پلاسٹک آلودگی میں بھرپور کمی کے لیے یو این کا نیا لائحہ عمل
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر ممالک اور کاروباری ادارے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے اور منڈی کو ضرورت کے مطابق ڈھالنے کے لئے موجودہ ٹیکنالوجی سے کام لیں تو 2040 تک پلاسٹک کی آلودگی میں 80 فیصد کمی لانا ممکن ہے۔
'یو این ای پی' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا ہے کہ ''ہم جس طرح پلاسٹک کو پیدا، استعمال اور تلف کرتے ہیں اس سے ماحولی نظام آلودہ ہو رہے ہیں، انسانی صحت کے لئے خطرات جنم لے رہے ہیں اور ماحول غیرمستحکم ہو رہا ہے۔''
پلاسٹک کے خاتمے کا 'لائحہ عمل'
انہوں ںے کہا کہ "یو این ای پی کی یہ رپورٹ ایک ایسے دائروی طریقہ کار کے ذریعے ان خطرات میں غیرمعمولی حد تک کمی لانے کا لائحہ عمل پیش کرتی ہے جو پلاسٹک کو ماحولی نظام، ہمارے اجسام اور معیشت سے خارج رکھتا ہے۔"
'ترسیل کا خاتمہ: پلاسٹک کی آلودگی ختم کرنا اور دائروی معیشت کی تخلیق کیسے ممکن ہے' کے عنوان سے یہ رپورٹ پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمے اور ایک ایسی پائیدار دائروی معیشت تخلیق کرنے کے لئے درکار تبدیلیوں کے حجم اور نوعیت کا خاکہ پیش کرتی ہے جو انسانوں اور ماحول دونوں کے لئے فائدہ مند ہو۔
نظام میں تبدیلی
یہ رپورٹ نظام میں ایک تبدیلی تجویز کرتی ہے جو تین تبدیلیوں کی رفتار تیز کر کے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ان میں پلاسٹک کا دوبارہ استعمال، اسے ضائع شدہ حالت سے دوبارہ کارآمد بنانے، اس کی تشریق نو اور اسے متنوع صورتیں دینا شامل ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں پلاسٹک کی آلودگی کے طویل مدتی اثرات سے نمٹنے کے اقدامات کا بھی تذکرہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مندرجہ بالا اقدامات پر عملدرآمد کے باوجود ہر سال ایک مرتبہ اور مختصر مدت کے لئے استعمال ہونے والی اشیا کی صورت میں 100 ملین میٹرک ٹن پلاسٹک کو ٹھکانے لگانا پڑے گا۔
دائروی معیشت کی تعمیر
'یو این ای پی' نے دوبارہ استعمال نہ ہونے والے پلاسٹک کو ٹھکانے لگانے کے لئے طریقہ کار اور حفاظتی معیارات طے کرنے اور ان پر عملدرآمد نیز صنعت کاروں کو پلاسٹک کے باریک ذرات خارج کرنے والی اشیا کے حوالے سے ذمہ دار بنانے کی تجویز دی ہے۔
مجموعی طور پر دائروی معیشت کی جانب منتقلی کے نتیجے میں لاگت اور پلاسٹک کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی صورت میں 1.27 ٹریلین ڈالر کی بچت ہو گی۔ اس طرح صحت، ماحول، فضائی آلودگی، سمندری ماحولی نظام کے انحطاط اور قانونی کارروائیوں سے متعلقہ اخراجات کی صورت میں 3.25 ٹریلین ڈالر بچائے جا سکیں گے۔
سات لاکھ ملازمتوں کے مواقع
ایسی تبدیلی کے نتیجے میں 2040 تک 700,000 نوکریوں کا اضافہ ہو گا۔ ایسی بیشتر نوکریاں کم آمدنی والے ممالک میں تخلقیق ہوں گی جن کی بدولت غیررسمی شعبے میں لاکھوں محنت کشوں کے روزگار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
تجویز کردہ ایسی تبدیلی پر اٹھنے والے اخراجات بہت زیادہ ہیں لیکن یہ باقاعدہ تبدیلی نہ لائے جانے کی صورت میں متوقع اخراجات سے کم ہوں گے۔ اس حوالے سے بالترتیب 65 بلین ڈالر سالانہ اور 113 بلین ڈالر سالانہ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ان میں بیشتر مالی وسائل کو نئی پیداواری سہولیات کے لیے منصوبہ بند سرمایہ کاری یا ضروری دائروی معیشت کے لئے مددگار ڈھانچے میں پلاسٹک کی نئی پیداوار پر محصول عائد کر کے جمع کیا جا سکتا ہے۔
'وقت کم ہے'
تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں وقت بہت اہم ہے۔ پانچ سال کی تاخیر کے نتیجے میں 2040 تک پلاسٹک کی آلودگی میں 80 ملین میٹرک ٹن اضافہ ہو سکتا ہے۔
ٹھوس طریقہ ہائے کار سے متعلق مسائل کے حل پر مرتکز تجزیے، منڈی میں تبدیلیوں اور حکومتوں کی سوچ اور کاروباری اقدامات کے لئے اگاہی پر مبنی پالیسیوں پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وقتی اور دائروی دونوں طرح کی معیشت میں سب سے زیادہ لاگت انہیں عملی صورت دینے پر آتی ہے۔
پلاسٹک کو یقینی طور پر دوبارہ قابل استعمال بنائے جانے سے متعلق ضوابط کے ساتھ اشیا بنانے والوں کی وسیع تر ذمہ داری سے متعلق منصوبے صنعت کاروں کو پلاسٹک سے بنی اشیا جمع کرنے، انہیں دوبارہ قابل استعمال بنانے اور انہیں ذمہ دارانہ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا پابند بنانے کےذریعے نظام کی کلیت یقینی بنانے پر اٹھنے والے عملیاتی اخراجات کو پورا کر سکتے ہیں۔
کاروباری امکانات
'یو این ای پی' کی سربراہ نے کہا کہ ''اگر ہم اس لائحہ عمل پر چلیں اور پلاسٹک کی آلودگی پر قابو پانے کے لئے ہونے والی بات چیت میں بھی اسے مدنظر رکھیں تو بڑی معاشی، سماجی اور ماحولیاتی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔