انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نمک کے کم استعمال سے زندگیاں بچ سکتی ہیں: عالمی ادارہ صحت

سوڈیم غذا کا ایک اہم حصہ ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال دل کے امراض، فالج، اور قبل از وقت موت کا سبب بن سکتا ہے۔
Unsplash/Peter Werkman
سوڈیم غذا کا ایک اہم حصہ ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال دل کے امراض، فالج، اور قبل از وقت موت کا سبب بن سکتا ہے۔

نمک کے کم استعمال سے زندگیاں بچ سکتی ہیں: عالمی ادارہ صحت

صحت

ڈبلیو ایچ او کی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوڈیم کے استعمال میں کمی لانے کی پالیسیاں اختیار کر کے 2030 تک دنیا بھر میں اندازاً سات ملین لوگوں کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس کا کہنا ہے کہ ''غیرصحت بخش غذائیں دنیا بھر میں اموات اور بیماریوں کی بڑی وجہ ہیں اور ان میں سوڈیم کا حد سے زیادہ استعمال خاص طور پر نمایاں ہے۔''

Tweet URL

سوڈیم کے استعمال میں کمی سے متعلق ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کردہ اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا 2025 تک سوڈیم کے استعمال میں 30 فیصد تک کمی لانے کے اپنے عالمی ہدف کے حصول کی راہ پر درست سمت میں گامزن نہیں ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ''یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ بیشتر ممالک نے سوڈیم کے استعمال میں کمی لانے کی کوئی لازمی پالیسیاں تاحال اختیار نہیں کیں اور اپنے لوگوں کو دل کے دورے، فالج اور صحت کے دیگر مسائل کی زد پر چھوڑ رکھا ہے۔''

اس رحجان کو بدلنے کے لیے عالمی ادارہ صحت تمام ممالک سے کہہ رہا ہے کہ وہ سوڈیم کے استعمال میں کمی لانے کے منصوبوں پر عملدرآمد کریں اور صنعتوں سے کہا گیا ہے وہ اپنی تیار کردہ خوردنی اشیا میں سوڈیم کی مقدار  کو کم کرنے سے متعلق پُرعزم اہداف طے کریں۔

خطرناک بیماریوں کا ذریعہ

سوڈیم سے بھرپور نمک ذائقے کا ذریعہ ہے اور ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے مسلح تنازعات کا سبب بھی رہا ہے اور اب یہ دنیا بھر میں ضرورت سے زیادہ استعمال ہونے لگا ہے جس سے صحت کو مجموعی طور پر نقصان ہوتا ہے۔

اگرچہ سوڈیم غذائیت کے لیے ضروری ہے تاہم اس کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے نتیجے میں دل کی بیماریوں، فالج اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں ہر فرد روزانہ اندازاً 10.8 گرام نمک استعمال کرتا ہے جبکہ 5 گرام یا روزانہ چائے کا ایک چمچ اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ محفوظ مقدار ہے۔ ٹیبل سالٹ (سوڈیم کلورائیڈ) سوڈیم کے حصول کا بڑا ذریعہ ہے تاہم اس میں گلوٹامیٹ جیسے دیگر مصالحے بھی شامل ہوتے ہیں۔

نمک کا بہت زیادہ مقدار میں استعمال اسے خوراک اور غذائیت سے متعلق بیماریوں سے ہونے والی اموات کا سب سے بڑا خطرہ بنا دیتا ہے۔ بہت زیادہ مقدار میں سوڈیم کے استعمال اور معدے کے کینسر، موٹاپے، ہڈیوں کی شکست و ریخت اور گردے کی بیماریوں جیسے امراض کے خدشے کے مابین تعلق کے بارے میں مزید ثبوت سامنے آ رہے ہیں۔

پالیسی کا فقدان

فی الوقت صرف نو ممالک، برازیل، چلی، چیک ریپبلک، لیتھوانیا، ملائشیا، میکسیکو، سعودی عرب، سپین اور یوروگوئے، میں ہی سوڈیم کے استعمال میں کمی لانے سے متعلق جامع پالیسیاں تجویز کی گئی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی صرف 5 فیصد آبادی کو ہی سوڈیم کے استعمال میں کمی لانے سے متعلق لازمی پالیسیوں کے ذریعے تحفظ حاصل ہے اور ڈبلیو ایچ او کے 194 رکن ممالک میں سے 73 فیصد کے پاس ایسی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد کی اہلیت کا فقدان ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ سوڈیم کے استعمال میں کمی سے متعلق کم خرچ پالیسیاں متعارف کرا کے زندگیاں بچانا پائیدار ترقی کے اہداف میں غیرمتعدی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں کمی لانے سے متعلق 2030 کے ایجنڈے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے اقدامات کا ایک اہم جزو ہے۔ 

''بہترین خرید''

سوڈیم کے استعمال میں کمی لانے کے ایک جامع طریقہ کار میں لازمی پالیسیاں اختیار کرنا اور سوڈیم سے متعلق ڈبلیو ایچ او کے چار ''بیسٹ بائی'' طریقے شامل ہیں جو غیرمتعدی بیماریوں کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ان میں کم مقدار میں نمک کے ساتھ خوراک کی تشکیل نو اور ہسپتالوں، سکولوں اور کام کی جگہوں پر نمک یا سوڈیم سے بھرپور خوراک میں کمی لانے کی غرض سے بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے خوراک کی خریداری سے متعلق پالیسیاں وضع کرنا شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ خوراک کے ڈبوں یا لفافوں پر اس میں نمک یا سوڈیم کی مقدار کے بارے میں واضح طور پر بتایا جانا چاہیے تاکہ صارفین کم نمک یا سوڈیم والی خوراک منتخب کر سکیں۔ مزید برآں اس مسئلے کے بارے میں عام لوگوں اور میڈیا کے لیے آگاہی بڑھانے کی مہمات بھی چلائی جانی چاہئیں۔