انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نظام ہائے صحت میں کووڈ۔19 کے بعد پہلی دفعہ بہتری کے آثار

انڈیا کے علاقے چتراکوٹ کے ہسپتال میں ایک نرس ماں کے دودھ کی افادیت بتا رہی ہیں۔
© UNICEF/Prashanth Vishwanathan
انڈیا کے علاقے چتراکوٹ کے ہسپتال میں ایک نرس ماں کے دودھ کی افادیت بتا رہی ہیں۔

نظام ہائے صحت میں کووڈ۔19 کے بعد پہلی دفعہ بہتری کے آثار

صحت

اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق کووڈ۔19 وبا کے آغاز سے تین سال بعد بیشتر ممالک کے نظام ہائے صحت میں بحالی کی ابتدائی بڑی علامات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس وبا سے کروڑوں لوگ متاثر ہوئے اور دنیا بھر میں لاکھوں ہلاکتیں ہوئیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں مربوط طبی خدمات کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر روڈی ایگرز نے کہا ہے کہ ''یہ ایک خوش آئندہ خبر ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں نظام ہائے صحت نے ان لاکھوں لوگوں کے لئے طبی خدمات کی بحالی شروع کر دی ہے جو وبا کے دوران ان سے محروم ہو گئے تھے۔

Tweet URL

لیکن ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ تمام ممالک طبی خدمات کی بحالی کے لئے یہ فرق ختم کریں اور وبا سے حاصل ہونے والے اسباق کو مستقبل میں مزید مستعد اور مضبوط نظام ہائے صحت کی تعمیر کے لئے استعمال کریں۔''

بحالی اور استحکام کے لئے سرمایہ کاری

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے اپنی نئی شائع ہونے والی عبوری رپورٹ 'کووڈ۔19 وبا کے دوران صحت کی ضروری خدمات کے تسلسل پر عالمگیر طبی جائزے کا چوتھا دور: نومبر 2022 تا جنوری 2023'' میں بتایا ہے کہ رواں سال کے اوائل میں ممالک نے معمول کی طبی خدمات کی فراہمی میں خلل کم ہونے کی اطلاعات دیں لیکن اس کے ساتھ انہوں نے بحالی اور مستقبل کے لئے مضبوط تر استحکام کی ضرورت کو بھی واضح کیا۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس سروے میں شریک 139 ممالک میں سے تقریباً ایک چوتھائی میں طبی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے متواتر خلل سامنے آیا۔ 84 ممالک میں،جہاں اس رحجان کا تجزیہ ممکن ہے، جولائی سے ستمبر 2020 میں خلل کا سامنا کرنے والی 56 فیصد طبی خدمات کی تعداد کم ہو کر جنوری 2023 میں 23 فیصد تک رہ گئی تھی۔

سروے میں اپنے تجربات بیان کرنے والے ممالک نے کووڈ۔19 کے تناظر میں اور اس سے ہٹ کر باقیماندہ مسائل سے نمٹنے کے لئے ڈبلیو ایچ او کی مدد کی ضرورت کا اظہار بھی کیا۔ اس کا زیادہ تر تعلق طبی افرادی قوت کو مضبوط بنانے، طبی خدمات کی نگرانی کی صلاحیتیں پیدا کرنے اور بنیادی طبی نگہداشت کی منصوبہ بندی سے ہے۔

ملاوی میں ایک ہیلتھ ورکر کووڈ۔19 ویکسین لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔
© UNICEF/Thoko Chikondi
ملاوی میں ایک ہیلتھ ورکر کووڈ۔19 ویکسین لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔

قبل از وبا معیارات

2022 کے آخر تک بیشتر ممالک نے طبی خدمات کی بحالی کی جزوی علامات سامنے آںے کی اطلاع دی۔ اس میں جنسی، تولیدی، زچہ بچہ، بچوں اور بالغوں کی صحت سے متعلق خدمات، غذائیت، حفاظتے ٹیکے اور متعدی بیماریوں (بشمول ملیریا، ایچ آئی وی اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی دیگر بیماریاں) کا علاج شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ نئے جائزے میں بہت کم تعداد میں ممالک نے 2020 سے 2021 تک خدمات کی فراہمی کے تمام پلیٹ فارمز اور صحت عامہ سے متعلق ضروری اقدامات تک رسائی میں دانستہ کمی کرنے کے بارے میں بتایا۔ یہ طبی خدمات کی فراہمی کی وبا سے پہلے والی سطح کی جانب واپسی کے حوالے سے ایک اہم قدم اور وسیع تر طبی نظام کے فعال ہونے کا اظہار ہے۔

علاوہ ازیں طبی اشیا کی ترسیل کے قومی نظام میں خلل کی اطلاع دینے والے ممالک کی تعداد گزشتہ برس تقریباً نصف (56 میں سے 29) سے کم ہو کر ایک چوتھائی (66 میں سے 18) تک آ گئی۔

ادھورے کام کی تکمیل، خدمات میں خلل

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بحالی کی علامات کے باجود طبی خدمات کی فراہمی میں آنے والا خلل تمام خطوں میں اور ہر طرح کی آمدنی والے ممالک میں موجود ہے جو بیشتر طبی خدمات کی فراہمی اور تشخیصی شعبے میں بھی پایا جاتا ہے۔

طلب و رسد کے معاملات اس رحجان کو تقویت دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کی جانب سے طبی خدمات کے حصول میں کمی سے لے کر طبی کارکنوں اور کھلے ہسپتالوں یا ادویات اور اشیا کے دستیاب ذخیرے جیسے متعلقہ وسائل کی دستیابی جیسی صورتوں میں طبی خدمات میں مستقل خلل موجود ہے۔

ممالک طبی خدمات کی فراہمی میں بڑھتے ہوئے ادھورے پن سے نمٹنے کے لئے بھی کوشاں ہیں جو عام طور پر غیرمتعدی بیماریوں کی جانچ، تشخیص اور علاج میں سامنے آتا ہے اور جس کے منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں کیونکہ لوگوں کو بروقت علاج تک رسائی نہیں ملتی۔