انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یو این کانفرنس میں کم ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ڈیجیٹل انصاف پر زور

سوڈان میں بچیاں شمسی سے چلنے والی ٹیبلٹ استعمال کر رہی ہیں۔
© UNICEF/Florine Bos
سوڈان میں بچیاں شمسی سے چلنے والی ٹیبلٹ استعمال کر رہی ہیں۔

یو این کانفرنس میں کم ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ڈیجیٹل انصاف پر زور

پائیدار ترقی کے اہداف

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کم ترقی یافتہ ممالک پر جاری اقوام متحدہ کی کانفرنس میں سوموار کو امیر اور غریب ممالک کے مابین وسیع ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے کے عالمگیر مسئلے پر توجہ مبذول کی گئی ہے۔

اس مسئلے کی جانب تازہ ترین توجہ ایسے موقع پر دی گئی ہے جب حال ہی میں جاری کردہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم ترین ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سی) کی دو تہائی آبادی تاحال 'آف لائن' ہے۔

Tweet URL

سوموار کو کم ترین ترقی یافتہ ممالک کے بارے میں اقوام متحدہ کی پانچویں کانفرنس (ایل ڈی سی 5) میں عالمی رہنماؤں نے مل بیٹھ کر ایل ڈی سی کو درپیش دو بنیادی ترین رکاوٹوں پر بات چیت کی کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی) سے بہتر کام کیسے لیا جائے اور ایسی ساختیاتی تبدیلیوں کو کیسے فروغ دیا جائے جو پسماندہ طبقات کو درپیش حقیقی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مددگار ہوں۔

غربت کے خاتمے، پائیدار ترقی کی جانب منتقلی اور عالمی سطح پر مسابقتی کردار حاصل کرنے کے لیے ایل ڈی سی کی کوششوں میں ایس ٹی آئی کا اہم کردار ہے۔ تاہم یہ کمزور ممالک ساختیاتی رکاوٹوں کے باعث ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی ترقی کے مکمل معاشی اور سماجی فوائد سے محروم رہتے ہیں کیونکہ ایل ڈی سی اور دیگر ممالک کے مابین نمایاں عدم مساوات پائی جاتی ہے۔

ایل ڈی سی میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے حقیقت اور شروع سے چلی آ رہی نابرابریوں کا اثر واضح ہے کہ اگر آپ آن لائن نہیں ہیں تو انٹرنیٹ کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر آپ براؤزر استعمال کرنا نہیں جانتے تو پھر آن لائن ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔

کانفرنس میں آج بہت سے مقررین کا کہنا تھا کہ ایسے طریقے تلاش کرنا ضروری ہے جو ناصرف پسماندہ لوگوں کو آپس میں جوڑیں بلکہ ڈیجیٹل تقسیم کو مستحکم طور پر پاٹنے اور مزید مشمولہ ڈیجیٹل رسائی کے لیے حالات کو فروغ دینے میں معاون ہوں۔

بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل تقسیم

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) کی جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ درحقیقت ایل ڈی سی اور باقی دنیا کے مابین ڈیجیٹل تقسیم کم ہوتی نظر نہیں آتی۔ 2011 کے بعد ایل ڈی سی میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والی آبادی چار فیصد سے بڑھ کر 36 فیصد ہو گئی ہے تاہم ان ممالک کی دو تہائی آبادی تاحال آف لائن ہے۔

کم ترین ترقی یافتہ ممالک کے بارے میں آئی ٹی یو کی 'حقائق اور اعدادوشمار' سے متعلق تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2022 میں اندازاً ایل ڈی سی میں 407 ملین لوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے تھے۔ ایل ڈی سی میں 720 ملین لوگ تاحال آف لائن ہیں جو دنیا بھر میں ایسی آبادی کا 27 فیصد ہے حالانکہ دنیا کی صرف 14 فیصد آبادی ایل ڈی سی میں رہتی ہے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اقوام متحدہ کے تحت کم ترقی یافتہ ممالک کی پانچویں کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔
UN Photo/Evan Schneider
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اقوام متحدہ کے تحت کم ترقی یافتہ ممالک کی پانچویں کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔

پائیدار ڈیجیٹل تبدیلی

آئی ٹی یو کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈان۔مارٹن نے آج ایل ڈی سی 5 میں اہم بات چیت کے موقع پر کہا کہ ''ایل ڈی سی میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے ترقی محض ایک موقع ہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی لازمہ بھی ہے۔''

انہوں ںے کہا کہ ''میں سمجھتی ہوں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ربط کو بامعنی اور ڈیجیٹل تبدیلی کو پائیدار بنائیں۔''

9 مارچ تک جاری رہنے والی کانفرنس کے ذریعے آئی ٹی یو 'ڈی پی او اے' اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کی رفتار تیز کرنے میں ڈیجیٹل تعاون کی اہمیت واضح کی جائے گی۔ اس میں سرکاری و نجی شعبے کی شراکتیں خاص طور پر اہم ہیں۔ 'پارٹنر ٹو کنیکٹ ڈیجیٹل کولیشن' اس کی نمایاں مثال ہے جس کے تحت اب تک قریباً 30 بلین ڈالر دینے کے 600 سے زیادہ وعدے کیے گئے ہیں۔