ترکیہ میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی اپیل
اقوام متحدہ نے ترکیہ کے لیے ایک ارب ڈالر امداد کی اپیل کی ہے تاکہ گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن زلزلے سے سے متاثرہ پانچ ملین سے زیادہ لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ یہ ایک صدی کے عرصہ میں اس ملک میں آنے والا سب سے بڑا زلزلہ ہے۔
تین ماہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار ان مالی وسائل سے امدادی اداروں کو متاثرہ علاقوں میں حکومت کے زیرقیادت امدادی اقدامات کو تیزی سے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ان اقدامات میں متاثرین کے لیے خوراک، سلامتی، تحفظ، تعلیم، پانی اور پناہ کی فراہمی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور امدادی کوششوں کے لیے بھرپور مالی وسائل مہیا کرے۔
انہوں نے کہا کہ ''ترکیہ دنیا میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد کا میزبان ہے اور اس نے سالہا سال سے اپنے شامی ہمسایوں کے لیے بے پایاں فیاضی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اب دنیا کے لیے ترکیہ کے لوگوں کی اسی طرح مدد کرنے کا وقت ہے جس طرح وہ مدد کے متلاشی دیگر لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔''
دہشت اور تباہی
امدادی امور اور ہنگامی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس نے بھی ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس اپیل پر تعاون کریں۔
گزشتہ ہفتے ترکیہ کا دورہ کرنے والے مارٹن گرفتھس کا کہنا ہے کہ ''ترکیہ کے لوگوں کو ناقابل بیان اذیت پہنچی ہے۔
میں وہاں خاندانوں سے ملا ہوں جنہوں ںے دہشت اور تباہی کی داستانیں سنائیں۔ ہمیں ان کے تاریک ترین وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور انہیں درکار مدد کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔''
تاریخی آفت
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار 6 فروری کو آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد ترکیہ اور اس کے ہمسایہ ملک شام کی مدد کے لیے تیزتر کوششیں کر رہے ہیں۔
صرف ترکیہ میں ہی نو ملین سے زیادہ لوگ اس تاریخی آفت سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں جس میں حکومت کے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 35,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ زلزلے سردیوں کے عروج پر آئے ہیں جن کے نتیجے میں چھوٹے بچوں اور معمر افراد سمیت ہزاروں لوگ شدید ترین سردی میں پناہ، خوراک، پانی، حرارتی انتظام اور طبی نگہداشت تک رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔
زلزلوں سے تقریباً 47 ہزار عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سکول، ہسپتال اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔
ملک بھر میں ہزاروں افراد نے عارضی ٹھکانوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ بہت سے خاندان کے ارکان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں اور ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ہیں یا اپنے والدین کے ساتھ یکجا ہونے سے قاصر ہیں۔
پناہ گزینوں کا نقصان
جیسا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا، ترکیہ دنیا میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد کا میزبان ہے۔
اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے امور سے متعلق ادارے 'یو این ایچ سی آر' کے مطابق شام سے تعلق رکھنے والے قریباً 3.6 ملین لوگوں نے ترکیہ میں پناہ لے رکھی ہے جبکہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 320,000 افراد بھی وہاں پناہ گزینوں کی حیثیت سے مقیم ہیں۔
1.74 ملین سے زیادہ پناہ گزین زلزلوں سے متاثرہ 11 صوبوں میں رہتے ہیں۔
وسیع تر امداد
اقوام متحدہ پانچ صوبوں آدیامان، غازی اینتیپ، ہاتائے، کارا منمارس اور مالاطیہ میں متاثرین کی تلاش اور انہیں بچانے کا کام کرنے والے ہزاروں افراد کی کارروائیوں کو مربوط کر رہا ہے اور امدادی اداروں نے حکومت کے زیراہتمام امدادی اقدامات میں تعاون کے لیے زلزلے سے بری طرح متاثر ہونے والے علاقوں میں کام شروع کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ضرورت مند لوگوں کو گرم کھانا، خوراک، خیمے، سردیوں کے لیے گرم کپڑے، کمبل، گدے اور کچن کا سامان مہیا کر رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں طبی سازوسامان اور عملہ بھی بھیج رہے ہیں۔
اس کے علاوہ متاثرین کو نفسیاتی مدد بھی فراہم کی گئی ہے جبکہ بچوں کے لیے سازگار اور خواتین کے لیے محفوظ جگہیں بھی بنائی جا رہی ہیں۔