سوڈان: یو این امدادی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ
اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت دار سوڈان بھر میں لاکھوں ضرورت مند لوگوں کے لئے امداد کی فراہمی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت اور ملحقہ علاقوں میں قومی فوج اور اس کی حریف آر ایس ایف ملیشیا کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔
دعووں اور جوابی دعووں کے درمیان ایسی اطلاعات ہیں کہ فوج ریپڈ سپورٹ فورسز کو اسلحے اور رسد کی فراہمی منقطع کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور متواتر حملوں کے خلاف اپنے ٹھکانوں کے دفاع میں مصروف ہے۔
آر ایس ایف نے ایک فوجی اڈے پر حملے کے بعد سینکڑوں فوجیوں کو قیدی بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
فضائی حملوں اور شدید لڑائی کے باعث شہر کے ہزاروں رہائشی تاحال اپنے گھروں میں محصور ہیں جبکہ عینی شاہدین کے مطابق تنصیبات اور شہری علاقوں کو متواتر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
خرطوم میں امداد کی فراہمی
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو معمول کی بریفنگ میں بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دارالحکومت کے جنوب مشرق میں واقع ریاست الجزیرہ میں 30 ٹن طبی سامان پہنچایا ہے جبکہ 2,400 زخمیوں کے علاج کے لئے گزشتہ روز وہاں پانچ ہسپتالوں اور دارالحکومت خرطوم کے تین طبی مراکز میں ضروری سازوسامان مہیا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ''ڈبلیو ایچ او اپنے شراکت داروں کو ضروری اشیا کی فراہمی میں بھی مدد دے رہا ہے اور اضافی امدادی سامان بھی تیار ہے۔ سلامتی کی صورتحال اور انصرامی حالات بہتر ہونے پر اس سامان کی فراہمی بھی شروع کر دی جائے گی۔''
صدمے کی لہر
سٹیفن ڈوجیرک نے سوڈان میں ایک ماہ سے جاری بحران کے اس کے سات ہمسایہ ممالک پر اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی ٹیم چاڈ میں موجود ہے جہاں قریباً 80,000 لوگ نقل مکانی کر کے آئے ہیں۔ ان میں 60,000 پناہ گزین اور 20,000 ایسے ہیں جو سوڈان میں پناہ لئے ہوئے تھے اور اب واپس آ گئے ہیں۔
چاڈ میں پہلے بھی دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین موجود ہیں جن میں تقریباً 600,000 سوڈان، وسطی جمہوریہ افریقہ (سی اے آر)، کیمرون اور نائجیریا سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین ہیں۔
اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے امور سے متعلق ادارے (یو این ایچ سی آر) اور یونیسف نے اب تک 3,000 مہاجر خاندانوں کو غیرغذائی امداد مہیا کی ہے۔
مشترکہ کوششیں
یونیسف نے مہاجرین کے علاقوں میں پانی کے نلکے بھی نصب کئے ہیں اور طبی مراکز کو پانی کو صاف کرنے کا سامان، علاج میں مدد دینے والی تیار شدہ خوراک اور ضروری ادویات مہیا کی ہیں تاکہ سنگین نوعیت کی شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کا علاج یقینی بنایا جا سکے۔
ہنگامی غذائی امداد کے لئے اقوام متحدہ کے ادارے 'ڈبلیو ایف پی' نے ملک کی مشرقی سرحد کے ساتھ آٹھ مختلف مقامات پر آںے والے 20,000 سے زیادہ نئے مہاجرین کو خوراک اور غذائی اشیا مہیا کی ہیں جبکہ اقوام متحدہ میں جنسی اور تولیدی صحت کا ادارہ (یو این ایف پی اے) خواتین اور لڑکیوں کے لئے صحت و صفائی کا سامان اور دیگر اشیا فراہم کر رہا ہے۔