پاکستان سیلاب: ایک کروڑ متاثرہ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم
بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے چھ ماہ بعد بھی متاثرہ علاقوں میں رہنے والے بچوں سمیت 10 ملین سے زیادہ لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔
ملک میں پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام 92 فیصد آبادی کی ضروریات پوری کرتا ہے تاہم اس کے باوجود سیلاب سے پہلے بھی صرف 36 فیصد پانی ہی استعمال کے لیے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کے بیشتر نظام کو نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں 2.5 ملین بچوں سمیت 5.4 ملین سے زیادہ لوگ جوہڑوں اور کنوؤں کے آلودہ پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
انسانی حق نہ کہ رعایت
پاکستان میں یونیسف کے نمائندے عبداللہ فادل کا کہنا ہے کہ ''پینے کا صاف پانی آسائش نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ تاہم اس کے باوجود پاکستان میں روزانہ لاکھوں لڑکیاں اور لڑکے پانی سے پیدا ہونے والی قابل علاج بیماریوں اور سیلاب کے نتیجے میں غذائی قلت کے خلاف زندگی و موت کی جنگ ہار رہے ہیں۔
پینے کے صاف پانی اور بیت الخلاؤں کی طویل عرصہ سے کمی اور غیرمحفوظ خاندانوں کے متواتر کھڑے پانی کے قریب رہنے سے ہیضہ، اسہال، ڈینگی اور ملیریا جیسی پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بیماریوں کا خطرہ
غیرمحفوظ پانی اور نکاسی آب کی ناقص سہولیات غذائی قلت کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اسہال جیسی متعلقہ بیماریاں بچوں کو درکار مقوی غذا سے محروم رکھتی ہیں۔ مزید برآں، غذائی قلت کا شکار بچوں کو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کا مدافعتی نظام پہلے ہی کمزور ہوتا ہے جو غذائی قلت اور بیماری کے موذی سلسلے کو برقرار رکھتا ہے۔
المناک طور سے دنیا بھر میں بچوں کی ایک تہائی اموات غذائی قلت کے سبب ہوتی ہیں اور کم غذائیت کا شکار نصف بچے صاف پانی، مناسب نکاسی آب اور حفظان صحت کی اچھی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کے سبب بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی تمام اموات میں نصف کا سبب غذائی قلت ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 1.5 ملین سے زیادہ لڑکے اور لڑکیاں پہلے ہی شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور صاف پانی اور نکاسی آب کے مناسب انتظام کی غیرموجودگی میں یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی۔
خدمت میں پیش پیش
موسمی وجوہات کی بنا پر پیدا ہونے والی اس ہنگامی صورتحال میں پہلے دن سے ہی یونیسف اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر لوگوں کو مدد پہنچا رہا ہے۔ سیلاب سے فوری بعد یونیسف نے ہاتھ سے چلنے والے بہت سے نلکے نصب کیے اور پانی ذخیرہ کرنے کی سہولیات قائم کیں۔
گزشتہ چھ مہینوں میں یونیسف اور اس کے امدادی شراکت داروں نے قریباً 1.2 ملین بچوں اور خاندانوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا اور 1.3 ملین سے زیادہ لوگوں میں صحت و صفائی کا سامان تقسیم کیا۔ یونیسف نے پانی فراہم کرنے کی سہولیات کی بحالی اور تعمیرنو میں بھی مدد دی جس سے 450,000 سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچا۔
ضرورتیں زیادہ، امداد کم
پانی کے عالمی دن سے قبل یونیسف حکومت، عطیہ دہندگان اور شراکت داروں سے کہہ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر:
- پینے کے صاف پانی اور بیت الخلاؤں تک رسائی بحال کرنے کے لیے وسائل مختص کریں۔
- پانی کی فراہمی کی ایسی سہولیات پر سرمایہ کاری کریں جو موسمی شدت کا مقابلہ کر سکیں اور شمسی توانائی کے ذریعے پانی کھینچنے والے نظام جیسی قابل تجدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر وسائل خرچ کریں۔
عبداللہ فادل نے کہا کہ ''پاکستان میں بچوں کی آواز اور ضروریات پر ترجیحی دھیان دینا بہرصورت لازمی ہے اور انہیں سیلاب کے بعد بحالی اور استحکام لانے کے ہر منصوبے میں مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔''
تباہ کن سیلاب سے چھ ماہ بعد بھی 9.6 ملین بچوں کو ضروری سماجی خدمات تک رسائی درکار ہے۔ سیلاب سے متاثرہ خواتین اور بچوں کو تحفظِ زندگی میں مددگار امداد مہیا کرنے کے لیے یونیسف کی جانب سے کی گئی 173.5 ملین ڈالر کی اپیل پر تاحال 50 فیصد مالی وسائل ہی فراہم کیے گئے ہیں۔