مذہبی تہواروں کے اکٹھے ہونے پر گوتیرش کا پیغامِ امن
اس ہفتے بیک وقت رمضان، ایسٹر اور عید فسح کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دنیا بھر میں تمام عقائد کے پیروکاروں سے کہا ہے کہ وہ ''امن کے لیے مشترکہ دعا میں ہم آواز ہوں''۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے امن کی درخواست کی ہے کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں امن کا ''غیرمعمولی فقدان'' ہے۔
انہوں ںے یہ بات مسائل کا شکار مسلمان ملک کے دورے سے قبل یو این نیوز کی عربی سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ سیکرٹری جنرل ہر سال رمضان میں ایسے کسی ایک مسلمان ملک کے دورے پر جاتے ہیں۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ''میں سمجھتا ہوں یہ ہم سب کے لیے امن کی خاطر متحد ہونے کا موقع ہے۔ ہمارے پاس دنیا میں جو چیز سب سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے وہ امن ہے ۔''
قیمتی امن
''لہٰذا یہ ان لوگوں کی خاطر متحدہ ہونے کا وقت ہے جو مختلف انداز اور طریقہ ہائے اظہار سے خدا پر یقین رکھتے ہیں اور یہ امن کے لیے مشترکہ دعا میں ان کے ساتھ ہم آواز ہونے کا موقع ہے۔''
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے رمضان کے دوران یکجہتی دوروں کی روایت اس وقت شروع کی تھی جب وہ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی حیثیت سے 'یو این ایچ سی آر' کی سربراہی کر رہے تھے۔ وہ 2017 میں اقوام متحدہ کی سربراہی سنبھالنے سے پہلے دس سال تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔
انہوں نے یو این نیوز کی نمائندہ ریم عبازہ کو بتایا کہ ''پناہ گزینوں اور مہاجرین کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی اور بے پایاں فیاضی اور یکجہتی سے ان کی میزبانی کرنے والے لوگوں کی اکثریت بھی مسلمان تھی۔'' ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے تحفظ سے متعلق 1951 کا کنونشن قرآن مجید کی روحانی اقدار سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔
اظہار یکجہتی کے لیے روزہ
انہوں نے کہا کہ 'یو این ایچ سی آر' کے سربراہ کی حیثیت سے پناہ گزینوں کے کیمپوں یا بستیوں کے سالانہ دوروں میں انہوں نے لوگوں سے اظہار یکجہتی کے لیے روزے بھی رکھے اور ان دوروں سے انہیں پناہ گزینوں کے میزبان لوگوں کی فیاضی کو سامنے لانے کا موقع بھی ملا۔
انہوں نے کہا کہ ''جب میں اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل بنا تو میں نے سوچا کہ یہ روایت برقرار رہنی چاہیے اور اب یہ پناہ گزین لوگوں پر نہیں بلکہ مصائب کا شکار مسلمانوں پر مرکوز ہے۔''
اسلام کا حقیقی چہرہ
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان برسوں میں مسلمانوں کے ساتھ رمضان میں روزہ رکھنے سے انہیں کون سی بصیرت حاصل ہوئی تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس سے انہیں ''اسلام کے حقیقی چہرے'' سے شناسائی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ''میں نے پناہ گزینوں کے میزبان معاشروں میں امن، یکجہتی اور فیاضی کے جس احساس کا مشاہدہ کیا اور خود پناہ گزینوں میں جس قوت اور ہمت کو دیکھا وہ میرے لیے بہت متاثر کن تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے آج میں جو کچھ بھی کرتا ہوں اس میں مجھے ان تجربات سے بہت بڑی تحریک ملتی ہے۔''