کچرے کی آلودگی کے خلاف جنگ کی ضرورت، اقوام متحدہ
کچرے کی آلودگی کے خلاف پہلے عالمی دن پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ہماری زمین واقعتاً کچرے میں غرق ہو رہی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ اسے صاف کیا جائے۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا مقصد پیداوار اور خرچ کے مستحکم طریقوں کو فروغ دینے والی ''ماحول دوست'' اور گردشی معیشت کی جانب منتقلی کی فوری ضرورت کے بارے میں آگاہی بیدار کرنا تھا۔ یہ اقدام حکومتوں کو اربوں ڈالر کی بچت کرنے اور لاکھوں نئی نوکریاں پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
دنیا بھر میں لوگ اس وقت سالانہ دو ارب ٹن سے زیادہ ٹھوس 'شہری' کچرا پیدا کرتے ہیں جس میں پلاسٹک، کپڑا، گلی سڑی خوراک، الیکٹرانک کا متروک سامان اور کان کنی و تعمیرات کی جگہوں پر پیدا ہونے والا ملبہ شامل ہے۔
کچرے اور آلودگی کا سیلاب
سیکرٹری جنرل نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بنیادی طور پر ہم ''اپنی زمین کے ساتھ کوڑے کے ڈھیر جیسا سلوک کر رہے ہیں۔'' انہوں نے خبردار کیا کہ 2050 تک دنیا میں ہر سال پیدا ہونے والے کوڑے کی مقدار چار ارب ٹن تک پہنچ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ''ہم اپنے واحد گھر کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ہم کچرے اور آلودگی کا سیلاب لا رہے ہیں جو ہمارے ماحول، ہماری معیشتوں اور ہماری صحت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔''
کچرے کے خلاف جنگ
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ اب ''کچرے کے خلاف جنگ'' کرنے کا وقت آ گیا ہے جو تین محاذوں پر لڑی جانا ہے۔ انہوں نے آلودگی پھیلانے والوں سے کہا کہ وہ کچرے کے خلاف اس جنگ میں قائدانہ کردار ادا کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ''جو کچرا پیدا کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ایسی اشیا اور خدمات سامنے لائیں کریں جن کی تیاری پر کم وسائل اور کم مواد خرچ ہوتا ہو، ایسا اہتمام کریں کہ ان کی تیار کردہ اشیا اپنے خاتمے تک کسی بھی مرحلے میں کچرا پیدا کرنے کا باعث نہ بنیں اور اپنی چیزوں کے کارآمد رہنے کی مدت بڑھانے کے تخلیقی طریقے تلاش کریں۔''
انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں جن جگہوں پر کام کرتی ہیں وہاں انہیں کچرا ٹھکانے لگانے، اس کی بحالی اور کچرے کو دوبارہ قابل استعمال بنانے پر بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔
صارفین کی ذمہ داری
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ممالک، شہروں اور مقامی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے جدید نظام تیار کریں اور انہیں بہتر بنائیں اور اس کے ساتھ ایسی پالیسیاں بھی تشکیل دیں جن سے پلاسٹک کی بوتلوں، الیکٹرانک کے متروک سامان اور دیگر اشیا کو دوبارہ استعمال میں لانے اور ان کی ری سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی ہو۔
ان کا آخری نکتہ صارفین کے مزید ذمہ دارانہ طرزعمل اختیار کرنے کی ضرورت سے متعلق تھا۔
انہوں نے کہا کہ ''ہم سب کو روزانہ خریدی جانے والی اشیا کے ماخذ اور ان کے اثرات پر غور کرنے اور انہیں ٹھکانے لگانے کے عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے زیراستعمال اشیا کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے، ان کے استعمال میں تبدیلی لانے، انہیں مرمت کرنے اور ان کی بحالی کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان اشیا کو کوڑے میں پھینکنے سے پہلے ان کے بارے میں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔''
ترکیہ کی مثال
سیکرٹری جنرل نے ممالک پر زور دیا کہ وہ ترکیہ میں کچرے کی آلودگی کے خلاف منصوبے جیسی مثالوں سے تحریک لیں جو خاتون اول امینی اردوآن نے شروع کیا ہے جو کچرے کی آلودگی کے بارے میں ممتاز شخصیات کے نوتشکیل شدہ مشاورتی بورڈ کی چیئرپرسن بھی ہیں۔
اجلاس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرہ ارض پر تمام زندگی باہم مربوط ہے لیکن صںعت کاری نے زائد از ضرورت کھپت پیدا کی ہے جو زمین کو آلودہ کر رہی ہے۔
دانشمندانہ طرزعمل کی ضرورت
شہری ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این۔ہیبیٹٹ' کی سربراہ میمونہ محد شریف نے ممالک پر زور دیا کہ وہ کچرے کے حوالے سے دانشمندانہ طرزعمل اختیار کریں جس میں اشیا کو ترک کرنے سے پہلے انہیں دوبارہ استعمال میں لانے کی افادیت ڈھونڈنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ''کچرے کی آلودگی کا خاتمہ کرنا کچرے کے حوالے سے دانشمندانہ سوچ کے حامل معاشروں کی تخلیق کی جانب پہلا قدم ہے۔ پہلا قدم ذمہ داری لینا اور ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کی کھپت کو محدود کرنے کے لیے شعوری کوشش کرنا ہے۔ یاد رہے کہ ہم جو بھی چیز استعمال کرتے اور اسے ترک کرتے ہیں وہ بعد میں بھی کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوتی ہے۔
نظام ہائے خوراک میں تبدیلی
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق دنیا کی آبادی 2050 میں 10 ارب تک پہنچ جائے گی اور اس وقت تک غذائی و غیرغذائی زرعی پیداوار کی طلب میں بھی 56 فیصد تک اضافے کی توقع ہے۔
ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس طلب کو پورا کرنے کے لیے غذائی پیداوار اور اسے صرف کرنے کے صحت مند اور مزید پائیدار طریقے درکار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والی 13 فیصد سے زیادہ خوراک پیداوار اور ترسیلی نظام میں تھوک فروشی کے مراحل کے درمیان ضائع ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ''ہمیں اپنے زرعی غذائی نظام میں نااہلی اور عدم مساوات سے فوری طور پر نمٹںے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں مزید موثر، مزید مشمولہ، مزید مستحکم اور مزید پائیدار بنایا جا سکے۔''
انہوں نے عالمگیر زرعی غذائی نظام میں تبدیلی لا کر کچرے کی آلودگی کو ختم کرنے کے ہدف کے حصول کی غرض سے ایف اے او کے اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے عزم کو واضح کیا۔