عراق: کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے مؤثر تعاون درکار
عراق میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ سکڑتی شہری آزادیوں، انتخابات کے التوا اور موسمیاتی ہنگامی صورتحال کے ہوتے ہوئے ملک کے استحکام اور کڑی محنت سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لئے مؤثر تعاون درکار ہے۔
خصوصی نمائندہ اور عراق کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ای آئی) کی سربراہ جینین ہینز پلاشرٹ نے کہا ہے کہ "یہ مطمئن ہو کر بیٹھ رہنے یا یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ عراق کا مشکل وقت گزر گیا ہے۔"
ملک میں ہونے والی حالیہ پیش ہائے رفت پر سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عراق نے بدعنوانی کا مقابلہ کرنے اور توانائی کے شعبے میں خودانحصاری کے حصول جیسی متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
تاہم آگے بڑھنے کے لئے ایک فعال بجٹ پر معاہدہ کرنے اور طویل تاخیر کا شکار صوبائی کونسل کے انتخابات 2023 کے اختتام تک منعقد کرانے جیسے حل طلب مسائل پر قابو پانے کے لئے ضروری اقدامات ناگزیر ہیں۔
لاپروائی اور غیرذمہ داری
کردستان خطے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی سیاسی لاپروائی اور غیرذمہ داری کے باعث حالیہ مہینوں میں دونوں حکمران جماعتوں کے مابین اختلافات نے اس خطے کو انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات میں طویل تاخیر تشویشناک مسائل میں سے ایک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "وقت اہم ہے اور حل طلب انتخابی مسائل پر فوری معاہدہ ہونا چاہئیے۔ انتخابات میں مزید التوا عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچائے گا۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی
بغداد اور اربل کی جانب سے متواتر وعدوں کے باوجود انہوں نے 2020 کے سنجار معاہدے پر عملدرآمد میں ناکافی پیش رفت پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اس معاہدے میں ملک کے شمالی حصے کی تعمیر نو کا لائحہ عمل دیا گیا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ "ایسا جمود حالات کو بگاڑنے والوں کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا مزید موقع دیتا ہے اور اس سے ہزاروں بے گھر سنجری لوگوں کی اپنے آبائی علاقے کو واپسی میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔"
سنجار میں لوگوں کے مابین حالیہ کشیدگی کو بڑی حد تک یزیدی برادری کے خلاف پھیلائی جانے والی آن لائن غلط اطلاعات سے ہوا ملی ہے۔
اگرچہ تمام فریقین کے مقامی رہنماؤں نے کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی طور پر کام کیا ہے تاہم خصوصی نمائندہ کا کہنا ہے کہ بامعنی اقدامات کے بغیر مفاہمت کی راہ میں مسائل باقی رہیں گے۔ اس سلسلے میں متحدہ انتظامیہ، سلامتی کا مستحکم ڈھانچہ اور تعمیرنو جیسے اقدامات اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواہ یہ بجٹ ہو، ہائیڈروکاربن کے وسائل سے متعلق سوالات ہوں، متنازع علاقوں کا مسئلہ، سنجار معاہدے پر عملدرآمد کا معاملہ یا کوئی اور حل طلب مسئلہ ہو، بغداد اور اربل کے مابین عبوری رابطوں سے بڑھ کر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
موسمیاتی مسئلہ
عراق کے لئے پانی اہم ترین موسمیاتی مسئلہ ہے۔ اندازے کے مطابق 2035 تک عراق کے پاس اپنی ضرورت کا صرف 15 فیصد پانی ہو گا۔ عراق کے 90 فیصد دریا آلودہ ہو چکے ہیں اور سات ملین لوگوں کی پانی تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔ یہ عراق کے استحکام کو لاحق ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے عراقی حکومت کی جانب سے پانی کے تحفظ کے مسئلے کو ترجیح دیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ پانی کے انتظام کو جامع طور سے بہتر بنایا جا رہا ہے جوکہ آبادی میں اضافے اور شہروں کی جانب بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ضروریات پوری کرنے کے لئے بہت اہم ہے۔
سفارت کاری بڑھانے کی ضرورت
خصوصی نمائندہ کا کہنا تھا کہ "عراق کے ہمسایوں کو وسائل میں مساوی حصہ دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر پانی تک رسائی کی دوڑ شروع ہو جائے تو پھر ہر کوئی ہار جائے گا۔ داخلی سطح پر دلیرانہ اقدامات اور بھرپور علاقائی تعاون ہی اس مسئلے کا واحد قابل عمل حل ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی، معاشی و سیاسی پیش ہائے رفت عراق پر اثرنداز ہوتی رہیں گی۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ اور خطے کے ممالک کے مابین سرحدی سلامتی سے لے کر تجارت، پانی کے مشترکہ استعمال اور موسمیاتی امور پر سفارت کاری میں اضافے کے لئے حکومتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
سکڑتی شہری آزادیاں
شہریوں کے متحرک، بااختیار اور محفوظ انداز میں اپنے حقوق سے کام لینے کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ عراق کے رہنما اور حکام واضح طور پر شہریوں کے حقوق اور اظہار کی آزادی کو یقینی بنائیں گے تاکہ عراقی عوام خصوصاً نوجوان نسل اور خواتین میں تنہائی اور مایوسی کے نئے احساس کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ "بحرانوں کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لئے احتساب، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کا احترام کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔"
کویت کے خدشات
1990 میں کویت پر عراق کے مختصر مدتی حملے کے نتیجے میں لاپتہ ہو جانے والے کویتی اور دیگر ممالک کے شہریوں اور کویتی املاک کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے گواہوں اور ممکنہ قبروں کے معاملے میں پیش رفت کا تذکرہ کیا اور ان کوششوں کو جاری رکھنے کے لئے وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی بنائے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا دفتر کویت کی لاپتہ چیزوں بشمول قومی ریکارڈ کی واپسی کے لئے پیش رفت کا منتظر ہے۔
ناپائیدار کامیابیاں
خصوصی نمائندہ کا کہنا تھا کہ یہ کامیابیاں "باآسانی زائل ہو سکتی ہیں" خواہ اس کے پیچھے بلا روک و ٹوک بدعنوانی کا ہاتھ ہو، اندرون ملک مداخلت کا معاملہ ہو، بیرونی مداخلت ہو، وسیع تر مغالطے ہوں یا فلاح عامہ کے خلاف سیاسی رشوت ستانی کا مسئلہ ہو۔"
انہوں نے کہا کہ "عراق میں زبردست صلاحیت موجود ہے۔ پُرعزم حکومتی منصوبوں پر پوری طرح عملدرآمد کی صورت میں عدم استحکام کے بہت سے محرکات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔"