انسانی کہانیاں عالمی تناظر

عالمگیر مسائل کے حل کے لیے تازہ فکر کی ضرورت ہے: وولکر ترک

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ وولکر ترک جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے باونویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Violaine Martin
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ وولکر ترک جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے باونویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

عالمگیر مسائل کے حل کے لیے تازہ فکر کی ضرورت ہے: وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ حالیہ پیچیدہ مسائل پر قابو پانے کے لیے حقوق کی پامالیوں سے نمٹنے اور مسائل حل کرنے کے لیے نئی سوچ اور دلیرانہ سیاسی قیادت درکار ہے۔ انہوں ںے یہ بات انسانی حقوق کونسل کو سالانہ عالمی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہی۔

ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کا منظر نامہ جنگ، تفریق، غربت، محدود ہوتی شہری آزادیوں اور مصنوعی ذہانت و نگرانی جیسے حقوق کے بڑے مسائل کے باعث پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے۔

Tweet URL

انہوں نے کہا کہ ''ان مسائل پر قابو پانے کے لیے نئی سوچ، سیاسی قیادت، عزائم کی تجدید اور غیرمعمولی مالی معاونت کی ضرورت ہے اور ان تمام معاملات میں انسانی حقوق کو مرکزی جگہ دی جانی چاہیے۔ ہمیں ایسا ماحول درکار ہے جس میں ہم تعمیری اور کھلے جذبے کے ساتھ انسانی حقوق پر تبادلہ خیال کر سکیں۔

کامیابیاں اور خلاف ورزیاں

وولکر تُرک نے دنیا کے تمام علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق حاصل ہونے والی کامیابیوں اور حقوق کی خلاف ورزیوں کا سرسری جائزہ پیش کرتے ہوئے جنگ سے موسمیاتی تبدیلی تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بعض بڑے محرکات کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ فریقین مزید مشمولہ، مستحکم اور حقوق پر مبنی مستقبل کے لیے کیسے متحد ہو کر کام کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ''میرے دفتر، عملی میدان میں ہمارے لوگوں اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم بہت سے اداروں کے تعاون سے کام کرنا اس مسئلے کا حل ہے۔ یہ نتائج کے حصول کا معاملہ ہے۔ یہ تنقید اور تعلق برائے تعلق کی بات نہیں۔ یہ لوگوں کی زندگیوں میں ٹھوس نتائج لانے کا معاملہ ہے۔

توہین کا ہتھیار

انہوں نے کہا کہ ایک چوتھائی انسانی آبادی جنگ زدہ علاقوں میں رہ رہی ہے۔ امن ''نازک'' ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اس کی حفاظت کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔

وولکر تُرک کا کہنا تھا کہ جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو انسانی توہین اذیت ناک حدود کو چھونے لگتی ہے اور تشدد روزمرہ کا معمول بن جاتا ہے۔

تفریق اور نسل پرستی بھی انسانی وقار اور تمام انسانی تعلقات کے لیے شدید خطرہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ طرز ہائے عمل توہین کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں، انسانی حقوق کی توہین اور خلاف ورزی کرتے ہیں، محرومیوں اور مایوسیوں میں اضافہ کرتے ہیں اور ترقی کو روکتے ہیں۔'' ان میں خواتین اور لڑکیوں، افریقی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں، یہودیوں، مسلمانوں، ایل جی بی ٹی کیو آئی + افراد، پناہ گزینوں، مہاجرین اور بہت سے دیگر اقلیتی گروہوں کے خلاف ''نفرت پر مبنی بیہودہ اظہار'' بھی شامل ہے۔

وولکر ترک کا کہنا تھا کہ نام نہاد 'انفلوئنسروں" کی جانب سے انٹرنیٹ پر خواتین اور خواتین کی برابری کی توہین نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔
Unsplash/Priscilla Du Preez
وولکر ترک کا کہنا تھا کہ نام نہاد 'انفلوئنسروں" کی جانب سے انٹرنیٹ پر خواتین اور خواتین کی برابری کی توہین نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔

آن لائن توہین میں اضافہ

ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ نام نہاد 'انفلوئنسروں" کی جانب سے انٹرنیٹ پر خواتین اور خواتین کی برابری کی توہین نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ لوگ ایسے سماجی رویوں کو پھیلانے میں مصروف ہیں جن میں صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین کو بطور جنس دیکھنے کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا اسے غلط نہیں سمجھا جاتا۔''

مزید عمومی طور پر، خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک اپنی وسعت اور حجم کے باعث دنیا بھر میں انسانی حقوق کی ایک سب سے بڑی خلاف ورزی بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی میں پیش رفت کے لیے افغانستان پر بے مثال دباؤ سے لے کر سیرالیون سے سپین تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کو ہمارے کام میں خاص اہمیت حاصل ہو گی۔

انسانی حقوق کی معاشیات

ساختیاتی ناانصافیوں، بدترین غربت اور تیزی سے بڑھتی عدم مساوات بھی انسانی حقوق کے حوالے سے شدید ناکامیوں کی ذیل میں آتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ساختیاتی ناانصافی اور عدم مساوات کے مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ایسی معیشتیں قائم کرنا ہوں گی جو حکومتوں پر اعتماد لائیں اور لوگوں کے حقوق اور بہبود کو فروغ دیں۔ انسانی حقوق کی معیشت میں معاشیات، مالیات، سرمایہ کاری اور کاروبار سے متعلق تمام قومی فیصلے انسانی حقوق کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔