’جاسوس غباروں‘ کے تنازعے کے دوران موسمیاتی غباروں کی اہمیت پر بات
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ موسم کا حال جاننے کے لیے چھوڑے جانے والے غباروں کا وسیع اور پیچیدہ موسمی مشاہداتی نظام میں اہم کردار ہے جو موسم نگرانی اور اس کے بارے میں پیش گوئی کرنے والوں کو اہم معلومات مہیا کرتے ہیں۔
کینیڈا اور امریکہ کی جانب سے اپنی سرحدوں میں مبینہ چینی 'جاسوس غبارے' سمیت فضا میں اڑتی متعدد چیزوں کو مار گرائے جانے کی حالیہ خبریں سامنے آنے کے بعد ڈبلیو ایم او نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں مشاہدات کی بنیاد پر جمع ہونے والی معلومات میں موسمی غباروں کا معمولی سا حصہ ہے۔
جمعرات کو امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی فوج کی جانب سے مار گرائے جانے والے تین بغیرپائلٹ فضائی اجسام کے بارے میں طرح طرح کے اندازے سامنے آنے کے بعد بتایا کہ ''ممکنہ طور پر یہ اجسام نجی کمپنیوں، تفریحی یا تحقیقی اداروں کی جانب سے فضا میں بھیجے گئے تھے۔''
عالمگیر نظام کے لیے اہم کردار
ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ 50 سے زیادہ مصنوعی سیارچے خلا سے معلومات جمع کرتے ہیں اور 40 تجارتی فضائی کمپنیوں کے قریباً 400 جہاز فضائی ماحول کے بارے میں اطلاعات مہیا کرتے ہیں۔
پورے کرہ ارض پر پھیلے 10,000 خودکار اور زمین پر کام کرنے والے مشاہداتی مراکز کے علاوہ سمت بتانے والے کشتیوں سے بندھے تقریباً 400 اجسام، 1,250 تیرتے اجسام اور 7,300 بحری جہاز بھی اس نظام کا حصہ ہیں۔
روزانہ 1,000 پروازیں
ہر روز دنیا بھر میں قریباً 900 مقامات پر لیٹیکس سے بنے آزاد غبارے چھوڑے جاتے ہیں۔ تقریباً 1,000 غبارے روزانہ موسمی حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں جس کے ذریعے زمین اور فضا کے موجودہ حالات سے آگاہی ملتی ہے۔
اس طرح جمع کی جانے والی قیمتی اطلاعات سے کمپیوٹر پر موسمی پیش گوئی کے نمونے تیار کرنے، ماہرین موسمیات کو آئندہ موسم کا حال بتانے اور طوفانوں کی پیش گوئی کرنے، موسمیاتی نگرانی اور موسم و موسمیاتی عمل کو بہتر طور سے سمجھنے کے لیے تحقیقی مقاصد کے لیے معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
ڈبلیو ایم او نے کہا کہ دنیا بھر میں موسم کے بارے میں پیش گوئی کرنے والے ماہرین کمپیوٹر کے ذریعے پیش گوئی کے ایسے نمونوں سے کام لیتے ہیں جن میں موسمی غباروں کی فراہم کردہ معلومات شامل ہوتی ہیں۔
بیٹری سے چلنے والے ریڈیوسونڈ آلات پر مشتمل یہ اجسام تقریباً دو گھنٹے تک فضا میں اڑ سکتے ہیں۔
35 کلومیٹر بلند
یہ اجسام فضا میں 35 کلومیٹر کی بلندی پر اڑتے اور منفی 95 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 139 ڈگری فارن ہائیٹ) درجہ حرارت کا سامنا کرتے ہوئے ہوا کا دباؤ، رفتار، درجہ حرارت اور نمی ماپتے ہیں اور پھر پھٹ کر ایک پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر گر جاتے ہیں۔
یہ اجسام دہائیوں سے عالمی مشاہداتی نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ اور فضا سے زمینی ماحول کے بارے میں معلومات کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ دو تہائی سے زیادہ موسمیاتی غبارے دن میں دو مرتبہ مشاہدہ کرتے ہیں اور روزانہ 100 اور 200 مرتبہ رپورٹ دیتے ہیں۔
ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ ان کی فراہم کردہ قیمتی معلومات کے ذریعے عالمگیر مشاہداتی نظام کو مدد ملتی ہے جو پچھلے 60 سال سے بین الاقوامی تعاون کی انتہائی پرعزم اور کامیاب مثالوں میں سے ایک ہے۔
یہ نظام زمین اور فضا میں کام کرنے والے کئی طرح کے انفرادی مشاہداتی نظام پر مشتمل ہے جو بہت سے قومی و بین الاقوامی اداروں کی ملکیت ہیں اور انہی کے زیراہتمام چلائے جاتے ہیں۔