تیونس میں نسل پرستانہ بیان بازی ختم ہونی چاہیے
نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی (سی ای آر ڈی) نے کہا ہے کہ تیونس نسل پرستانہ بیانیے کا قلع قمع کرنے اور سیاہ فام افریقیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیرجانبدار ماہرین نے کمیٹی کے بروقت انتباہ اور فوری اقدامات کے طریقہ کار کے تحت جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''تیونس نفرت پر مبنی اظہار اور جنوبی صحارا سے آنے والے مہاجرین کے خلاف تشدد کو فوری طور پر روکے۔''
اس طریقہ کار کا مقصد 'ہر طرح کے نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی کنونشن' کے تحت انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر پامالیوں سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات کے تناظر میں ایسے حالات پر غور کرنا ہے جو تنازعات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
'نسل پرستانہ تشدد کا خاتمہ کریں'
کمیٹی نے تیونس سے کہا ہے کہ وہ وہ ہر طرح کے نسلی امتیاز اور سیاہ فام افریقیوں کے خلاف نسلی پرستانہ تشدد سے نمٹنے کے اقدامات کرے، ان میں خاص طور پر ایسے افریقی شامل ہیں جو ذیلی صحارا سے ہجرت کر کے آئے ہیں یا تیونس ہی کے شہری ہیں۔
کمیٹی نے تیونس کے اعلیٰ ترین حکام پر سیاست دانوں اور سرکاری و نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے نسل پرستانہ نفرت پر مبنی اظہار کی کھلے عام مذمت کرنے اور اس سے فاصلہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے حکام سے نسل پرستانہ نفرت کا باعث بننے والے بیانات اور ذیلی صحارا خطے کے افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے خلاف نسلی امتیاز سے پرہیز کرنے اور ایسا کرنے والوں کی پیشگی مذمت کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔
حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات کے حوالے سے کمیٹی نے درخواست کی ہے کہ تیونس مہاجرین کی گرفتاریوں اور ان کی اجتماعی حراستوں کو روکے، ناجائز طور پر گرفتار کیے گئے افراد خصوصاً خواتین اور بچوں کو رہا کرے اور پناہ کے خواہش مند افراد کو اس مقصد کے لیے درخواست دینے کی اجازت دے۔
ماہرین نے تیونس سے کہا ہے کہ وہ مہاجرین کو ناجائز طور پر نوکریوں یا گھروں سے نکالے جانے کے واقعات کی تحقیقات کرے اور ہر طرح کی نسلی تفریق کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کے لیے دیگر اقدامات اٹھائے۔
ناجائز اقدامات
ماہرین کے بیان میں انسانی حقوق کی دیگر حالیہ خلاف ورزیوں کا جائزہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ فروری کے آغاز سے ذیلی صحارا خطے سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں کی ناجائز گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بعض مردوخواتین اور بچے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ سے قید میں ہیں۔
کمیٹی نے ''سلامتی کو مضبوط کرنے اور تیونس میں غیرقانونی قیام میں کمی لانے'' کی 'مہم' کے تحت قانون نافذ کرنے والے حکام کو خواتین، بچوں اور طلبہ کو دفاع کے قانونی حق کی ضمانت دیے بغیر ناجائز طور سے گرفتار کرنے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
نفرت کا آن لائن اظہار
ماہرین نے سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس اور بعض دیگر ذرائع ابلاغ پر نسل پرستانہ یا غیرملکیوں سے نفرت پر مبنی اظہار میں اضافے کی اطلاعات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔ خاص طور پر تیونس کے صدر کے بیان کے بعد نجی شعبے کی شخصیات اور سیاسی جماعتوں کے ارکان کی جانب سے بھی ایسا اظہار دیکھنے کو ملا ہے۔
نفرت پر مبنی اظہار کی یہ لہر اور بدنامی کے نتیجے میں ان مہاجرین کے خلاف تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ان پر جسمانی حملے اور ملک سے ان کی بے دخلی بھی شامل ہیں۔
کمیٹی کا تعارف
نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی ہر طرح کی نسلی تفریق کے خاتمے کے کنونشن کے ریاستی فریقین کی جانب سے اس معاہدے پر عملدرآمد کے اقدامات کی نگرانی کرتی ہے۔ فی الوقت 182 ممالک اس معاہدے کے فریق ہیں۔
یہ کمیٹی 18 ارکان پر مشتمل ہے جو انسانی حقوق کے ماہرین ہیں۔ انہیں دنیا بھر سے منتخب کیا گیا ہے اور وہ ذاتی حیثیت میں کام کرتے ہیں۔ یہ ماہرین اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہیں اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔