انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام کے بدنام زمانہ کیمپ سے عراقیوں کی وطن واپسی ’مثالی‘ ہے

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش شام سے عراق واپس آنے والوں کے کیمپ میں لوگوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔
UNAMI/Sarmad Al-Safy
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش شام سے عراق واپس آنے والوں کے کیمپ میں لوگوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

شام کے بدنام زمانہ کیمپ سے عراقیوں کی وطن واپسی ’مثالی‘ ہے

مہاجرین اور پناہ گزین

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عراق کی جانب سے اپنے شہریوں کو شمال مغربی شام کے کیمپوں سے واپس بلانے کی ستائش کرتے ہوئے دیگر حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھی 'ذمہ داری لیں اور عملی قدم اٹھائیں'۔ ان کیمپوں میں رکھے گئے لوگوں پر داعش سے تعلق کا شبہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ شمالی عراقی میں جدہ بحالی مرکز کے دورے کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے جہاں انہوں نے شام کے بدنام الہول کیمپ سے واپس آنے والے لوگوں سے ملاقات کی۔ ان کیمپوں میں زیادہ تر خواتین اور 12 سال سے کم عمر کے بچوں کو رکھا گیا ہے۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ''عراق بے پایاں عزم کے ساتھ یہ ثابت کر رہا ہے کہ احتساب اور ازسرنو یکجائی کے اصولوں پر مبنی باوقار طریقوں سے کام لے کر لوگوں کو ذمہ دارانہ انداز میں واپس لایا جانا ممکن ہے۔ یہ طریقہ قابل عمل ہے اور میں نے آج اس کا خود مشاہدہ کیا ہے۔''

کڑے حالات، ممکنہ خدشات

انتونیو گوتیرش ماضی میں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی حیثیت سے دنیا بھر میں ایسے کیمپوں کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ یقینی طور پر الہول ''آج کی دنیا میں موجود بدترین کیمپ ہے'' جہاں لوگ ممکنہ ترین برے حالات میں سالہا سال سے پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ اس کیمپ میں قیدیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ وہ کمزور اور پسماندہ ہیں اور ایسی مایوس کن صورتحال سے دوچار ہیں جس کا خاتمہ دکھائی نہیں دیتا۔ 

انہوں نے کہا کہ ''یہ لوگ واپسی کے حق دار ہیں۔ یہ انسانی شائستگی اور ہمدردی کا معاملہ ہے اور یہ سلامتی کا معاملہ ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس ناقابل دفاع صورت حال کو مزید جتنی دیر خراب ہونے دیں گے جواب میں اتنی ہی آزردگی اور مایوسی بڑھے گی اور سلامتی و استحکام کو اتنے ہی زیادہ خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ ہمیں ماضی کی جنگ کی میراث کو مستقبل میں جنگ کی آگ بھڑکانے سے روکنا ہو گا۔''

پیچیدہ مسئلہ

سیکرٹری جنرل نے عراقی حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں ''دنیا کے لیے مثال'' قرار دیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ لوگوں کی واپسی ایک انتہائی پیچیدہ، مشکل اور حساس معاملہ ہے۔

انہوں نے دیگر ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ الہول کیمپ اور دیگر جگہوں پر رکھے گئے اپنے لوگوں کی محفوظ اور باوقار واپسی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں نمایاں طور سے اضافہ کریں۔

انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ ''دوسرے ممالک عراق کی مثال کو مدنظر رکھیں۔ جن ممالک کے شہری الہول کیمپ میں موجود ہیں انہیں بھی وہی کچھ کرنا چاہیے جو عراق نے کیا اور انہیں قابل اطلاق قانون کی مطابقت سے اپنے لوگوں کو عراق کی طرح باوقار انداز میں واپس لانا ہو گا۔ بچوں کی واپسی کے اقدامات ایسے اصولوں کی روشنی میں اٹھائے جائیں جو ان کے بہترین مفاد میں ہوں۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش شمالی عراق میں واقع ’جدہ کیمپ‘ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔
UNAMI/Sarmad Al-Safy

ازسرنو یکجائی کے لیے تعاون

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ انہوں نے واپس آنے والے جن لوگوں سے بحالی مراکز میں ملاقات کی ہے وہ دوبارہ اپنے علاقوں اور معاشروں کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

انہوں ںے عراق کے حکام پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں ان لوگوں کی دوبارہ یکجائی کی کوششیں تیز کریں جن میں بیشتر کی عمر 18 سال سے کم ہے۔ 

سیکرٹری جنرل نے ''اس اہم کوشش'' کے لیے اقوام متحدہ کے بھرپور عزم اور تعاون کو بھی واضح کیا۔