زرعی شعبہ میں صنفی ناہمواریوں سے 1 ٹریلین ڈالر کا نقصان: ایف اے او
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے کہا ہے کہ غذائی اور زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو صنفی اعتبار سے یکساں مواقع دیے جانے سے ترقی اور لاکھوں لوگوں کو خوراک کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔
دنیا بھر کی افرادی قوت میں شامل خواتین کا ایک تہائی زرعی غذائی شعبوں میں ملازمت کرتا ہے جس میں غذائی اور غیرغذائی زرعی اشیا کی پیداوار بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ خواتین خوراک ذخیرہ کرنے، اس کی نقل وحمل، خوراک کی پراسیسنگ اور تقسیم تک متعدد متعلقہ شعبوں میں بھی ملازم ہیں۔
تاہم ایف اے او نے ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ علم اور وسائل تک خواتین کی کمتر رسائی جیسی صںفی عدم مساوات اور گھریلو کاموں کا بلامعاوضہ بھاری بوجھ ایک جیسے سائز کے کھیت میں خواتین اور مرد کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں 24 فیصد فرق کے ذمہ دار ہیں۔
زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو اپنے مرد ساتھیوں کے مقابلے میں قریباً 20 فیصد کم اجرت ملتی ہے۔
ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ ''اگر ہم زرعی غذائی نظام میں صنفی عدم مساوات کی وبا پر قابو پا لیں اور خواتین کو بااختیار بنا دیں تو غربت کے خاتمے اور بھوک سے آزاد دنیا ممکن بنانے کے اہداف کی جانب بہت بڑی پیش رفت کر سکتے ہیں۔
ایف اے او کے مطابق ہم کھیتوں سے پیداوار کے حصول کے عمل اور زرعی ملازمتوں میں اجرتوں کے حوالے سے صںفی فرق ختم کر کے ''عالمگیر مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) میں قریباً ایک ٹریلین ڈالر سالانہ اضافہ کرنے اور غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی تعداد میں تقریباً 45 ملین تک کمی لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
ساختیاتی عدم مساوات
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین، خدمات، قرض اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی کے اعتبار سے خواتین مردوں سے پیچھے ہیں جبکہ گھریلو کاموں کا بلامعاوضہ بوجھ ان کے لیے تعلیم، تربیت اور ملازمت کے مواقع کو محدود کر دیتا ہے۔ ایف اے او نے بتایا ہے کہ امتیازی سماجی رسوم و روایات علم، وسائل اور سماجی نیٹ ورکس تک رسائی میں حائل صںفی رکاوٹوں کو مضبوط کرتی ہیں اور خواتین کو زرعی غذائی شعبے میں مساوی کردار ادا کرنے سے محروم رکھتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''بہت سے ممالک میں یہ یقینی بنانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کہ خواتین کے پاس مردوں کے مساوی تناسب سے زمین کی ملکیت ہو اور ان کے حقوق کو قانونی تحفظ حاصل ہو۔ رپورٹ کے مصنفین نے مویشیوں کی ملکیت اور آبپاشی کے ذرائع اور کھادوں جیسی ضروری چیزوں تک خواتین کسانوں کی رسائی کے حوالے سے مثبت تبدیلی کی سست رفتار کو ''تشویشناک'' قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زرعی غذائی شعبوں میں ''خواتین کے کردار عموماً پسماندہ اور ان کے کام کے حالات ممکنہ طور مردوں کے مقابلے میں بہت برے ہوتے ہیں۔ یہ خواتین عام طور پر بے قاعدہ، غیررسمی، وقتی اور ایسے شعبوں میں کام کرتی ہیں جہاں ہنر کی ضرورت نہیں ہوتی یا زیادہ مشقت کرنا پڑتی ہے۔
ترقی میں اضافہ، بھوک کا خاتمہ
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے مطابق ''زرعی غذائی شعبوں میں خواتین کی مکمل اور مساوی ملازمتوں کی راہ میں حائل مسائل ان کی پیداوار صلاحیت کو روکے رکھتے ہیں اور اجرتوں میں فرق کو برقرار رکھتے ہیں۔''
رپورٹ کے مطابق کھیتوں میں پیداواری صلاحیت اور زرعی اجرتوں کے معاملے میں مساوی مواقع یقینی بنانے سے عالمی سطح پر مجموعی داخلی پیداوار میں ایک فیصد یا تقریباً ایک ٹریلین ڈالر اضافہ ہو جائے گا اور غذائی عدم تحفظ میں دو فیصد کمی آئے گی جس سے 45 ملین لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔
یہ ایسے وقت میں ایک حیران کن پیش گوئی ہے جب عالمی سطح پر بھوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں 345 ملین سے زیادہ لوگوں کو اس سال بحرانی درجوں کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہے گا۔ یہ 2020 کے اوائل کے مقابلے میں 200 ملین زیادہ بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے 43 ملین لوگ قحط کے دھانے پر ہیں۔
غیراستعمال شدہ صلاحیتیں
رپورٹ کے مصنفین نے یہ بھی بتایا ہے کہ خاص طور پر خواتین کو بااختیار بنانے والے زرعی منصوبوں کے وسیع معاشی و سماجی فوائد ہوتے ہیں۔
ایف اے او کے مطابق ''اگر خواتین کو بااختیار بنانے کے ترقیاتی اقدامات سے چھوٹے کسانوں کی نصف تعداد کو ہی فائدہ پہنچے تو تب بھی مزید 58 ملین لوگوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو گا اور 235 ملین مزید لوگ معاشی طور پر مضبوط ہو جائیں گے۔
بعض ترقی پذیر ممالک میں زرعی غذائی شعبوں میں خواتین کی ملازمتوں کا حجم مساوات کو فروغ دینے کے اقدامات کے ممکنہ اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جنوبی ایشیا میں خواتین کی مجموعی افرادی قوت کا 71 فیصد زرعی غذائی شعبے میں کام کرتا ہے جبکہ مردوں کی مجموعی افرادی قوت کا 47 فیصد اس شعبے میں ملازم ہے۔