انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: جان لیوا فضائی حملوں پر اقوام متحدہ افسردہ

کیرسون کے سٹیشن پر لوگ اپنے موبائل فون چارج اور وائی فائی استعمال کر رہے ہیں۔
© UNOCHA/Oleksandr Ratushniak
کیرسون کے سٹیشن پر لوگ اپنے موبائل فون چارج اور وائی فائی استعمال کر رہے ہیں۔

یوکرین: جان لیوا فضائی حملوں پر اقوام متحدہ افسردہ

امن اور سلامتی

یوکرین کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ملک میں فضائی اور زمینی حملوں میں درجنوں شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے پر ''صدمہ اور افسوس'' ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کیئو میں چار روز کے دوران تیسری مرتبہ فضائی حملے ہوئے ہیں۔ روس کے حکام کے مطابق یہ حملے بدھ کو صدر ولادیمیر پوتن کو ڈرون کے ذریعے قتل کرنے کی کوشش کے جواب میں کئے گئے۔

Tweet URL

یوکرین کے حکام نے ماسکو میں پیش آنے والے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کی صبح کیئو پر ہونے والا بڑا حملہ شہر کا فضائی دفاع کرنے والی فوج نے کسی نقصان کے بغیر پسپا کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی ساحلی شہر اوڈیسا میں ڈرون کے دھماکے ہوئے ہیں۔

امدادی رابطہ کار میتھیو ہولنگورتھ نے کہا ہے کہ ''ہمیں تقریباً ایک ہفتے سے رات کے وقت ہونے والے دھماکوں اور حملوں کے بعد شہریوں کی حالت زار پر شدید تشویش ہے۔ ان حملوں میں درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔''

حملوں میں اہم تنصیبات بھی تباہ ہو گئی ہے جس سے سنگین انسانی صورت حال مزید بگڑ گئی ہے۔

کیرسون میں تباہی

ہولنگورتھ نے کہا کہ ''کیرسون میں درجنوں لوگوں کا ہلاک و زخمی ہونا خاص طور پر تشویشناک ہے۔ یہ واقعات دن کے مصروف اوقات میں ٹرین سٹیشن پر اور ایک سپر مارکیٹ میں پیش آئے جہاں لوگ سودا سلف خرید رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق یوکرین کے جنوبی شہر میں روس کی بمباری کے نتیجے میں 20 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 45 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین انجینئر بھی شامل ہیں جو ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والی تنصیبات کی مرمت کر رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار نے کہا ہے کہ ''ہم ان خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے اور زخمیوں کی فوری صحت یابی کی خواہش رکھتے ہیں۔''

یوکرین کی فوج نے گزشتہ سال نومبر میں کیرسون شہر کو واپس لے لیا تھا جو آٹھ ماہ تک روس کے قبضے میں رہا۔ تاہم دریائے نیپرو کی دوسری جانب سے اس شہر پر بمباری متواتر جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق مشرقی یوکرین میں محاذ جنگ کے قریب ایک بجلی گھر بمباری کی زد میں آیا ہے۔ یوکرین کی حکومت کے مطابق اس حملے کے بعد قریباً ایک لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔

مارنیکا میں 'انسانی بحران'

فرحان حق نے مزید بتایا کہ ''یوکرین میں ہمارے ساتھیوں نے ڈونیسک کے علاقے میں مارنیکا کے قریب انسانی بحران کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ ان ساتھیوں کے مطابق علاقے میں قریباً 5,000 شہری پچھلے دو ماہ سے شدید زمینی لڑائی کا سامنا کر رہے ہیں۔''

امدادی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر 'او سی ایچ اے' نے خبردار کیا ہے کہ ''جنگ زدہ علاقوں میں بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے جہاں گزشتہ دو ماہ کے دوران شدید زمینی جنگ میں غیرمعمولی شدت آئی ہے۔''

'او سی ایچ اے' کے مطابق ہمسایہ علاقے کوراخوو اور وولیڈار کے 24,000 لوگ بھی جنگ اور محدود خدمات اور وسائل کے باعث بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں ڈونیسک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی پناہ لئے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے اب تک ان تینوں علاقوں میں تقریباً 15,000 ضرورت مند افراد کے لئے امدادی سامان کے 13 ٹرک پہنچائے ہیں۔