یو این کانفرنس عالمی آبی بحران کا حل چاہتی ہے
دنیا میں پانی کے قیمتی ذخائر کو ''شدید مسائل'' کا سامنا ہے اور اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، عالمی رہنما کثیرپہلو عالمی بحران کی صورت اختیار کر جانے والے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے رواں ہفتے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اجلاس کر رہے ہیں۔
بدھ کو شروع ہونے والی اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب اس اہم فطری وسیلے میں کمی آ رہی ہے، یہ آلودہ ہو رہا ہے اور اسے بدانتظامی کا سامنا ہے۔
نیدرلینڈز اور تاجکستان کی مشترکہ میزبانی میں اس سہ روزہ اجلاس کا انعقاد ایسے وقت میں ہوا ہے جب پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی راہ پر نصف وقت گزر چکا ہے جن میں 2030 تک دنیا کے تمام لوگوں کی پینےکے صاف پانی اور نکاسی آب تک رسائی یقینی بنانے کا وعدہ بھی شامل ہے۔
زندگی کی لازمی ضرورت کو خطرہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے واضح کیا ہے کہ پانی ایک انسانی حق اور اس ترقی کے لیے لازمی اہمیت رکھتا ہے جس کے ذریعے ایک بہتر عالمی مستقبل تشکیل دیا جانا ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ''پانی کو شدید مسائل درپیش ہیں۔ ہم پانی کے حد سے زیادہ اور ناپائیدار انداز میں استعمال اور عالمی حدت کے ذریعے انسانی زندگی کے اس لازمے کو خونخوار انداز میں چوسنے اور خشک کرنے میں مصروف ہیں۔ ہم پانی کے سلسلے کو توڑ چکے ہیں، ماحولی نظام تباہ کر چکے ہیں اور ہم نے زیرزمین پانی کو آلودہ کر دیا ہے۔''
عالمگیر بحران
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ قریباً ایک چوتھائی قدرتی آفات کا تعلق پانی سے ہے اور کرہ ارض پر پچیس فیصد آبادی پانی کے محفوظ انتظام یا پینے کے صاف پانی تک رسائی سے محروم ہے۔
مزید برآں 1.7 ارب لوگوں کو نکاسی آب کی بنیادی سہولت میسر نہیں ہے، نصف ارب لوگ بیت الخلاؤں سے محروم ہیں اور لاکھوں لڑکیاں محض پانی بھرنے پر روزانہ کئی گھنٹے صرف کرتی ہیں۔
اس کانفرنس میں شریک رہنماؤں کو پانی کے عالمگیر بحران پر قابو پانے کے انقلابی طریقے ڈھونڈنا ہیں۔ اس بحران میں ہمیں ''بہت زیادہ پانی'' جیسا کہ طوفانوں اور سیلابوں، اور ''بہت کم پانی'' جیسا کہ خشک سالی اور زیرزمین پانی کی قلت اور ''بہت گندے پانی'' جیسا کہ پینے کے پانی کے آلودہ ذرائع جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ''اس کانفرنس میں رکن ممالک کو اس بحران پر قابو پانے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا اور عالمی برادری کو ہماری دنیا کے استحکام اور امن و بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے ذریعے کے طور پر اس مسئلے پر قابو پانے کی اہمیت کا ادراک کرنا اور اس مقصد کے لیے عالمی اقدامات کرنا ہیں۔''
خامیاں دور کریں
انتونیو گوتیرش نے چار اہم شعبہ جات میں عملی اقدامات کے لیے کہا جن کا آغاز ''پانی کے انتظام میں خامیاں'' دور کرنے سے ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ایسے منصوبے ترتیب دیں اور ان پر عمل کریں جن سے تمام لوگوں کی پانی تک مساوی رسائی یقینی بنانے اور آبی تحفظ کو فروغ دینے میں مدد ملے۔ انہیں اس قیمتی ذریعے کے مشترکہ انتظام کے لیے اکٹھے ہو کر کام کرنا ہے۔
دوسرے نکتے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پانی اور نکاسی آب کے نظام پر بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایس ڈی جی کے حصول کی رفتار تیز کرنے کے مجوزہ منصوبے اور عالمگیر مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات کو واضح کیا جس کا مقصد پائیدار ترقی کے لیے سرمایہ کاری میں تیزی لانا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ ''بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو مالی وسائل میں اضافہ کرنے اور ان وسائل کے حصول کے لیے خصوصی حقوق تفویض کرنے کی رفتار بڑھانی چاہیے۔ کثیرفریقی ترقیاتی بینکوں کو پانی اور نکاسی آب کے لیے اپنے اقدامات کو وسعت دینی چاہیے تاکہ ایسے ممالک کی مدد ہو سکے جنہیں اس شعبے میں مالی وسائل کی اشد ضرورت ہے۔''
سرمایہ کاری بڑھائیں
انہوں ںے بتایا کہ ان کے تیسرے نکتے کا تعلق استحکام سے ہے کیونکہ ''ہم 21ویں صدی کی اس ہنگامی صورتحال پر گزشتہ دور کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے قابو نہیں پا سکتے۔''
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ہمیں پانی کی پائپ لائنوں، پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے اور استعمال شدہ پانی کو صاف کرنے کے ایسے نظام پر سرمایہ کاری کرنا ہے جو حادثات کا مقابلہ کر سکیں اور ہمیں پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے اور اسے محفوظ کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنا ہیں۔
عالمی برادری کو موسمیات اور حیاتیاتی تنوع کے تناظر میں خوراک کے ایسے موثر نظام کی بھی ضرورت ہو گی جس کی بدولت میتھین کے اخراج اور پانی کے استعمال میں کمی آئے۔ علاوہ ازیں زمانہ حال میں پانی کی ضروریات سے متعلق پیشگی آگاہی کے لیے ایک نیا عالمگیر اطلاعاتی نظام بھی درکار ہے۔
سرمایہ کاری کا مطلب یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ دنیا میں ہر فرد کو موسمیاتی آفات سے بروقت آگاہی حاصل کرنے کے نظام میسر ہوں اور اس حوالے سے سرکاری و نجی شعبے کی نئی شراکتوں کا کھوج لگانا بھی اہم ہے۔
موسمیاتی تبدیلی
سیکرٹری جنرل نے اپنے آخری نکتے میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی بات بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ''موسمیاتی اقدام اور پانی کا پائیدار مستقبل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔''
انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی انصاف کو ممکن بنانے کے لیے ''کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔''
انتونیو گوتیرش نے جی20 کے بڑے صنعتی ممالک سے 'موسمیاتی یکجہتی کے معاہدے'' کے لیے اپنی تجویز کا دوبارہ تذکرہ کیا جس کے تحت سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے ممالک کو اس اخراج میں کمی لانے کے لیے فاضل کوششیں کرنا ہوں گی۔
دولت مند ممالک اس معاملے میں ترقی پذیر معیشتوں کی مدد کے لیے مالیاتی اور تکنیکی ذرائع بھی جمع کریں گے۔
'فیصلہ کن لمحہ'
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سابا کوروشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی برادری کو اب ''فیصلہ کن لمحے'' کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ''ہم جانتے ہیں کہ روایتی طریقوں سے کام لے کر ہم استحکام، معاشی پائیداری اور عالمی بہبود کے اپنے وعدے پورے نہیں کر سکتے۔ نہ تو ہمارے پاس زیادہ وقت ہے اور نہ ہی ہماری زمین انتظار کی متحمل ہو سکتی ہے۔ اب تازہ پانی خاطرخواہ مقدار میں موجود نہیں رہا۔''
'عالمگیر عام بھلائی'
سابا کوروشی نے کہا کہ عالمی برادری کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ''پانی کا معاملہ ایک عالمگیر عام بھلائی ہے اور اسے پالیسی، قانون سازی اور مالیاتی اقدامات کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہو گا۔'' انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ ''ٹال مٹول اور منافع کے بجائے لوگوں اور زمین کے لیے کام کریں۔''
انہوں نے زمین کے استعمال، پانی اور موسمیاتی پالیسیوں کو مربوط کرنے کے لیے کہا جس کی بدولت پانی ''موسمیاتی تبدیلی کو محدود رکھنے اور اس سے مطابقت اختیار کرنے کا ذریعہ'' بنے گا اور اس طرح لوگوں اور فطرت دونوں کو استحکام ملے گا اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بھوک پر قابو پایا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ''ہم ممالک اور فریقین کو پانی سے متعلق عالمگیر اطلاعاتی نظام کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے اکٹھے کام کر سکتے ہیں جو کہ پانی کی دستیابی، طلب اور اس کے تحفظ سے متعلق مشکلات پر قابو پانے کے حوالے سے ہماری زندگی کی ضمانت کی حیثیت رکھتا ہے۔''
سابا کوروشی نے کہا کہ یہ کانفرنس ''ممالک کے موقف، فوائد اور سمجھوتوں پر بات چیت کا موقع نہیں ہے'' اور انہوں نے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ''ایسے طریقوں پر غوروفکر کریں جن کی بنیاد سائنس پر ہو اور جو مستحکم، عملی اور یکجہتی کے حامل ہوں۔''
کانفرنس کے آغاز پر تاجکستان کے صدر ایمومالی رحمون اور نیندرلینڈز کے شاہ ولیم الیگزینڈر کو اس اجلاس کے صدور منتخب کیا گیا۔