حقوق کو لاحق خطرات کے دوران خواتین پر کمیشن کا اجلاس شروع
اختراع اور ٹیکنالوجی میں بڑے صنفی فرق کا خاتمہ خواتین کی صورتحال پر کمیشن (سی ایس ڈبلیو) کے 67ویں سیشن کا خاص موضوع ہے جو سوموار کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں شروع ہوا۔
آئندہ دو ہفتے تک دنیا بھر سے آنے والے شرکاء بشمول حکومتوں کے نمائندے، اقوام متحدہ، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے گروہ اور حقوق کے کارکن یہ جائزہ لیں گے کہ ڈیجیٹل دور میں صنفی مساوات، عطائے اختیار اور پائیدار ترقی کا حصول کیسے ممکن ہے۔
'سی ایس ڈبلیو 67' کے نام سے معروف اس اجلاس میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش آن لائن تشدد اور دیگر خطرات کے علاوہ اطلاعاتی دور میں معیاری تعلیم کی ضرورت کو بھی واضح کیا جائے گا۔
عدم مساوات برقرار رہنے کا خدشہ
'سی ایس ڈبلیو 67' کی سربراہ ماتھو جوئنی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ اگرچہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی معاشروں کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے لیکن اس سے نئے گہرے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں جو موجودہ صںفی عدم مساوات کو ناصرف قائم رکھ سکتے ہیں بلکہ اس میں مزید شدت بھی لا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ''صنفی بنیاد پر تفریق ایک ساختیاتی مسئلہ ہے جو ہماری سیاسی، سماجی اور معاشی زندگیوں کا حصہ ہے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی یہی صورتحال ہے۔
تاہم جب آپ اس خلقی تفریق پر اثرانداز ہونے اور اس میں شدت پیدا کرنے والے متعدد عوامل پر غور کریں تو یہ بدترین صورت میں دکھائی دیتی ہے۔''
معدوم ہوتی پیش رفت
اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سی ایس ڈبلیو کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خواتین کے حقوق یقینی بنانے کے لیے ہونے والی پیش رفت معدوم ہو رہی ہے۔ افغانستان جیسے ممالک میں بھی یہی صورتحال ہے جہاں لڑکیوں کو عوامی زندگی سے الگ کر دیا گیا ہے اور صنفی مساوات کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ''آپ نے اس سال ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں صںفی تفریق ختم کرنے پر بروقت توجہ دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ خواتین اور لڑکیاں پیچھے رہتی جا رہی ہیں۔''
ان کا مزید کہنا تھا کہ ''اس حوالے سے حساب کتاب بالکل سادہ ہے کہ دنیا کی نصف آبادی کی فراست اور تخلیقیت کے بغیر سائنس اور ٹیکنالوجی کے نصف امکانات سے ہی فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔''
تعلیم کی ضرورت
صنفی عدم مساوات بالاآخر اختیار کا معاملہ ہوتا ہے اور سیکرٹری جنرل نے تین شعبوں میں فوری اقدامات کے لیے کہا اور اس سلسلے میں خاص طور پر دنیا کے جنوبی حصے میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے تعلیم، آمدنی اور روزگار کو بڑھانے سے آغاز کرنا ہو گا۔
مزید برآں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین اور لڑکیوں کی بھرپور شرکت اور قائدانہ کردار کو بھی فروغ ملنا چاہیے۔
عمل انگیز عنصر
انتونیو گوتیرش نے اپنے تیسرے نکتے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برداری خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول تخلیق کرے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اطلاعاتی دیانت کے لیے ایک ضابطہ اخلاق کو فروغ دینے کا کام کر رہا ہے جس کا مقصد نقصان میں کمی لانا اور احتساب میں اضافہ کرنا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع میں خواتین کے مکمل کردار کو فروغ دینا ناصرف خواتین کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ اس سے ہر ایک کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ''خواتین کی صورتحال پر کمیشن ہمیں درکار تبدیلی کے لیے قوت افزا اور عمل انگیز کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئیے متحد ہو کر خواتین سے نفرت کے خلاف کے خلاف کام کریں اور خواتین، لڑکیوں اور اپنی دنیا کے لیے آگے بڑھیں۔''
خواتین کے لیے تبدیلی کے فیصلہ کن عوامل
یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باحوس بھی سی ایس ڈبلیو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرنے والے اعلیٰ سطحی عہدیداروں میں شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انقلاب خواتین اور لڑکیوں کی زندگیوں میں بے مثال بہتری کا امکان پیش کرتا ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پائیدار ترقی کی جانب پیش رفت خطرے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ''اگر ٹیکنالوجی اور اختراع سے درست کام لیا جائے تو اس سے غربت کے خاتمے کی رفتار تیز کرنے، بھوک میں کمی لانے، صحت کو بہتر بنانے، نئی نوکریاں تخلیق کرنے، موسمیاتی تبدیلی کو محدود رکھنے، انسانی بحرانوں پر قابو پانے، توانائی تک رسائی کو بہتر بنانے اور پورے شہروں اور معاشروں کو محفوظ اور مزید پائیدار بنانے میں فیصلہ کن مدد مل سکتی ہے جس سے خواتین اور لڑکیوں کو فائدہ پہنچے گا۔''
تبدیلی کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے سیما باحوس نے صنفی مساوات کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی سے کام لینے کی غرض سے ''ایک عالمی معیاری فریم ورک'' کی ضرورت کو واضح کیا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ اجلاس اس بات کو واضح کرے گا کہ ''ڈیجیٹل حقوق خواتین کے حقوق ہیں۔''
سی ایس ڈبلیو کا اجلاس 1946 سے ہر سال منعقد ہو رہا ہے تاہم کووڈ۔19 وباء کے دوران میل جول پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے باعث 2019 کے بعد پہلی مرتبہ اس میں لوگوں بالمشافہ طور پر اکٹھے ہوئے ہیں۔