انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امن کوششوں کے 75 سال: یو این ہیڈکوارٹرز میں تصویری نمائش

لائبیریا میں امن دستوں کے ساتھ خدمات سرانجام دینے والی چین کی ایک پولیس افسر گشت کے دوران بچوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے
UN Photo/Albert Gonzalez Farran
لائبیریا میں امن دستوں کے ساتھ خدمات سرانجام دینے والی چین کی ایک پولیس افسر گشت کے دوران بچوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے

امن کوششوں کے 75 سال: یو این ہیڈکوارٹرز میں تصویری نمائش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے زیراہتمام قیام امن کی کارروائیوں کو 75 سال مکمل ہونے پر ایک نئی تصویری نمائش سوموار کو ادارے کے ہیڈکوارٹر میں شروع ہوئی جس میں قیام امن کے لئے کام کرنے والے فوجی و غیرفوجی اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

قیام امن کی کارروائیوں کے لئے اقوام متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل جین پیئر لاکواء نے کہا ہے کہ ''75 سال سے قیام امن کے لئے جاری کارروائیوں کی بدولت جنگوں کے خاتمے، عام لوگوں کو تحفظ دینے، مسائل کے سیاسی حل نکالنے اور پائیدار امن ممکن بنانے میں مدد ملی ہے۔''

Tweet URL

ان کا کہنا ہے کہ ''قیام امن کے لئے کام کرنے والے اہلکار دراصل عام لوگ ہیں جو غیرمعمولی نتائج کے حصول کے لئے مشکل اور خطرناک حالات میں فرائض انجام دیتے ہیں۔ ممالک کی جنگ سے امن کی جانب مشکل راہ پر کے لئے ان کی کوششوں کے نتائج کا لائبیریا، نمیبیا، کمبوڈیا، سیرالیون اور ٹیمور۔لیسٹے میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ نمائش ایک سال پر محیط مہم ''امن مجھ سے شروع ہوتا ہے'' کا حصہ ہے جس کا مقصد قیام امن کے لئے اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کے کام کے ان لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے موثر اثرات سامنے لانا ہے جو تباہ کن مسلح تنازعات کا شکار ہیں۔

اس نمائش میں پہلی مرتبہ 1948 میں مشرق وسطیٰ میں فوجی مبصرین کی تعیناتی سے لے کر اِس وقت دنیا بھر میں جاری 12 امن کارروائیوں تک بہت سی تصاویر میں ان اہلکاروں کے پیچیدہ اور متنوع کام کو دکھایا گیا ہے جنہوں ںے دنیا بھر میں سیاست اور سلامتی کے اعتبار سے انتہائی نازک سیاسی حالات میں فرائض انجام دیے ہیں۔

جنوبی سوڈان میں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کے لئے قائم کردہ کیمپوں کی حفاظت سے لے کر جمہوریہ کانگو میں انتخابات اور قبرص میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے بہت اہم کام تک یہ تصاویر قیام امن کی کارروائیوں میں شریک 'بلیو ہیلمٹ'، پولیس اور غیرفوجی اہلکاروں کی جانب سے ضرورت مند لوگوں کو مہیا کی جانے والی ناگزیر مدد کی عکاسی کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے زیراہتمام قیام امن کی کارروائیوں کے سربراہ نے کہا کہ ''ہم اپنی ان مہمات میں اکیلے نہیں ہیں۔ امن کے لئے اجتماعی کوششوں میں بہت سے شراکت دار بھی ہمارے شانہ بشانہ کام کرتے ہیں جن میں مقامی لوگ، خواتین اور نوجوان، سول سوسائٹی، امدادی ادارے، میزبان حکومتیں اور رکن ممالک کی جانب سے فراہم کردہ فوجی دستے اور پولیس شامل ہیں۔ ہم قیام امن کے اس کام کی پوری تاریخ میں مہیا کردہ مدد پر ان کے شکرگزار ہیں اور ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے عزم پر قائم رہیں کیونکہ ہمیں اب پہلے سے کہیں بڑے مسائل درپیش ہیں۔''

امن دستے کی پاکستانی ارکان اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی میں سلامی پیش کرتے ہوئے جہاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے قیام امن پر خطاب کیا تھا۔
UN Photo/Mark Garten
امن دستے کی پاکستانی ارکان اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی میں سلامی پیش کرتے ہوئے جہاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے قیام امن پر خطاب کیا تھا۔

امن کوششوں کے 75 سال

نمائش ''امن مجھ سے شروع ہوتا ہے'' سوموار کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جنرل اسمبلی کے اندر مہمانوں کی لابی میں شروع ہوئی جو 6 جون تک جاری رہے گی۔ یہ نمائش یہاں آن لائن بھی دستیاب ہے جو قیام امن کے لئے کام کرنے والوں کی قربانیوں، ان کی بے شمار کامیابیوں اور ان کی میراث کی عکاس ہے۔ اقوام متحدہ کے زیراہتمام قیام امن کے لئے کی جانے والی چند نمایاں کاوشیں درج ذیل ہیں۔

  • قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کی کارروائیاں شہریوں کی حفاظت، مسلح تنازعات کی روک تھام اور انسانی حقوق کے فروغ جیسی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔
  • قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کے مشن لوگوں کو عملی مدد مہیا کرنے، خواتین کو بااختیار بنانے اور ان ممالک میں سلامتی کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے بھی کام کرتے ہیں جہاں انہیں تعینات کیا گیا ہوتا ہے۔  
  • 1948 سے اب تک 125 ممالک سے تعلق رکھنے والے قیام امن کے 20 لاکھ سے زیادہ اہلکاروں نے 71 مختلف کارروائیوں میں خدمات انجام دی ہیں۔
  • 2023 میں 87,000 سے زیادہ خواتین اور مرد افریقہ، ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا شکار علاقوں میں قیام امن کے لئے کام کر رہے ہیں۔
  • اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے قیام امن کے لئے کام کرنے والے 42,000 سے زیادہ لوگ بے لوث انداز میں جان کی قربانی دے چکے ہیں۔

قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کی کارروائیوں کے بارے میں یہاں مزید جانیے۔