انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پائیدار ترقی کے لیے ماحول دوست صنعتی انقلاب ضرروی ہے

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ اور دلی کے درمیان ایکسپریس وے پر کام شروع ہوچکا ہے۔
© ADB/Eric Sales
انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ اور دلی کے درمیان ایکسپریس وے پر کام شروع ہوچکا ہے۔

پائیدار ترقی کے لیے ماحول دوست صنعتی انقلاب ضرروی ہے

پائیدار ترقی کے اہداف

اقوام متحدہ نے دنیا میں ترقی کے بڑھتے ہوئے تفاوت کو ختم کرنے، آب و ہوا میں بہتری لانےکے اہداف کو پورا  کرنے اور 2030 کے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لیے صنعتی شعبے میں ماحول دوست تبدیلیاں لانے پر زور دیا ہے۔

یوکرین پر روس کے  حملے، غیر یقینی عالمی اقتصادی صورتحال، اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے پیدا ہونے والے خوراک اور توانائی کے بحرانوں کے درمیان پائیدار ترقی کے لیے وسائل کی فراہمی پر اس سال کی رپورٹ کے مطابق بجلی کی فراہمی کی صنعت، زراعت، نقل و حمل اور تعمیرات میں ماحول دوست بدلاؤ کے لیے فوری سرمایہ کاری کی ضرروت ہے۔

Tweet URL

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پائیدار ترقی کے کچھ آثار نظر  آ رہے ہیں جن سے دنیا کے تمام ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور  ایس ڈی جیز کے حصول کے لیے ایک حقیقت پسندانہ پلیٹ فارم تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹ میں انٹرنیٹ کے استعمال میں غیر معمولی پھیلاؤ جس میں ہر گھنٹے 38,000 سے زیادہ نئے صارفین آن لائن ہو رہے ہیں کو خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔

الٹا سفر

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے رپورٹ کے پیش لفظ میں کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک پائیدار ترقی حصول میں درکار سرمایہ کاری اور اپنی توانائی اور خوراک کے نظام کو تبدیل کرنے کے مطلوبہ ذرائع کی کمی کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ امیر اور غریب ممالک کے درمیان ترقی کا واضح فرق ہر ملک کے لیے خطرے کا حامل ہے جسے کم کرنے کے لیے فوری طور پر عالمی تعاون اور موجودہ بحرانوں کے حل کے لیے کثیرالفریقی کاوشوں کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کچھ ضروری تبدیلیاں پہلے ہی اثر پذیر ہیں۔ مثلاً یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران نے توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی ہے، جو 2022 میں ریکارڈ 1.1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

اسی طرح 2022 میں توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری پہلی بار معدنی ایندھن کے شعبے میں سرمایہ کاری سے زیادہ رہی، لیکن یہ رحجان کم و بیش صرف چین اور ترقی یافتہ ممالک میں ہی دیکھا گیا۔

وسائل کی کمی

رپورٹ میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بیشتر ترقی پذیر ممالک کے پاس پائیدار ترقی کے ذرائع پر سرمایہ کاری کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی، یوکرین میں جنگ، کووڈ۔19 وباء، اور 2019 کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگیوں میں دوگنا اضافے نے مل کر اکثر ترقی پذیر ممالک پر بڑے پیمانے پر مالی دباؤ ڈالا ہے، جس سے معاشی شعبے میں ماحول دوست بدلاؤ لانے کی صلاحیت انتہائی محدود ہو گئی ہے۔

کووڈ۔19 وباء کے بعد کیے گئے اخراجات کے ایک تقابلی جائزے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں اوسطاً 12,200 ڈالر فی کس تھا، جو ترقی پذیر ممالک کے 410 ڈالر فی کس کے مقابلے میں 30 گنا اور کم ترین ترقی یافتہ ممالک کے 20 ڈالر فی کس کے مقابلے میں 610 گنا زیادہ ہے۔

زیمبیا میں خواتین کھیتی باڑی سیکھ رہی ہیں۔
© UNICEF/Karin Schermbrucker
زیمبیا میں خواتین کھیتی باڑی سیکھ رہی ہیں۔

'ہمیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے'

اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا ہے کہ ایس ڈی جیز میں سرمایہ کاری کو بڑھاتے ہوئے ایک اصلاح شدہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کے قیام کے بغیر پائیدار ترقی کے 2030کے ایجنڈے پر عملدرآمد کا مشترکہ عزم پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔

امینہ محمد کے مطابق اچھی خبر یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔ توانائی، خوراک اور تعلیم میں اہم تبدیلیوں کے آغاز سے لے کر ایک نئے ماحول دوست صنعتی اور ڈیجیٹل دور کے آغاز پر نہ صرف اپنی رفتار تیز کرنی ہے بلکہ کسی کو پیچھے بھی نہیں چھوڑنا۔

صنعت کاری روایتی طور پر اقتصادی ترقی کا انجن رہی ہے، لیکن رپورٹ میں "پائیدار صنعتی پالیسیوں کے نئے دور" کا مطالبہ کیا گیا ہے جس سے مربوط قومی منصوبہ بندی کے ذریعے سرمایہ کاری کو بڑھانے اور مستقبل کی بنیاد ڈالنے میں مدد ملے گی۔