آئی سی سی نے روسی صدر پوتن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے قبل از سماعت چیمبر نے یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم اور مقبوضہ علاقوں سے بچوں کی غیر قانونی منتقلی کے الزام میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن سمیت دو افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
آئی سی سی کے سربراہ جوزف پائٹر ہوفمینسکی کے مطابق روس کے صدر مبینہ طور پر یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے بچوں کی غیر قانونی ملک بدری اور منتقلی کے ذمہ دار ہیں۔
متاثرین کے تحفظ کے لیے وارنٹ کے مندرجات کو خفیہ رکھا گیا ہے لیکن بقول آئی سی سی سربراہ کے اس میں نامزد افراد کے نام ظاہر کرنا انصاف کے مفاد میں ہے اور اس سے اسی نوعیت کے مزید جرائم کو روکنے میں مدد ملے گی۔
عدالتی بیان کے مطابق اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ولادیمیر پوتن پر ان جرائم کے ارتکاب کی انفرادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یہ کہ انہوں نے ان کارروائیوں میں ملوث سویلین و فوجی اہلکاروں پر مناسب کنٹرول نہیں رکھا۔
ولادیمیر پوتن کے ساتھ بچوں کے حقوق کے لیے روس کی کمشنر ماریا الیکسآئیونا لووابیلوا کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی عدالت کے قبل از سماعت چیمبر کا کہنا ہے کہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے بچوں کی غیر قانونی منتقلی کے جرم میں انہیں بھی جوابدہ ہونا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق مبینہ جرائم کا ارتکاب یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں کم از کم گزشتہ سال 24 فروری سے شروع ہوا ہے اور اس امر کے معقول شواہد ہیں کہ روسی صدر اور بچوں کے حقوق کی کمشنران میں ملوث ہیں۔
متاثرین کا تحفظ
آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کریم اے خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان مبینہ جرائم میں ملوث افراد کا محاسبہ ضرروی ہے اور یہ کہ بچوں کو اپنے خاندانوں اور علاقوں میں واپس جانا چاہیے۔ ’ہم بچوں کو مالِ غنیمت کے طور پر استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔‘
کریم خان کا کہنا تھا کہ کہ ان کے دفتر کی طرف سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق سینکڑوں بچوں کو یوکرین کے مقبوضہ علاقوں کے یتیم خانوں اور دیکھ بھال کے مراکز سے روس منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں مقامی لوگوں نے گود لیا ہے۔ ایک صدارتی حکم کے ذریعے ان بچوں کو روسی قومیت تفویض کرنے کا عمل سرعت کے ساتھ مکمل کیا گیا تاکہ لوگوں کے لیے انہیں گود لینا آسان ہوجائے۔
آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کے مطابق ایسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ان بچوں کو اپنے ملک سے مستقل طور پر علیحدہ کر دیا گیا ہے جبکہ منتقلی کے وقت وہ بچے چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت ’محفوظ افراد‘ کا درجہ رکھتے تھے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک سے ان کی روزانہ معمول کی پریس بریفنگ کے دوران جب ان وارنٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور آئی سی سی دونوں مختلف ادارے ہیں اور ان کا مینڈیٹ بھی مختلف ہے۔
انٹرنیشنل کریمنل کورٹ
آئی سی سی ایک آزاد اور مستقل عدالتی ادارہ ہے۔ اسے روم کے قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا، جس پر 17 جولائی 1998 کو اٹلی کے دارالحکومت میں ایک کانفرنس میں دستخط کیے گئے تھے۔ روم قانون پر عملدرآمد یکم جولائی 2002 سے شروع ہوا اور تب سے آئی سی سی کا دائرہ کار نسل کشی کے جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم سے متعلق ہے۔
روم قانون جس کے تحت انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے روس اور یوکرین نے اس پر دستخط نہیں کیے، لہذا یہ دونوں اس میں فریق نہیں ہیں۔