انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان کی صورتحال انسانی حقوق کونسل میں زیر بحث

سوڈان میں جاری لڑائی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جان بچانے کے لیے ہمسایہ ممالک میں پناہ کے لیے ہجرت پر مجبور ہیں۔
© WFP/Peter Louis
سوڈان میں جاری لڑائی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جان بچانے کے لیے ہمسایہ ممالک میں پناہ کے لیے ہجرت پر مجبور ہیں۔

سوڈان کی صورتحال انسانی حقوق کونسل میں زیر بحث

انسانی حقوق

جینیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے رکن ممالک کے ہنگامی اجلاس میں سوڈان میں جاری پُرتشدد لڑائی اور انسانی مصائب زیربحث آئی ہے۔

اس موقع پر رکن ممالک نے ایک قرارداد کی مںظوری دی جس میں سوڈان میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کی تفصیلی نگرانی اور ان کے بارے میں اطلاع دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ کام ملک کے لئے اقوام متحدہ کے نامزد ماہر انجام دیں گے جو تشدد میں حالیہ اضافے کے حوالے سے اطلاعات بھی فراہم کریں گے۔

Tweet URL

یہ پیش رفت جنرل عبدالفتاح البرہان کی وفادار سوڈان کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور محمد ہمدان ڈیقلو کے زیرقیادت ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین تین ہفتے سے زیادہ دنوں سے جاری لڑائی کے بعد ہوئی ہے۔

اجلاس کا آغاز اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کیا۔ انہوں ںے ملک میں ''بے قابو تشدد'' کی مذمت کی جس کے باعث سوڈان کے لوگوں کو پہلے سے زیادہ بھوک، محرومی اور بے گھری کا سامنا ہے جبکہ دونوں متحارب فریقین نے ''بین الاقوامی انسانی قانون کو پامال کیا ہے۔''

امید سے انسانی الم تک کا سفر

وولکر ترک نے کونسل کو یاد دلایا کہ 2019 میں خواتین اور نوجوانوں کی مقبول احتجاجی تحریک کے نتیجے میں تین دہائی تک حکمران رہنے والے عمرالبشیر کی حکومت ختم ہونے کے بعد سوڈان ''امید کی کرن'' نظر آتا تھا۔ انہوں ںے چھ ماہ پہلے ملک کے اپنے دورے کے بارے میں بتایا جب سویلین حکومت کی جانب منتقلی یقینی دکھائی دیتی تھی۔ یہ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا سوڈان کا پہلا دورہ بھی تھا۔

اس وقت دونوں متحارب جرنیلوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ اس موقع پر انہوں ںے یہی پیغام دیا کہ وہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں احتساب اور انسانی حقوق کو مرکزی اہمیت دیں۔

انہوں نے کہا کہ ''آج بہت سا نقصان ہو چکا ہے، امیدیں اور لاکھوں لوگوں کے حقوق ختم ہو گئے ہیں۔''

اس لڑائی میں اب تک 600 سے زیادہ لوک ہلاک ہو چکے ہیں، 150,000 سے زیادہ سوڈان چھوڑ گئے ہیں اور 700,000 سے زیادہ اندرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں۔ آنے والے مہینوں کے دوران ملک میں ریکارڈ سطح کی بھوک پھیلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

فوری امن کا مطالبہ

ہائی کمشنر نے جنگ بندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ افریقن یونین، بین الحکومتی اتھارٹی برائے ترقی (آئی جی اے ڈی)، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی ''بھرپور'' سفارتی کوششوں کے باوجود ایس اے ایف اور آر ایس ایف کے رہنما لڑائی بند کرنے پر رضامند نہیں ہوئے۔ ہائی کمشنر نے متحارب فریقین سے کہا کہ وہ ''ایک مشمولہ سیاسی عمل اور مذاکرات کے نتیجے میں امن لانے کا فوری عزم کریں۔''

بعدازاں دوپہر کو کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اس مطالبے کو دہراتے ہوئے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کی ''تفصیلی'' نگرانی کے لئے کہا گیا جو انسانی حقوق کے حوالے سے حال ہی میں نامزد کردہ ماہر رادہوان نوئیسر کریں گے۔ وہ اپنا کام فوری طور شروع کر سکیں گے۔

اس قرارداد کے حق میں 18 اور مخالفت میں 15 ووٹ آئے جبکہ 14 ارکان غیرحاضر رہے۔

قرارداد میں لڑائی کے ''غیرمشروط طور پر'' فوری خاتمے اور تمام فریقین سے سویلین حکومت کی جانب منتقلی کا نیا عزم کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ قرارداد میں شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر احتساب یقینی بنانے کی فوری ضرورت کو بھی واضح کیا گیا ہے۔