انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نامساعد حالات کے باوجود طالبان کے ساتھ رابطہ برقرار رہے گا: یونیما

امدادی سرگرمیوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کی خواتین اہلکار مشرقی صوبے ننگرہار میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ایک خاندان کے ساتھ.
© UNOCHA/Charlotte Cans
امدادی سرگرمیوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کی خواتین اہلکار مشرقی صوبے ننگرہار میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ایک خاندان کے ساتھ.

نامساعد حالات کے باوجود طالبان کے ساتھ رابطہ برقرار رہے گا: یونیما

انسانی حقوق

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے طالبان حکام کی طرف سے خواتین پر اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے پر پابندی کے فیصلے کی ایک بار پھر بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عوام پر اس اقدام کے منفی نتائج کی ذمہ داری کابل کے موجودہ حکمرانوں پر ہوگی۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن یونیما کے مطابق یہ تازہ اقدام افغانستان میں خواتین کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے خارج کرنے اور ان کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھنے کی طالبان حکام کی پہ درپے پہ کوششوں کی ایک کڑی ہے۔

Tweet URL

یونیما نے اس پابندی کو اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے  کی تعمیل نہیں کریں گے۔ ’اس پابندی کے ذریعے طالبان حکام اقوام متحدہ کو مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کے لیے اپنے چارٹر اور فرائض پر سمجھوتہ کرے۔‘

سرگرمیوں کا جائزہ

اس موقع پر افغانستان کے لیے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ اور یونیما کی سربراہ روزا اوتن بائیوا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال  5 مئی تک اپنے مشن کے آپریشنل معاملات کا ازسرنو جائزہ لیں گی تاکہ تمام ممکنہ نتائج کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کے عمل کو تیز کیا جائے۔ اس دوران افغانستان میں اقوام متحدہ کے تمام عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ دفتر نہ آئے ماسوائے انتہائی ضروری فرائض کی انجام دہی کے لیے۔

طالبان حکام کے ان نامناسب اقدامات کے باوجود اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے احکامات کی روشنی میں کابل کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ ہر ممکنہ سطح پر اصولی اور تعمیری روابط کو برقرار رکھےگا۔

اقوام متحدہ جنوری 2022 میں بین الادارتی قائمہ کمیٹی کے بیان کردہ انسانی اصولوں اور معیارات کے مطابق زندگی بچانے والی اہم انسانی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کرے گا اور خواتین کے کام پر پابندی لگانے کے نتائج کا بغور جائزہ لیتے رہے گا۔ یونیما کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کی مصروفیات ہمیشہ انسانی خدمت کے جذبے کے تحت نیک نیتی کے ساتھ انجام دی گئی ہیں۔

امتیازی قوانین

اگست 2021 میں دارالحکومت کابل پر  طالبان کے قبضے کے بعد سے اب تک نامساعد حالات کے باوجود اقوام متحدہ نے افغان عوام کے مصائب کی شدت کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

خواتین پر اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے پر پابندی لگانے سے پہلے طالبان حکام ان کے غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے ساتھ کام کرنے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کی ثانوی و ثلاثی تعلیم پر بھی طالبان حکام نے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔