انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: ’ضرورتمندوں تک امداد پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ضرروی’

امدادی امور کے سربراہ مارٹن گرفتھس نے سلامتی کونسل کے ارکان اور تمام ممالک سے کہا کہ وہ ''خونریزی اور تباہی'' کو بند کرنے کے لئے تمام کوششوں میں تعاون کریں۔
UN Photo/Eskinder Debebe
امدادی امور کے سربراہ مارٹن گرفتھس نے سلامتی کونسل کے ارکان اور تمام ممالک سے کہا کہ وہ ''خونریزی اور تباہی'' کو بند کرنے کے لئے تمام کوششوں میں تعاون کریں۔

یوکرین: ’ضرورتمندوں تک امداد پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ضرروی’

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ نے کہا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں ہر جگہ پھنسے لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے اور وہ اس کے حق دار ہیں۔ سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں ںے امدادی کارکنوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل رسائی دینے کے لئے کہا ہے۔

امدادی امور کے سربراہ مارٹن گرفتھس کا کہنا ہے کہ ''ہمارے لئے شہریوں تک پہنچنے کے تمام راستے ڈھونڈنا لازمی ہے''۔ انہوں ںے اس جنگ کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ''امداد کی فوری اور بلارکاوٹ فراہمی'' کی اجازت اور اس میں سہولت دیں۔''

Tweet URL

انہوں نے کہا کہ ''میں فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ امداد میں سہولت دینے کی کوششوں میں بہتری لائیں تاکہ ہم تمام ضرورت مند شہریوں تک پہنچ سکیں۔'' 

خوراک، پانی اور علاج کی فراہمی منقطع

انہوں ںے بتایا کہ روس کے ساتھ یوکرین کی شمال مشرقی سرحد کے ساتھ اور جنگی محاذ کے قریب بہت سے علاقے متحارب جنگی فریقین کے گھیرے میں ہیں اور وہاں رہنے والے عام لوگوں کو پانی، خوراک اور علاج تک رسائی میسر نہیں ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ادارے کے عملے کا کوئی رکن یا رضاکار زخمی نہیں ہوئے تاہم خطرات موجود ہیں۔ شہریوں یا گھروں، سکولوں، ہسپتالوں اور ان عمارتوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئیے جہاں وہ رہتے یا کام کرتے ہیں۔

انہوں نے اس مسئلے کے حل اور یوکرین کے لئے امن کی ضرورت پر زور دیا جبکہ ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں جاری روس کے قبضے کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں ''بلند ترین سطح کو چھوتی رہی ہیں۔''

بیس ہزار سے زیادہ ہلاک و زخمی

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر 'او ایچ سی ایچ آر' نے 24 فروری 2022 کے بعد 23,600 شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ مارٹن گرفتھس کا کہنا ہے کہ ''ہم سب جانتے ہیں کہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔''

مسلسل خطرات کے باوجود ''امدادی کارکنوں خصوصاً اقوام متحدہ اور دیگر این جی اوز کے لئے کام کرنے والے مقامی کارکنوں کی مطلق بہادری کا مطلب یہ ہے کہ تحفظ زندگی میں مددگار امداد ملک بھر میں پہنچ رہی ہے۔

انہوں ںے کہا کہ 2023 کی پہلی سہ ماہی کے دوران یوکرین میں تقریباً 3.6 ملین لوگوں ںے انسانی امداد وصول کی اور اس سال اب تک اقوام متحدہ کے اداروں کے 43 امدادی قافلوں نے محاذ جنگ کے قریب آبادیوں میں 287,000 لوگوں کو خوراک اور ضروری سازوسامان پہنچایا ہے اور اس امدادی کام کے آخری مرحلے میں لوگوں تک مدد پہنچانے میں مقامی شراکت داروں کا تعاون حاصل رہا ہے۔"

بہتری کی گنجائش

تاہم، انہوں ںے کہا کہ ''ہماری کوششوں کو ضروریات کے مطابق بنانے'' کے لئے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈونیسک، لوہانسک، کیرسون اور زیپوریزیا میں تمام جگہوں پر امداد پہنچانے میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ ان چاروں علاقوں پر فوج کا قبضہ ہے۔

دونوں فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ان جگہوں تک مکمل رسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

جنگ کی طوالت خطرناک

اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے انہوں ںے کہا یہ واضح ہے کہ یوکرین کے لوگ یا اس جنگ کے نتیجے میں معاشی ابتری اور اشیا کی ترسیل کے نظام میں خلل کا سامنا کرنے والے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ یہ جنگ جاری رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان اور تمام ممالک سے کہا کہ وہ ''خونریزی اور تباہی'' کو بند کرنے کے لئے تمام کوششوں میں تعاون کریں۔

اسی دوران اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت دار جنگ سے متاثرہ افراد کی زندگی اور وقار کو تحفظ دینے اور آج، کل اور جب تک ضرورت ہو امن کی جستجو جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔''