انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار: سوشل میڈیا اداروں کو فوجی آمروں کا مقابلہ کرنا چاہیے

ماہرین نے ٹیلی گرام اور سوشل میڈیا کی دیگر کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کی ہر خلاف ورزی کی نشاندہی، اس کی روک تھام اور اس میں کمی لانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
Unsplash/Lilly Rum
ماہرین نے ٹیلی گرام اور سوشل میڈیا کی دیگر کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کی ہر خلاف ورزی کی نشاندہی، اس کی روک تھام اور اس میں کمی لانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

میانمار: سوشل میڈیا اداروں کو فوجی آمروں کا مقابلہ کرنا چاہیے

انسانی حقوق

میانمار میں انسانی حقوق کا جائزہ لینے کے لیے متعلق اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیرجانبدار ماہرین نے سوشل میڈیا کی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں حکمران فوجی ٹولے کی ''دہشت پھیلانے کی آن لائن مہم'' کے خلاف مزاحمت کے لیے مزید اقدامات کریں۔

انسانی حقوق کے ماہرین نے انٹرنیٹ پر بات چیت کی سہولت مہیا کرنے والے اداروں سے مواد کا مزید احتیاط سے جائزہ لینے اور اس مقصد کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ٹیلی گرام خاص طور پر ''فوج نواز سرگرمی کا اڈہ'' بنتا جا رہا ہے۔

Tweet URL

'تشدد اور عورت دشمنی'

انسانی حقوق کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرنے والے ہزاروں لوگ فوجی حکمرانوں کے ''متشدد اور عورتوں سے نفرت پر مبنی مواد'' کی جانب متوجہ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین پر اکثر مسلمان مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے یا مسلمان آبادی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

ماہرین نے کہا کہ یہ میانمار میں ''شدید قوم پرستانہ، امتیازی اور مسلمانوں سے نفرت پر مبنی عام بیانیہ ہے''۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی مرضی کے خلاف ان کی نجی معلومات، نام اور پتے سوشل میڈیا پر شائع کیے جا رہے ہیں جسے ''ڈاکسنگ'' بھی کہا جاتا ہے۔

میانمار کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار ٹام اینڈریوز سمیت ان ماہرین نے ٹیلی گرام کی جانب سے سوشل میڈیا پر کم از کم 13 فوج نواز اکاؤنٹ بند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ یہ اقدام اس پلیٹ فارم کو ان اکاؤنٹس پر ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی دینے کے بعد اٹھایا گیا۔ تاہم بدترین معاندانہ مواد پیش کرنے والا ایک آن لائن چینل دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''جب تک ٹیلی گرام میانمار میں مواد کی نگرانی کے اپنے طریقہ کار میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں نہیں لاتا اس وقت تک فوج نواز کردار نئے اکاؤنٹ کھول کر ان پر اپنی ہراسانی کی مہم جاری رکھیں گے۔''

روزانہ خطرات

ماہرین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''ہر روز خواتین کو آن لائن جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ انسانی حقوق کے لیے کھڑی ہیں، فوجی حکمرانی کی مخالف ہیں اور ملک کو جمہوری راہ پر واپس لانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔''

'ڈاکسنگ' اور آن لائن ہراسانی کی دیگر اقسام نے میانمار میں خواتین کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور غیرجانبدار انجمنوں کو پہلے سے درپیش بہت سے خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔''

غیرجانبدار ماہرین نے ٹیلی گرام اور سوشل میڈیا کی دیگر کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کی ہر خلاف ورزی کی نشاندہی، اس کی روک تھام اور اس میں کمی لانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

میا نمار کے منڈالے ریجن کا ایک شہر باگان۔
Unsplash/Ajay Karpur
میا نمار کے منڈالے ریجن کا ایک شہر باگان۔

مناسب احتیاط

انہوں ںے کہا کہ ''ٹیکنالوجی کی کمپنیاں یہ یقینی بنائیں کہ ان کی خدمات انسانی حقوق کی پامالیوں بشمول صںفی بنیاد پر تشدد اور امتیازی سلوک، ناجائز گرفتاریوں، اخفا کے حق اور اظہار، آن لائن اور آف لائن پُرامن اجتماع اور میل جول کے حق کی خلاف ورزی کے لیے استعمال نہ ہوں۔''

انہوں نے خواتین کو نشانہ بنائے جانے اور میانمار میں برمی اور دیگر زبانوں میں مواد کی نگرانی کی بات کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے اداروں پر زور دیا کہ وہ مقامی تنظیموں اور کرداروں کے قریبی اشتراک سے اپنے صارفین کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری وسائل مختص کریں۔

خصوصی اطلاع کار اور انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے متعین کردہ ماہرین رضاکارانہ اور بلامعاوضہ کام کرتے ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہیں اور کسی حکومت یا ادارے کے لیے خدمات انجام نہیں دیتے بلکہ آزادانہ طور سے کام کرتے ہیں۔