لیبیا میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ جاری رکھیں: تُرک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ لیبیا میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی جانب عالمی توجہ برقرار رکھنے اور متاثرین کو انصاف مہیا کرنے کے لیے نئے ذرائع سے کام لیا جانا چاہیے۔
ہائی کمشنر وولکر تُرک نے کونسل برائے انسانی حقوق کے تازہ ترین اجلاس میں کہا کہ ''لیبیا کے حکام، مسلح گروہوں، سمگلروں اور انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عالمی برادری کی اب لیبیا پر توجہ نہیں رہی۔''
انہوں ںے لیبیا کے بارے میں حقائق سے آگاہی کے لیے حال ہی میں اپنا کام مکمل کرنے والے ایک غیرجانبدار مشن (ایف ایف ایم) کی جانب سے اس معاملے میں عملی اقدامات کے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا ''یہ ضروری ہے کہ ہم ماضی میں ہونے والی حقوق کی پامالیوں پر احتساب کی کوششوں کو بڑھائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے زمینی صورتحال کی نگرانی جاری رکھیں۔''
تیل کی دولت سے مالا مال لیبیا کئی دہائیوں تک وہاں حکومت کرنے والے رہنما معمر قذافی کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شورش کا شکار رہا ہے اور متحارب حکومتیں اور جنگی ملیشیا طاقت کے خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک دوسرے سے برسرپیکار رہی ہیں۔ دارالحکومت طرابلس میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی معاہدے کی حکومت ہے اور لیبیئن نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر کی فوج کا ملک کے بیشتر مشرقی اور جنوبی علاقوں پر تسلط ہے۔
نئے طریقہ کار کا مطالبہ
ایف ایف ایم نے اپنی حتمی رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کا دفتر ایک علیحدہ اور خودمختار طریقہ کار وضع کرے جس کے تحت لیبیا میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کی نگرانی کی جائے اور ان کے بارے میں رپورٹ دی جا سکے تاکہ وہاں مفاہمتی کوششوں اور لیبیا کے حکام کو عبوری انصاف اور احتساب کے حصول میں مدد ملے۔
ایف ایف ایم کے سربراہ محمد اوجار نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اس رپورٹ میں شامل خوفناک تفصیلات، نتائج اور سفارشات کے بارے میں بتایا۔
انہوں نے کہا کہ ''لیبیا کے حالات تاحال بہت سنگین ہیں۔ حقوق کھلم کھلا پامال کیے جا رہے ہیں ار بنیادی آزادیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔''
وسیع پیمانے پر تشدد
400 سے زیادہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے، 2,800 سے زیادہ اطلاعات جمع کرنے اور طرابلس و بن غازی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں 13 مشن انجام دینے اور اٹلی، روانڈا، مالٹا اور نیدرلینڈز کے دورے کرنے کے بعد اس مشن کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول وجوہات ہیں کہ 2016 سے ملک بھر میں آزادی سے محرومی کے تناظر میں ملک کے شہریوں اور مہاجرین کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ رپورٹ کے نتائج سے ناجائز حراستوں، قتل، تشدد، جنسی زیادتی، لوگوں کو غلام بنائے جانے، جنسی غلامی اور جبری گمشدگیوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
'جرائم جاری ہیں'
محمد اوجار نے مزید کہا کہ ''مسلح گروہوں اور ان کی قیادت کا ریاست سے ملحقہ ڈھانچوں اور اداروں میں تیزی سے اور اندر تک ادغام خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔''
ان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں افسوس ہے کہ یہ جرائم آج بھی جاری ہیں۔''
وولکر تُرک نے کہا کہ ان کا دفتر لیبیا میں اپنے کام کو مزید بہتر بنائے گا جہاں مسلح کرداروں کے بڑے پیمانے پر تشدد، سیاسی تعطل اور شہری آزادیوں پر کڑی پابندیوں کے باعث انسانی حقوق کی صورتحال بگڑ رہی ہے۔
سول سوسائٹی کے خلاف کارروائی
انہوں ںے سول سوسائٹی کے خلاف شدت اختیار کرتی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا جن میں حالیہ دنوں حکومت کی جانب سے 2011 کے بعد رجسٹر ہونے والی سول سوسائٹی کی تمام قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کو غیرقانونی قرار دینے کا حکم بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ''سول سوسائٹی کے حوالے سے ضوابط کو اجتماع اور میل جول کی آزادی کے بنیادی حقوق کے احترام پر مبنی ہونا چاہیے اور لیبیا کے لیے حقوق کی بنیاد پر مستقبل کے لیے کام کرنے والوں کو دبانا اور ان کے کام کو جرم قرار نہیں دینا چاہیے۔''
انہوں نے قومی انتخابات کا انعقاد کرانے اور پائیدار امن کے لیے کام کرنے کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔