انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بنگلہ دیش جذام پر غیر معتصبانہ قانون سازی کرے، انسانی حقوق ماہرین

جذام کے مریضوں کو اکثر تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے (فائل فوٹو)۔
© PAHO
جذام کے مریضوں کو اکثر تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے (فائل فوٹو)۔

بنگلہ دیش جذام پر غیر معتصبانہ قانون سازی کرے، انسانی حقوق ماہرین

صحت

انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک غیرجانبدار ماہر نے بنگلہ دیش سے کہا ہے کہ وہ جذام سے متاثرہ افراد کو بہتر طور سے تحفظ دینے کے لیے قوانین بنائے۔

جذام سے متاثرہ افراد کے خلاف امتیازی سلوک کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار ایلس کروز نے نے بنگلہ دیش کے آٹھ روزہ دورے کے بعد کہا ہے کہ ''جذام سماج سے مریضوں کے اخراج، ساختیاتی تفریق اور ادارہ جاتی لاپروائی کی متعدد تہوں تلے پوشیدہ ہے۔''

Tweet URL

اس وقت 120 ممالک کے لوگ جذام سے متاثر ہیں جسے ہینسن بیماری بھی کہا جاتا ہے اور ہر سال اس کے دو لاکھ سے زیادہ نئے مریض سامنے آتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش دنیا میں جذام کے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے پانچویں درجے پر ہے۔ بنگلہ دیش سے حاصل ہونے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں یہ بیماری پھیل رہی ہے، اس کی تشخیص تاخیر سے ہوتی ہے اور اس کا علاج کرنے کے لیے صحت کے نظام میں خامیاں پائی جاتی ہیں۔

خصوصی اطلاع کار نے بتایا کہ ''ترقی کے حق سے متعلق بنیادی اصولوں جیسا کہ مساوات، خود اختیاری، شراکت اور انصاف کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔

جذام سے متاثرہ افراد اور ان کے خاندان اب بھی معاشی ترقی کے ثمرات سے محروم ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر بھی جائز طور سے قابو نہیں پایا جا رہا۔''

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جذام سے متاثرہ افراد کی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں غیرمعمولی معاشی ترقی کے فوائد تمام آبادی تک نہیں پہنچ رہے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے انہوں نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ عدم امتیاز سے متعلق ایسے قوانین بنائیں جن میں جذام کو امتیاز یا تفریق کی ممنوعہ قسم تسلیم کیا جائے۔

'جذام کے پوشیدہ مریض'

انہوں ںے جذام سے متاثرہ افرد، سرکاری حکام، سول سوسائٹی کے ارکان اور طبی کارکنوں کے علاوہ نیلفاماری اور بوگرا میں مقامی لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد جذام کے مریضوں کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں جذام کے پوشیدہ مریضوں کی ممکنہ طور پر بڑی تعداد کی جانب توجہ دلائی۔ اس کے علاوہ علاج تک محدود رسائی، بیماری کی تشخیص میں خطرناک حد تک تاخیر اور معذوری سے متعلقہ فوائد اور سماجی تحفظ کے دیگر منصوبوں تک رسائی کے معاملے میں بدعنوانی کی اطلاعات بھی اتنی ہی تشویشناک ہیں۔

نظرانداز کردہ استوائی بیماری سے متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے انسانی حقوق کے بین الاقوامی نظام کے ساتھ متحرک طور پر کام کرنے کے حوالے سے حکومت کے عزم کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کے پاس جذام سے متعلق معلومات میں واضح کمی اور اس بیماری کے بارے میں محدود سمجھ بوجھ، بچوں میں اس بیماری کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی معذوری اور اس بیماری سے وابستہ بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک اور بدنامی کی جانب بھی توجہ دلائی۔

ایلس کروز نے کہا کہ ''اگرچہ میں نے 2030 تک جذام کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کے عزم کو سراہا تاہم مجھے خدشہ ہے کہ ملکی انتظامیہ اس وعدے کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ حکومتی وعدوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے واضح اہداف، اشاریوں اور معیارات کے ساتھ مناسب مقدار میں مالی وسائل مختص کرنا ضروری ہے۔''

خصوصی اطلاع کار اپنی رپورٹ جون میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کریں گی۔

خصوصی اطلاع کار کونسل کے خصوصی طریقہ ہائے کار کا حصہ اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام میں غیرجانبدار ماہرین کا سب سے بڑا ادارہ ہیں۔ ان کا کام غیرجانبدارانہ طور پر حقائق سے آگاہی حاصل کرنا اور دنیا کے ہر حصے میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنا ہے۔