انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایڈز میں مبتلا افراد کے خلاف امتیازی قوانین کی تنسیخ زندگیاں بچاتی ہے

بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں نوجوان ہیلتھ سینٹر کے باہر بیٹھے ہیں جو ایڈز کی تشخیص کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
© WHO/Blink Media/Nikolay Doych
بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں نوجوان ہیلتھ سینٹر کے باہر بیٹھے ہیں جو ایڈز کی تشخیص کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

ایڈز میں مبتلا افراد کے خلاف امتیازی قوانین کی تنسیخ زندگیاں بچاتی ہے

صحت

یو این ایڈز کی سربراہ نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی/ایڈز میں مبتلا لوگوں کے خلاف امتیازی قوانین کی منسوخی سے زندگیوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اور اس وبا خاتمے کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

ایچ آئی وی/ایڈز کا شکار افراد کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے عالمی دن پر یو این ایڈز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی بیانیاما کا کہنا ہے کہ ''تاحال لوگوں کے ایڈز سے ہلاک ہونے کی واحد وجہ سماجی نابرابریاں ہیں جو اکٹھی ہو کر انہیں مزید خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔

Tweet URL

ایچ آئی وی/ایڈز میں مبتلا افراد کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کا عالمی دن یکم مارچ کو منایا جاتا ہے اور اس کامقصد یہ واضح کرنا ہے کہ لوگوں کو اس بیماری کے خلاف کیسے آگاہی دی جا سکتی ہے اور اس کے خلاف اقدامات میں شمولیت، دردمندی، امن اور تبدیلی کی تحریک کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے۔

قانونی رکاوٹوں کی تنسیخ

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر خطے میں اس حوالے سے کی جانے والی حالیہ اصلاحات اور کامیابیوں کے باوجود دنیا 2021 میں طے کیے جانے والے ہدف کے حصول کے لیے درست راہ پر گامزن نہیں ہے۔ اس ہدف کے مطابق 2030 تک یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ایچ آئی وی سے متعلق خدمات تک رسائی میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے قوانین اور پالیسیوں کے حامل ممالک کی تعداد 10 فیصد سے کم ہو۔

ایڈز کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے نے بتایا ہے کہ 2021 میں دنیا کے 134 ممالک میں ایچ آئی وی کاشکار ہونا، اس بیماری کو خفیہ رکھنا یا اس کی منتقلی جرم تھی۔ 153 ممالک میں پیشہ وارانہ جنسی عمل کا کم از کم ایک پہلو غیرقانونی تھا۔ باہمی رضامندی سے ہم جنسی پرستانہ سرگرمیاں 67 ممالک میں غیرقانونی تھیں اور 20 ممالک ایسے ہیں جہاں ٹرانس جیںڈر ہونا جرم ہے اور/یا ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں تاحال 48 ممالک نے ایچ آئی وی کا شکار افراد کے اپنے ہاں داخلے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ 53 ممالک میں شادی کے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے سے لے کر مخصوص پیشوں میں کام کرنے تک متعدد سرگرمیوں کے لیے ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کرانا لازمی ہے۔ 106 ممالک میں بالغوں کو ایچ آئی وی ٹیسٹ تک رسائی کے لیے والدین کی رضامندی کی ضرورت پڑتی ہے۔

ونی بیانیاما کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین اور پابندیاں انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی اور اس پسماندہ آبادی کے لیے بدنامی اور امتیازی سلوک کا باعث ہیں جو پہلے ہی پسماندہ ہے۔

سماجی عدم انصاف کا خاتمہ

انہوں نے کہا کہ ''ملکی سطح پر ایسے قوانین کی منسوخ بہت ضروری ہے جو لوگوں کو ایچ آئی وی کی روک تھام اور علاج سے دور رکھنے کا باعث بنتے ہیں۔''

48 ممالک نے ایچ آئی وی کا شکار افراد کے اپنے ہاں داخلے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذیلی صحارا افریقہ میں ہونے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے ممالک میں ہم جنس پرست مردوں میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ دوسروں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے جنہوں نے ہم جنس پرستانہ سرگرمی کو جرم قرار دے رکھا ہے۔ مزید برآں ایسے ممالک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی شرح 12 گنا زیادہ ہے جہاں اس مرض میں مبتلا افراد کے خلاف حال ہی میں قانونی کارروائی کی گئی ہے۔

اسی طرح پیشہ وارانہ بنیاد پر جنسی عمل کو جرم قرار دینے سے اس پیشے سے وابستہ افراد کو ایچ آئی وی لاحق ہونے اور گاہکوں، پولیس اور دیگر تیسرے فریقین کی جانب سے تشدد کا نشانہ بننے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں منشیات کا استعمال اور ذاتی استعمال کے لیے اسے اپنے پاس رکھنا جرم نہ ہو تو منشیات لینے والے افراد میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی آتی ہے۔ اس سے متعلقہ کوششوں میں نقصان میں کمی لانے میں معاون خدمات تک بہتر رسائی بھی شامل ہے۔

ونی بیانیاما نے کہا کہ ''اسی لیے اگر ہمیں 2030 تک ایڈز کا صحت عامہ کے لیے خطرے کی حیثیت سے خاتمہ کرنا ہے تو قانونی اصلاحات لانا ضروری ہیں۔''