سربراہ عالمی بنک نے قبل از وقت سبکدوشی کا اعلان کر دیا
عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ میلپاس نے بدھ کو عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ادارہ 2023 میں اپنے نئے صدر کا منتظر ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے سابق اعلیٰ سطحی عہدیدار ڈیوڈ میلپاس کو امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا اور وہ 2019 سے عالمی بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم لنکڈ ان پر ایک پوسٹ میں انہوں نے جون تک عہدے سے سبکدوش ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جب ان کے عہدے کی مدت ختم ہونے میں ابھی ایک سال باقی ہو گا۔
ڈیوڈ میلپاس اس سے پہلے سرمایہ کاری بینک بیئر سٹرنز کے چیف اکانومسٹ تھے جو اب غیرفعال ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ''عالمی بینک کے سربراہ کی حیثیت سے میری مدت کے دوران ہم نے جو کچھ حاصل کیا اس پر مجھے فخر ہے۔''
انہوں نے کہا کہ ''ہم نے غربت میں کمی لانے، معاشی ترقی کو بڑھانے، حکومتوں پر قرضوں کے بوجھ کم کرنے اور تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور نوکریوں، صنفی مساوات اور صافی پانی و بجلی تک رسائی سمیت ہر طرح کی انسانی ترقی کے حوالے سے معیاراتِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے باہم مل کر کڑی محنت کی۔''
ریکارڈ مالیات
ان کی قیادت میں عالمی بینک کے گروپ نے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے مالی وسائل کی مقدار کو دگنا کیا جو 2022 میں 32 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچی۔ ڈیوڈ میلپاس کی قیادت میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور تجارت کو فعال کرنے اور اسے بڑھانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ ان کی مدت کے دوران عالمی بینک نے شمولیتی اور پائیدار ترقی میں اپنا تعاون بڑھانے، وبا سے نمٹنے کا فنڈ قائم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عملی منصوبہ شروع کرنے کا کام بھی کیا۔
ڈیوڈ میلپاس نے دیگر کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کووڈ۔19 وبا کے خلاف اقدامات کے لیے 150 بلین ڈالر اور یوکرین پر روس کے حملے اور اس کے ضمنی اثرات سے نمٹنے کے لیے 170 بلین ڈالر خرچ کرنے کا تذکرہ کیا۔
انہوں نے لنکڈ ان پر لکھا کہ ''اس مالی سال کے اختتام تک ہم عالمی بینک گروپ کے مشن میں استحکام کو مزید واضح جگہ دینے، مشن کو وسائل کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور ترقی پذیر ممالک میں ادارے کے اثرات کو بڑھانے کے لیے ایک موثر ارتقائی عمل شروع کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔
میں معیشتوں، کاروبار، ترقی اور عالمی مالیات کو درپیش بہت سے مسائل پر کام کرنے کا بے تابی سے منتظر ہوں۔ میں لوگوں کی زندگیوں اور معیارات زندگی کو بہتر بنانے کا منتظر رہوں گا جیسا کہ میں نے سرکاری شعبے میں اپنے پورے کیریئر کے دوران کیا ہے۔ یہ عالمی بینک کے لیے اپنی راہ متعین کرنے کے لیےایک اہم اور تعمیری موقع ہے۔''
عالمی بینک کا قیام 1944 میں عمل میں آیا تھا۔ یہ ادارہ ترقی پذیر ممالک کو تعلیم، صحت، سرکاری انتظام، بنیادی ڈھانچے، مالیاتی اور نجی شعبے کی ترقی، زراعت اور ماحولی و قدرتی ذرائع کے انتظام جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری میں مدد دینے کے لیے کم شرح سود پر قرضے اور مالی وسائل مہیا کرتا ہے۔