تحفظ دینے اور غذائی اشیا کی تجارت میں مںصفانہ طریقہ ہائے کار کے فروغ کا کام کرتی ہے۔

اس حوالے سے ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے کاروباروں اور کسانوں پر خاص توجہ مرکوز کی گئی ہے اور اس ویب سائٹ تک موبائل فون کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے جو ان ممالک میں لیپ ٹاپ اور دیگر کمپیوٹروں کے مقابلے میں زیادہ عام ہیں۔

اس ویب سائٹ پر جسمانی صفائی سے متعلق رہنمائی بھی موجود ہے جیسا کہ خوراک تیار کرنے والی جگہوں پر آنے والے لوگوں کو کیسے آگاہی دی جائے، ہاتھ دھونے کا درست طریقہ اور رفتار کیا ہے اور کون سے کپڑے پہننا مناسب ہے۔

اس ویب سائٹ کے تکنیکی مواد کو ایف اے او میں تحفظ خوراک کے لئے کام کرنے والے افسروں اور کینیڈا کی یونیورسٹی آف گوئلف میں غذائی سائنس کے شعبے کی ٹیم نے تیار کیا اور اس کا جائزہ لیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ "اس منصوبے کے ذریعے لوگوں کی آرا لی جائیں گی اور ٹول باکس کو ماہی گیری جیسے زرعی غذائی نظام کے دیگر شعبوں کے لئے بھرپور آگاہی فراہم کرنے کی غرض سے ممکنہ طور پر وسعت دی جائے گئ۔"