انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امن اور ترقی میں کھیلوں کے کردار کے اعتراف کا عالمی دن

یونیسف نے معذور افراد کو کھیلوں میں شریک کرنے کے لیے موزمبیق میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔
© UNICEF/Julio Dengucho
یونیسف نے معذور افراد کو کھیلوں میں شریک کرنے کے لیے موزمبیق میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

امن اور ترقی میں کھیلوں کے کردار کے اعتراف کا عالمی دن

پائیدار ترقی کے اہداف

ترقی و امن کے لیے کھیلوں کے کردار سے متعلق عالمی دن پر اقوام متحدہ کے جاری کردہ ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ کھلاڑی کھیل کے میدان میں اور اس سے باہر مزید مساوی دنیا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

یہ دن 10 سال سے منایا جا رہا ہے جو دنیا بھر میں معاشروں اور لوگوں کی زندگی میں کھیلوں کے مثبت کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

Tweet URL

کووڈ۔19 کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ اس دن کے حوالے سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام ایک پروگرام میں لوگوں نے بالمشافہ شرکت کی۔ اس پروگرام میں اعلیٰ درجے کے اور شوقیہ کھلاڑیوں، کھیلوں کی صنعت کے ماہرین، سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے حکام نے شرکت کی۔ 'لوگوں اور زمین کے لیے سکور' رواں سال اس دن کا موضوع ہے۔

رواداری اور شمولیت کا فروغ

اس موقع پر اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی امور کے شعبے (ڈی ای ایس اے) کے جان ولموتھ نے کہا کہ کھیلیں خواہ تفریحی ہوں یا مسابقتی، یہ لوگوں کو متحد کرتی ہیں اور ثقافتی، نسلی اور قومی تفریق کو پاٹتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''کھیل رواداری اور احترام، شمولیت، تنوع اور صنفی مساوات کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے عمل انگیز کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔

ہمیں یہ یقینی بنانے کے لیے اکٹھے کام کرنا ہو گا کہ خاص طور پر نوجوانوں، معمر افراد، معذور افراد، مقامی لوگوں اور دیگر پسماندہ گروہوں سمیت کوئی بھی کھیلوں کی سرگرمیوں میں پیچھے نہ رہے۔''

'نوجوانوں کے لیے مثال قائم کریں'

اس موقع پر فٹ بال کے معروف کھلاڑی ڈیڈیئر ڈروگبا نے ایک ویڈیو پیغام میں امن کے فروغ میں کھیلوں کا بنیادی کردار یاد دلایا۔

فٹ بال کے سابق سٹرائیکر اور صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایچ او کے خیرسگالی سفیر کا کہنا تھا کہ ''کھیلوں کی دنیا بشمول کھلاڑیوں کو بالخصوص نوجوانوں کے لیے مثال قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔''

اس موقع پر بات چیت کے ادوار ہوئے، کھلاڑیوں کے حقوق اور ان کے اثرات، تنوع، مساوات اور شمولیت کے حصول، صنف، نسل اور میڈیا کے تبدیل ہوتے منظر نامے اور موسمیاتی اقدامات جیسے پیچیدہ امور کا جائزہ لیا گیا۔

مشترکہ اقدار کا تبادلہ

کلیدی بات چیت میں فٹ بال کے ایک اور مشہور کھلاڑی حاویئر زینیٹی نے بھی شرکت کی جو اس وقت انٹرمیلان کلب کے نائب صدر ہیں۔

اٹلی کا یہ کلب 30 ممالک میں ایک سماجی پروگرام چلاتا ہے جس کے تحت کھیلوں کی اقدار اور فٹ بال کو ایک تعلیمی ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے 10,000 سے زیادہ نوجوانوں کو آگاہی دی گئی ہے۔

اس پروگرام میں شرکت کرنے والے بعض لڑکے اور لڑکیاں بھی اس موقع پر موجود تھے جنہوں نے فخریہ طور سے انٹرمیلان کے کیمپس کی نیلی اور سیاہ یونیفارم زیب تن کر رکھی تھیں۔

حاویئر زینیٹی نے ترجمان کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''اپنی اقدار اور اپنے کام کے طریقہ کار سے کہیں بڑھ کر ہمارا مقصد نوجوانوں کو ملکیت کا احساس دینا ہے۔

فٹ بال کے مشہور کھلاڑی حاویئر زینیٹی نے بھی تقریب میں شرکت کی جو اس وقت انٹرمیلان کلب کے نائب صدر ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe
فٹ بال کے مشہور کھلاڑی حاویئر زینیٹی نے بھی تقریب میں شرکت کی جو اس وقت انٹرمیلان کلب کے نائب صدر ہیں۔

تبدیلی کا راستہ

زینیٹی ارجنٹائن کے ایک غریب علاقے میں پلے بڑھے تھے لیکن فٹ بال کے لیے ان کا جذبہ اور کڑی محنت انہیں انٹرمیلان لے گئے جہاں وہ دنیا کے ایک مقبول ترین کھلاڑی بنے۔

انہوں نے کھیلوں کی طاقت اور اس کے دور رس امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کیسے کھیلوں نے انہیں پوری دنیا سے روشناس کرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں دوسروں کو انسانی اقدار سے روشناس کرانے اور ہر طرح کی تفریق اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے اور دنیا کے ہر حصے میں اور ہر جگہ ترقی پر مرکوز منصوبوں کو لے کر چلنے کی ضڑورت ہے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا میں تبدیلی آ سکتی ہے۔''

باسکٹ بال کی پیشہ ور کھلاڑی بیٹولی کامارا نے مسلمان لڑکی کے طور پر پرورش پانے اور نیویارک سٹی میں گنی کے لوگوں کی پہلی نسل تعلق ہونے کے ناطے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا۔
UN Photo/Eskinder Debebe
باسکٹ بال کی پیشہ ور کھلاڑی بیٹولی کامارا نے مسلمان لڑکی کے طور پر پرورش پانے اور نیویارک سٹی میں گنی کے لوگوں کی پہلی نسل تعلق ہونے کے ناطے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا۔

'اخلاقی ذمہ داری'

مزید شمولیت کے موضوع پر بات چیت کے دوران باسکٹ بال کی پیشہ ور کھلاڑی بیٹولی کامارا نے مسلمان لڑکی کے طور پر پرورش پانے اور نیویارک سٹی میں گنی کے لوگوں کی پہلی نسل تعلق ہونے کے ناطے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا جہاں انہوں نے 11 سال کی عمر سے باسکٹ بال کھیلنا شروع کیا تھا۔

جب وہ کالج میں زیر تعلیم تھیں تو انہوں نے گنی میں نوجوان لڑکیوں کے لیے باسکٹ بال کے کیمپوں کا انعقاد شروع کیا جہاں ان کی ملاقات ایک ایسی نوجوان لڑکی سے ہوئی جنہوں نے ان کی زندگی بدل دی۔

بعدازاں کامارا نے خواتین اور لڑکیوں کو کامیابی کے لیے رسائی، وسائل اور مواقع کی فراہمی کے اپنے ''اخلاقی فرض'' کے تحت 'خواتین اور بچوں کی بااختیاری' (ڈبلیو اے کے ای) نامی ادارہ قائم کیا جس کے کیمپس انڈیا، فرانس اور امریکہ میں بھی کام کر رہے ہیں۔