انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بحیرہ اسود کے راستے خوراک کی ترسیل جاری رہنا اہم: مارٹن گرفتھس

بحیرہ اسود کے راستے زرعی اجناس کی ترسیل کے معاہدے کے تحت خوراک کی پہلی کھیپ گزشتہ سال یوکرین سے لبنان روانہ ہوئی تھی۔
OCHA/Levent Kulu
بحیرہ اسود کے راستے زرعی اجناس کی ترسیل کے معاہدے کے تحت خوراک کی پہلی کھیپ گزشتہ سال یوکرین سے لبنان روانہ ہوئی تھی۔

بحیرہ اسود کے راستے خوراک کی ترسیل جاری رہنا اہم: مارٹن گرفتھس

انسانی امداد

امدادی کارروائیوں کے لیےاقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس نے پیر کو سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحیرہ اسود کے راستے یوکرین اور روس سے زرعی اجناس کی ترسیل کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے مزاکرات میں پیش رفت جاری ہے۔

انہوں ںے یقین دلایا کہ ''معاہدے کو وسعت دینے اور اسے مؤثر اور یقینی طور سے چلانے کے لئے درکار بہتری'' لانے کی خاطر بھرپور بات چیت آئندہ چند روز تک جاری رہے گی جس میں اقوام متحدہ ''روس سے خوراک اور کھادوں کی برآمدات میہں سہولت دینے کے لئے باہمی مفاہمت کی یادداشت'' کی حمایت کر رہا ہے۔

بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام کے تحت برآمد کردہ خوراک اور کھادیں  عالمگیر غذائی تحفظ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس اقدام کے تحت اب تک 30 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ اشیا یوکرین کی بندرگاہوں سے محفوظ طور پر برآمد کی جا چکی ہیں جن میں سے 55 فیصد ترقی پذیر ممالک کو بھیجی گئی ہیں اور تقریباً چھ فیصد کم ترین ترقی یافتہ ممالک کو براہ راست پہنچائی گئی ہیں۔

ان میں عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی جانب سے افغانستان، ایتھوپیا، کینیا، صومالیہ اور یمن میں جاری امدادی کارروائیوں میں براہ راست مدد دینے کے لئے بھیجی جانے والی تقریباً 600,000 میٹرک ٹن گندم بھی شامل ہے۔

خوراک کی رسد و طلب

اس پیش رفت اور گزشتہ موسم گرما میں انتہائی مہنگی ہو جانے والی خوراک کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ابھی اس معاملے میں مزید بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ امدادی خوراک فراہم کرنے کی کارروائیوں کو یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس اقدام کے تحت امونیا کی برآمد کے لئے کہا گیا ہے لیکن تاحال ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

گزشتہ مہینے بحیرہ اسود میں یوکرین کی بندرگاہوں کے ذریعے برآمدات میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ مارٹن گرفتھس نے روس، یوکرین، اقوام متحدہ اور ترکیہ کے مشترکہ تعاون مرکز (جے سی سی) میں بڑھتے ہوئے مشکل حالات اور کارروائیوں میں متعلقہ سست روی کو اس کا سبب بتایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں وجوہات کی بناء پر بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کا اقدام بہت اہم ہے اور فریقین کی جانب سے اس کی کارروائیوں کو ہموار اور مؤثر طریقے سے انجام دیے جانے کے عہد کی تجدید بھی اتنی ہی اہم ہے ۔

انہوں نے کہا وہ فریقین سے کہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں کیونکہ دنیا ہمیں امید سے دیکھ رہی ہے۔