عالمی مستقبل میں ’نئی روح پھونکنے‘ کی گوتیرش کی کوشش
اقوام متحدہ نے آنے والی نسلوں کے لیے عالمی برادری کے وعدوں کی تکمیل اور یہ یقینی بنانے کے لیے نئے پالیسی اقدامات شروع کیے ہیں کہ دنیا کووڈ۔10 وبا جیسے ''پیچیدہ دھچکوں'' سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے تیار ہو۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے نیویارک میں ادارے کے ہیڈکوارٹر میں اس حکمت عملی سے متعلق تازہ ترین دستاویزات کی رونمائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دور رس پالیسی کا یہ خلاصہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی مشاورتوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جن میں انہوں نے یہ اندازہ لگانا ہے کہ کل کی دنیا کے لیے کثیرفریقی نظام کو کیسے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد بالکل سادہ ہے کہ ''کثیرفریقی نظام میں نئی روح پھونکی جائے تاکہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں کیے گئے وعدوں اور 2030 کے ایجںڈے پر عملدرآمد میں مدد دے سکے۔
کثیرفریقی نظام کے لیے ذمہ داری
انہوں نے کہا کہ ''ہماری دنیا پہلے سے زیادہ پیچیدہ، غیریقینی اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور ان حالات میں کثیرفریقی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے''۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے وہ آئندہ برس بہت سی توقعات کی حامل مستقبل کی کانفرنس اور ستمبر میں ہونے والی ایس ڈی جی کانفرنس کے منتظر ہیں جسے انہوں نے ''2023 کا اہم ترین اجلاس'' قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دونوں کانفرنسیں ''سبھی کی خاطر دنیا کو منصفانہ، مشمولہ اور پائیدار مستقبل کی راہ پر واپس ڈالنے کے لیے ضروری فیصلوں پر ہمارا اتفاق رائے قائم کرنے کے اہم ترین مواقع ہوں گے۔''
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ رکن ممالک 'مستقبل کی کانفرنس' کے امکانات اور اس میں سامنے آنے والی تجاویز پر فیصلے کریں گے جن کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے لیے ایک نیا اور دانشمندانہ معاہدہ کیا جائے گا۔
مجموعی طور پر، آئندہ مہینوں میں پالیسی سے متعلق 11 خلاصے جاری کیے جائیں گے جس کا مقصد ''ہمارے مشترکہ ایجنڈے'' کے بنیادی تصور کو مستحکم کرنا اور ''تصورات اور تجاویز کا ایک پُرعزم اور باہم مربوط مجموعہ'' تشکیل دینا ہے۔
ان میں ہر ایک میں یہ بتایا جائے گا کہ تصورات اور تجاویز پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول میں کیا کردار ادا کریں گے جبکہ اس حوالے سے صنفی اور انسانی حقوق کو ہر معاملے میں پیش نظر رکھا جانا ہے۔
مستقبل کے لیے 'سوچ اور عمل'
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ 2030 تک ایس ڈی جی کے حصول کے لیے مستقبل پر واضح نظر رکھنا ایک اہم عنصر ہے۔
'آنے والی نسلوں کے لیے سوچنے اور عمل کرنے' سے متعلق پالیسی کا پہلا خلاصہ واضح کرتا ہے کہ مستحکم اور مساوی مستقبل کا آغاز ابھی ہونا ہے۔''
انہوں نے کہا کہ ''ان وعدوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے'' عالمی برادری کے پاس عملی طریقہ ہائے کار اور بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے۔
اگر ہم نے تیس سال پہلے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی روک تھام اور اس کا خاتمہ کرنے کے لیے عملی قدم اٹھایا ہوتا تو آج موسمیاتی بحران اس قدر خطرناک نہ ہوتا۔ اگر ہم نے وباؤں کا مقابلہ کرنے کی تیاری کی ہوتی تو کووڈ۔19 کے نتیجے میں اس قدر ابتری نہ دیکھنا پڑتی۔''
انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ ''مستقبل کے بارے میں سوچ بچار کرنے کا فائدہ حال میں ہوتا ہے۔''
تین اقدامات
یہ خلاصہ غوروفکر کے لیے تین ''ٹھوس اقدامات'' تجویز کرتا ہے جن کی تحریک حالیہ قومی اقدامات سے لی گئی ہے۔
1۔ ایک نمائندے کی تعیناتی، آنے والی نسلوں کے لیے ایک عالمگیر آواز، جس کا مقصد ''ہمارے آج کے فیصلوں کے ان پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں آگاہی بیدار کرنا'' ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ نمائندہ اقوام متحدہ کے پورے نظام سے بھرپور کام لے سکتا ہے۔
2۔ ایک سیاسی اعلامیے کی تیاری کے لیے تصورات، جو ''مستقبل کے لیے ہمارے فرائض'' کا تعین کرے گا۔
3۔ ایک مخصوص بین الحکومتی فورم کا قیام جہاں ممالک اس اعلامیے پر عملی اقدامات کو آگے بڑھا سکیں اور ''اپنے تجربات اور اختراعات کا تبادلہ کر سکیں۔'' یہ فورم ''بین النسلی سوچ بچار اور بین النسلی یکجہتی کے اظہار کا موقع'' ہو گا۔
آخر میں سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ''اسی لیے یہ خلاصہ جنرل اسمبلی کے ایک ذیلی ادارے کے طور پر 'آنے والی نسلوں کے لیے کمیشن' کے قیام کی سفارش کرتا ہے۔