انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انٹرنیٹ پر جھوٹ کے سدباب کے لیے پیرس میں کانفرنس

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے آذولے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں۔
© UNESCO/Christelle ALIX یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے آذولے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں۔

انٹرنیٹ پر جھوٹ کے سدباب کے لیے پیرس میں کانفرنس

ثقافت اور تعلیم

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو باضابطہ بنانے کے لیے عالمگیر رہنمائی پر بات چیت کے لیے پہلی کانفرنس جمعرات کو پیرس میں ختم ہوئی جس میں انٹرنیٹ پر بڑھتی ہوئی گمراہ کن اطلاعات کی موجودگی میں معلومات کی تلاش اور ان کے حصول کا حق برقرار رکھنے کے لیےکہا گیا۔

'قابل بھروسہ انٹرنیٹ' کانفرنس کا انعقاد اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے کیا تھا جس میں 4,300 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ یونیسکو اس کانفرنس میں زیربحث آنے والی رہنما ہدایات ستمبر میں جاری کرے گا۔

Tweet URL

یہ سہ روزہ کانفرنس اطلاعات پر اعتماد کو بہتر بنانے اور آن لائن انسانی حقوق کے فروغ کی غرض سے سوشل میڈیا کے لیے انضباطی طریقہ ہائے کار ترتیب دینے کے لیے ہونے والی بین الاقوامی بات چیت کا تازہ ترین دور تھا۔

دروغ گوئی کے لیے سازگار حالات

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے آذولے نے کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''سچ اور جھوٹ میں فرق کو دھندلا کرنے، سائنسی حقائق سے انتہائی منظم انداز میں انکار، گمراہ کن اطلاعات اور سازشی کہانیوں کے پھیلاؤ کا آغاز سوشل نیٹ ورکس پر نہیں ہوتا۔ لیکن ضوابط کی عدم موجودگی میں یہ چیزیں وہاں سچائی کی نسبت کہیں زیادہ موثر طور سے فروغ پاتی ہیں۔''

انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں متحد ہو کر کام کریں تاکہ اطلاعات سے مشترکہ عالمی بھلائی کا کام لیا جاتا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''ٹیکنالوجی میں آنے والے اس انقلاب سے پوری طرح کام لے کر ہی ہم یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ اس سے انسانی حقوق، آزادی اظہار اور جمہوریت کو نقصان نہ پہنچے۔''

حقائق نہیں تو سچائی نہیں

برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا اور 2021 میں نوبیل امن انعام کی فاتح اور فلپائن کی صحافی ماریا ریسا جیسے مقررین نے اس کانفرنس کے شرکا سے خطاب کیا۔

ریسا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ''جھوٹ سچ کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار سے پھیلتے ہیں۔ بعض وجوہات کی بنا پر سچائی بیزارکن ہوتی ہے۔ جھوٹ، خاص طور پر جب ان کے ساتھ خوف، غصہ، نفرت، قبائلیت اور دوسروں کی مخالفت جڑی ہو تو وہ باآسانی پھیلتے ہیں۔ یہ خشک لکڑیوں کے ڈھیر پر جلتی ہوئی تیلی پھینکنے جیسا ہے۔''

انہوں نے سوشل میڈیا کے الگورتھم کے خلاف خبردار کیا جو جھوٹ کو چھوٹ دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کو وراثت میں ایسی دنیا ملے گی جس میں سچ کی قدر خطرناک حد تک کم ہو چکی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ''حقائق کے بغیر آپ سچ کو نہیں پا سکتے اور سچ کے بغیر آپ کے پاس اعتماد نہیں ہوتا اور ہمارے پاس کوئی مشترکہ حقیقت نہیں ہے۔''

گمراہ کن اطلاعات کا ہتھیار

''لولا'' کے نام سے معروف برازیل کے صدر نے کانفرنس کے لیے اپنے پیغام میں گزشتہ مہینے اپنے ملک کے جمہوری اداروں کے خلاف پرتشدد حملوں کا تذکرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ''اس دن جو کچھ ہوا وہ ایک ایسی مہم کا نقطہ عروج تھا جو بہت پہلے شروع کی گئی تھی اور جس میں جھوٹ اور گمراہ کن اطلاعات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

بڑی حد تک ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور پیغام رساں ایپلی کیشنز کے ذریعے اس مہم کو پروان چڑھایا، منظم کیا اور پھیلایا گیا۔ دنیا میں ہر جگہ پُرتشدد اقدامات کے لیے یہی طریقہ استعمال ہوتا ہے اور اسے بند ہونا چاہیے۔''

عالمگیر اقدامات کی ضرورت

یونیسکو کے مطابق اس وقت کم از کم 55 ممالک انضباطی اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم آڈرے آولے کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انسانی حقوق پر مبنی ایک مربوط عالمگیر طریقہ کار کی ضرورت ہے اور اگر سبھی ممالک اپنے علیحدہ قواعد و ضوابط بنائیں گے تو وہ ناکام رہیں گے۔