کم ترقی یافتہ ممالک کی خوشحالی کے منصوبے کی حمایت
کم ترین ترقی یافتہ ممالک کے بارے میں اقوام متحدہ کی پانچویں کانفرنس (ایل ڈی سی 5) جمعرات کو ختم ہو گئی جس میں ممالک نے دوحہ پروگرام آف ایکشن (ڈی پی او اے) پر عملدرآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کی منظوری دی۔
'ڈی پی او اے' کا مقصد ایل ڈی سی اور ان کے ترقیاتی شراکت داروں کے مابین وعدوں کی تجدید کرنا اور انہیں مضبوط بنانا ہے اور یہ دنیا کے کمزور ترین ممالک کے لیے تبدیلی لانے والے فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
قطر نیشنل کنونشن سنٹر کے ہال میں تالیوں کی گونج میں دوحہ سیاسی اعلامیے کی منظوری دی گئی جہاں 'ایل ڈی سی 5' 5 مارچ سے جاری تھی۔
آج کا یہ اقدام یکجہتی کے نئے دور کا آغاز اور دنیا کے کم ترین ترقی یافتہ ممالک کے لیے بے پایاں سماجی۔معاشی فوائد کا حامل ہے جو 17 مارچ 2022 کو نیویارک میں اس کانفرنس کے پہلے حصے میں منظور کیے جانے والے 'ڈی پی او اے' سے قریباً ایک سال کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ اعلامیہ تبدیلی کے فروغ اور ایل ڈی سی کی مکمل صلاحیتوں کو سامنے لانے کے اقدامات کا خاکہ پیش کرتا ہے جن میں محفوظ سرمایے کا نظام وضع کرنے اور کم ترین ترقی یافتہ ممالک کے لیے نقد وسائل کی منتقلی سے لے کر بہت سے خطرات کے حامل بحرانوں کی جامع روک تھام اور ان کے خلاف مزاحمتی قوت بڑھانے کے اقدامات تک بہت سے متبادل ذرائع کا قیام بھی شامل ہیں۔
کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا کہ ''دستاویزات پر دستخط کرنے یا کانفرنسوں میں شرکت سے وعدے یا ذمہ داریاں ختم یا شروع نہیں ہو جاتیں۔ انہیں 2030 کی جانب ہماری کوششوں کا لازمی حصہ اور پوری دہائی پر محیط ہونا چاہیے۔''
'کام جاری رکھنا ہے'
انہوں نے کہا کہ 'ڈی پی او اے' کے تحت کیے جانے والے پانچ اہم اقدامات ایل ڈی سی کو درپیش اہم مسائل کو حل کریں گے اور ان کی بدولت مزید خوشحال اور مساوی مستقبل کے لیے راہ ہموار ہو گی۔
ان میں ایک آن لائن یونیورسٹی کا قیام، کم ترین ترقی یافتہ ممالک کا معاشی درجہ بڑھانے میں معاون پیکیج، خوراک کی موجودگی کا جائزہ لینے کا طریقہ کار، سرمایہ کاری میں مددگار مرکز اور بحرانوں کو محدود رکھنے اور استحکام پیدا کرنے کا طریقہ کار شامل ہیں۔
امینہ محمد کا کہنا تھا کہ ''کامیابی خودکار طریقے سے نہیں آتی۔ ہمیں اپنا کام جاری رکھنا ہے۔ ان اقدامات کو ممکن بنانے کے لیے ایل ڈی سی کو بڑے پیمانے پر مالی معاونت کی ضرورت ہو گی اور یہ معاونت وہیں مہیا کی جانی چاہیے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو۔''
انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے قبل ازیں بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات تجویز کرنے کے ساتھ ایس ڈی جی کے حصول کی رفتار تیز کرنے کے لیے کم از کم 500 بلین ڈالر فراہم کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ وسائل کا رخ طویل مدتی پائیدار ترقی اور اور منصفانہ تبدیلیوں کی جانب موڑا جا سکے۔ ان مالی وسائل کی بدولت ایل ڈی سی کو ایسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی جو انہیں اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے روک رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی نائب سربراہ نے کہا کہ ''اگر ہمیں ایس ڈی جی کے حصول کی امید رکھنا ہے تو ان ممالک کو ترجیح دینا ہو گی جو ترقی کے سفر میں سب سے پیچھے ہیں۔''
'ایل ڈی سی 5': اس ہفتے کیا ہوا
'امکان سے خوشحالی تک' کے موضوع کے تحت 'ایل ڈی سی 5' کانفرنس کا مقصد ایل ڈی سی میں رہنے والے 1.2 بلین لوگوں کی زندگی میں مثبت اثرات لانے کے لیے متغیر تبدیلی پیدا کرنا تھا۔
'ایل ڈی سی 5' میں شرکا کی تعداد تقریباً 9,000 تھی جن میں 46 سربراہان حکومت اور قریباً 200 وزرا اور نائب وزرا بھی شامل تھے جنہوں ںے ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایل ڈی سی میں سماجی۔معاشی اور ماحولیاتی ترقی کے لیے فوری مدد مہیا کریں۔
'ایل ڈی سی 5' میں ہونے والی بات چیت 'ڈی پی او اے' پر عملدرآمد پر مرکوز رہی۔ اس ہفتے طے پانے والے معاہدے ایل ڈی سی کو کووڈ۔19 وبا سے لے کر موسمیاتی تبدیلی تک حالیہ بحرانوں سے نمٹنے، انہیں ایس ڈی جی کے حصول کے لیے درست سمت پر واپس آنے اور ایل ڈی سی درجے سے ترقی کرنے میں مدد دیں گے۔
'ایل ڈی سی 5' کے وعدے:
- قطر نے 60 ملین ڈالر کے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا جس میں 10 ملین ڈالر 'ڈی پی او اے' پر عملدرآمد اور 50 ملین ڈالر ایل ڈی سی میں استحکامی اقدامات میں مدد دینے پر خرچ کیے جائیں گے۔
- جرمنی نے 2023 میں ایل ڈی سی کو مالی مدد کی فراہمی کے لیے 200 ملین ڈالر مختص کیے۔
- کینیڈا نے 15 ایل ڈی سی کو وٹامن سپلیمنٹ فراہم کرنے اور برکینا فاسو میں ماحولی نظام کے تحفظ کے لیے 59 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا۔
- یورپی کمیشن نے افریقہ میں پائیدار سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے 130 ملین ڈالر سے زیادہ مالیت کے اشتراکی معاہدوں کا اعلان کیا۔
- فن لینڈ نے کم ترین ترقی یافتہ ممالک، خشکی میں گھرے ترقی پذیر ممالک اور چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی نمائندے کے دفتر کے ساتھ مل کر ہیلسنکی میں 'یونائیٹڈ نیشنز ایل ڈی سی فورم' نامی سالانہ پروگرام منعقد کرانے کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد انتہائی کمزور ممالک کی ترقی کے لیے تازہ ترین سوچ اور تحقیق پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔
- 'گرین کلائمیٹ فنڈ' نے ایل ڈی سی میں کاروباروں کو ماحول دوست ضمانتیں مہیا کرنے اور سرمایے کی قیمت میں کمی لانے کے لیے معدلت (ایکویٹی) میں 80 ملین ڈالر فراہم کرنے کا نیا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
- اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ سیاحت نے ایل ڈی سی کے لیے 10 ملین ڈالر کے نئے سیاحتی ترقیاتی فنڈ کا اعلان کیا جسے 'ٹی یو آئی کیئر فاؤنڈیشن' کا تعاون حاصل ہے۔ اس اقدام کے تحت ایل ڈی سی میں ترقی کے کلیدی محرک کے طور پر ائیدار سیاحت میں تعاون کے لیے 2030 تک سرمایہ کاری کی جائے گی۔
- قازقستان کی حکومت نے اقوام متحدہ کے کمزور ترین رکن ممالک کی مدد کے لیے اپنا کام جاری رکھنے کی غرض سے 50 ہزار ڈالر دینے کا وعدہ کیا۔