امن و سلامتی بڑھانے میں انسانی حقوق ’بہترین نسخہ‘: وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ انسانی حقوق تنازعات اور عدم استحکام کی روک تھام کے لئے ''بہترین تریاق'' ہیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان موجودہ اور نئے خطرات کے مقابل پائیدار امن ممکن بنانے کی خاطر اعتماد قائم کرنے کے لئے ادارے کی کوششوں کا جائزہ لینے کی غرض سے اکٹھے ہوئے تھے۔
اس موقع پر وولکر تُرک نے نیروبی سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ ''انسانی حقوق کی مکمل پاسداری عدم مساوات، غیرحل شدہ شکایات اور اخراج کے خلاف بہترین تریاق ہے اور یہی مسائل عدم استحکام اور تنازعات کی بنیادی وجہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ''آزمائش پر پورا اترنے والے اصولوں کی بنیاد پر انسانی حقوق پر مستقل مزاجی سے نظر رکھنے اور اس حوالے سے مضبوط اقدامات کی بدولت ہم افراتفری اور جنگ سے بچ سکتے ہیں، ترقی کا پہیہ آگے بڑھا سکتے ہیں اور اعتماد قائم کر سکتے ہیں۔''
'امن کا تسلسل'
ہیٹی اور سوڈان کے حالیہ بحرانوں کی مثالیں دیتے ہوئے وولکر تُرک کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل پر محیط ''امن کے تسلسل'' میں ہر سطح پر بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ، انسانی تعلقات اور عوام اور ریاستی اداروں کے مابین سماجی معاہدے کو مضبوط بنانے والا اعتماد تنازعات کی روک تھام اور پائیدار امن کی بنیاد ہے۔
انہوں ںے کونسل کو بتایا کہ ''درحقیقت یہ ہر طرح کے انسانی حقوق کے جامع فروغ کی بات ہے جس سے اعتماد قائم ہوتا ہے۔''
ہیٹی میں 'انسانی حقوق کی ہنگامی صورتحال'
وولکر تُرک نے بتایا کہ کیسے انسانی حقوق کا ایک پہلو بروقت انتباہ سے لے کر جنگ کے محرکات کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات تک 'امن کے تسلسل' کے تمام مراحل پر اثرانداز ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ''ہیٹی میں ابتدائی انتباہی علامات کی بدولت اعتماد اور استحکام پر عدم مساوات، بدعنوانی اور اخراج کے شدید تباہ کن اثرات کی تواتر سے نشاندہی ہوئی۔''
گزشتہ برس کونسل نے ہیٹی کو اسلحے کی برآمد پر پابندی عائد کی اور ملک کو گرفت میں لیتے مسلح جتھوں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف مخصوص پابندیاں عائد کیں، تاہم ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس وقت مزید اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
سوڈان میں اعتماد کا قیام
دریں اثنا، جب سوڈان میں تنازع شروع ہوا تو انسانی حقوق کی نگرانی کے عمل کو لوگوں پر اس کے اثرات پر مرتکز کرتے ہوئے مخالفت اور خوف کو بڑھاوا دینے والی گمراہ کن اطلاعات کی روک تھام کے لئے بھی کوشش کی گئی۔
وولکر تُرک نے کہا کہ سوڈان میں قریباً تین ہفتے سے متحارب فوجی دھڑوں کے مابین جاری لڑائی سویلین حکومت کی جانب منتقلی کی امیدوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
انہوں ںے کہا کہ ''ہم جانتے ہیں کہ سوڈان کے مستقبل کا انحصار سوڈان کے عوام اور ان اداروں کے مابین اعتماد کے قیام پر ہے جن کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔
انسانی حقوق، حقوق کی پامالی پر یقینی محاسبے اور عام لوگوں خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کی شرکت کے ذریعے حالیہ بحران سے نکلنے کا کام لیا جانا چاہیے تاکہ بالآخر سوڈان میں استحکام آ سکے۔''