انسانی کہانیاں عالمی تناظر

زلزلہ تباہی: سہمے بچے گھروں کی بجائے کھلے آسمان تلے سونا چاہتے ہیں

الیپو کی بغداد سٹریٹ زلزلے سے آنے والی تباہی کا ایک منظر پیش کر رہی ہے۔
© UNHCR/Hameed Maarouf
الیپو کی بغداد سٹریٹ زلزلے سے آنے والی تباہی کا ایک منظر پیش کر رہی ہے۔

زلزلہ تباہی: سہمے بچے گھروں کی بجائے کھلے آسمان تلے سونا چاہتے ہیں

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے امدادی قافلے ترکیہ سے مزید دو سرحدی راستوں کے ذریعے زلزلہ زدہ شمال مغربی شام میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ کئی ہزار بچے ممکنہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگوں کو مدد کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا ہے کہ ''مصدقہ تعداد معلوم نہ ہونے کے باوجود المناک طور سے زلزلے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد واضح ہے اور والدین سے محروم ہو جانے والے بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔''

Tweet URL

موجودہ ہنگامی حالات سے پہلے ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ 10 صوبوں میں رہنے والے بچوں کی مجموعی تعداد 4.6 ملین اور شام میں 2.5 ملین تھی۔

بڑھتے ہوئے طبی خطرات

تباہ کن زلزلہ آنے سے آٹھ روز کے بعد اب امدادی کاموں کا رخ بچاؤ سے بحالی کی جانب منتقل ہو رہا ہے اور ایسے میں جیمز ایلڈر نے خبردار کیا کہ بچوں میں جسمانی درجہ حرارت گر رہا ہے اور سانس کی تکالیف بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے ہنگامی حالات میں تمام متاثرین کے ساتھ یکجہتی جاری رکھنے کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہر جگہ ہر ایک کو مزید مدد، مزید صاف پانی، مزید حرارت، مزید پناہ، مزید ایندھن، مزید ادویات ار مزید مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ بچوں والے خاندان سڑکوں پر، بازاروں، مساجد اور سکولوں میں اور پلوں کے نیچے سونے پر مجبور ہیں۔ وہ اپنے گھروں کو واپس جانے سے خوفزدہ ہیں اور کھلی جگہوں پر رہ رہے ہیں۔''

سرحد پار رسائی کے مسائل

سرحد پار امداد کی فراہمی کے لیے شام کے صدر کی جانب سے ملک کے شمال مغربی علاقے اور ترکیہ کی درمیانی سرحد پر باب السلام اور الراعی کے مقامات پر ابتداً تین ماہ کے لیے دو راستے کھولے جانے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ متفق ہونے کی خوش آئند اطلاعات کے باوجود امداد کاروں نے 12 سالہ خانہ جنگی کے تمام فریقین کی جانب سے ان راستوں پر محفوظ امدادی نقل وحرکت کی ضمانت لینے پر زور دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ترجمان کرسچین لنڈمیر نے کہا ہے کہ ''ہر فریق کو امدادی قافلوں کو بلاروک ٹوک گزرنے کی اجازت دینے پر رضامند ہونا ہو گا اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔''

ہر جگہ مدد کی ضرورت

دمشق سے اس پیغام کو دہراتے ہوئے شام میں عالمی ادارہ برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے ڈائریکٹر کین کراسلے نے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ لوگوں تک امداد پہنچانے کی ضرورت ہے ''خواہ ان کا تعلق کہیں سے بھی ہو اور ہم جہاں کہیں بھی ان تک پہنچ سکیں۔''

ہنگامی حالات سے براہ راست متاثر ہونے والوں کو مدد پہنچانے کی قابل ذکر کوششوں کو واضح کرتے ہوئے ڈبلیو ایف پی کے عہدیدار نے بتایا کہ یہ آفت آنے سے فوری بعد پہلے سے ذخیرہ شدہ امداد سے کام لیتے ہوئے پناہ گاہوں میں گرم کھانا اور تیار شدہ خوراک پہنچائی گئی۔

انہوں ںے کہا کہ ''شمال مغربی شام میں اندازاً   90,000افراد مخصوص غذائی مدد وصول کر رہے ہیں جس کا براہ راست تعلق زلزلے کے اثرات سے ہے۔ شام میں جاری تنازعے سے متاثرہ اس سے دو گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو باقاعدگی سے امداد مہیا کی جا رہی ہے۔ 

سب کے لیے امداد

کین کراسلے نے مزید بتایا کہ ڈبلیو ایف پی نے شام میں حکومت کے زیرانتظام حلب، حما اور لاطاکیہ میں زلزلے متاثرہ 60 سے 70 ہزار افراد کو بھی غذائی مدد فراہم کی ہے جو کہ اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے ''اپنے باقاعدہ پروگراموں کے ذریعے بدقسمتی سے انہی علاقوں میں مہیا کی جانے والی مدد'' کے علاوہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) کا بھی امدادی کوششوں میں اہم کردار ہے جس نے بتایا ہے کہ امدادی سامان سے بھرے 11 ٹرک منگل کو ترکیہ سے باب السلام کے سرحدی راستے کے ذریعے شمال مغربی شام میں بھیجے جا چکے ہیں۔ یہ دوبارہ کھولے جانے والے سرحدی راستوں میں سے ایک ہے جبکہ ترکیہ میں غازی انتیپ کے امدادی مرکز سے مزید چار ٹرک باب الہوا کی سرحدی گزر گاہ کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔

الیپو کا علاقہ الخلاصہ چھ فروری کو آنے والے زلزلے سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
© UNHCR/Hameed Maarouf

امدادی قافلوں کی روانگی

اقوام متحدہ میں امدادی امور کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) کے مطابق یہ نئے امدادی قافلے اقوام متحدہ کے چھ اداروں کی جانب سے بھیجے جانے والے 58 امدادی ٹرکوں کے علاوہ ہیں جو 13 فروری کو ترکیہ سے شمال مغربی شام میں پہنچے تھے۔

یورپ کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینز کلوگے نے ترکیہ کی صورتحال پر ادارے کی تازہ ترین رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں 31,000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ 10 جنوبی صوبوں میں زخمیوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

ڈاکٹر کلوگے نے صحافیوں کو بتایا کہ شمال مغربی شام میں تقریباً 5,000 افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم ممکنہ طور پر یہ تعداد اس سے بڑھ جائے گی۔

ضروریات میں متواتر اضافہ

ڈبلیو ایچ او کے عہدیدار نے کہا کہ ''ضروریات بہت زیادہ ہیں جن میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک میں تقریباً 26 ملین لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔''

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت نے سرد موسم، صحت و صفائی اور نکاسی آب اور متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ سے منسلک بڑھتے ہوئے طبی مسائل کی روک تھام کی کوششوں میں تعاون کیا ہے۔

ڈاکٹر کلوگے نے بتایا کہ ترکیہ میں اندازاً دس لاکھ لوگوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں اور وہ عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ انہوں نے ترکیہ کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تقریباً 80,000 افراد ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں جس سے طبی نظام پر بہت بڑا بوجھ آ گیا ہے جسے اس تباہی میں پہلے ہی بری طرح نقصان پہنچا ہے۔